Sunan Ibne-Majah 2320

فیصلوں کا بیان

2320Sunan Ibne-Majah

پرائی چیز کا دعوی کرنا اور اس میں جھگڑا کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ أَوْ يُعِينُ عَلَى ظُلْمٍ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض رہے گا یہاں تک کہ وہ (اس سے) باز آجائے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever takes the wrongdoers side in a dispute or supports wrongdoing, he will remain subject to the wrath of Allah until he gives it up."

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کام سے توبہ کرلے اور اس کو چھوڑ دے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ١٤ (٣٥٩٨)، (تحفة الأشراف: ٨٤٤٥) (صحیح) (سند میں مطر الوارق ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث متابعات کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧ / ٣٥٠ و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٤٣٧ ، ١٠٢١ )