Sunan Ibne-Majah 2331

فیصلوں کا بیان

2331Sunan Ibne-Majah

دو مرد کسی سامان کا دعوی کریں اور کسی کے پاس ثبوت نہ ہو۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا ضَاعَ لِلرَّجُلِ مَتَاعٌ أَوْ سُرِقَ لَهُ مَتَاعٌ فَوَجَدَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ يَبِيعُهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَيَرْجِعُ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی کا کوئی سامان کھو جائے یا چوری ہوجائے، پھر وہ کسی آدمی کو اسے بیچتے ہوئے پائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، اور جس نے خریدا وہ اس کے بیچنے والے سے قیمت واپس لے لے ١ ؎۔

It was narrated from Samurah bin Jundub that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a man loses something, or it is stolen from him, and he finds it in the possession of a man who bought it, then he has more right to it, and the one who bought it should ask for his money back from the one who sold it to him."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اصل مالک جس کا مال چوری ہوگیا تھا، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ٤٦٢٩، ومصباح الزجاجة: ٨١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٣، ١٨) (ضعیف) (حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )