Sunan Ibne-Majah 2316

فیصلوں کا بیان

2316Sunan Ibne-Majah

حاکم غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَقْضِي الْقَاضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ، قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: لَا يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ يَقْضِيَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قاضی غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ١ ؎۔ ہشام کی روایت کے الفاظ ہیں: حاکم کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے ۔

It was narrated from Abdul-Malik bin Umair that he heard Abdur-Rahman bin Abu Bakrah (narrate) from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: "Let the judge (Qadi) not pass a judgment when he is angry." In his narration, (one of the narrators) Hisham said: "The judge (ruler) should not judge between two people when he is angry."

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی کریم ﷺ نے جو غصہ کی حالت میں زبیر ؓ کا فیصلہ ایک انصاری کے ساتھ کیا تو یہ آپ ﷺ کی خصوصیت تھی کیونکہ آپ حالت غضب اور رضا دونوں میں معصوم تھے، اور ظاہر یہ ہے کہ ممانعت تحریمی ہے، اس پر جمہور علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر کوئی غصہ کی حالت میں فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ حق ہو تو صحیح ہوگا، علامہ ابن القیم کہتے ہیں کہ مفتی سخت غصہ، یا زیادہ بھوک، یا زیادہ قلق، یا پریشان کن خوف و ڈر، یا نیند کا غلبہ، یا پاخانہ پیشاب کی حاجت میں فتوی نہ دے، اسی طرح جب دل اور طرف لگا ہوا ہو، بلکہ جب آدمی یہ محسوس کرے کہ مذکورہ امور کی وجہ سے وہ اعتدال کی حالت سے باہر چلا گیا ہے، اور اس کی تحقیق و جستجو کی قدرت متاثر ہوگئی ہے، تو اس کو فتویٰ سے رک جانا چاہیے، اس پر بھی اگر وہ ان حالتوں میں فتویٰ دیتا ہے تو اس کا فتویٰ صحیح ہے لیکن اگر ایسی حالت میں فیصلہ کرتا ہے، تو کیا اس کا فیصلہ نافذ ہوگا، یا نہیں نافذ ہوگا؟ اس بارے میں امام احمد کے مذہب میں تین اقوال ہیں: پہلا یہ کہ نافذ ہوگا، دوسرا یہ کہ نافذ نہیں ہوگا، تیسرا یہ کہ مسئلہ کو سمجھنے کے بعد اگر غصہ ہو تو اس میں نافذ ہوگا، اور اگر مسئلہ کے سمجھنے سے پہلے غصہ ہو تو نافذ نہیں ہوگا۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ ٣ /٢٣٣ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ١٣ (٧١٥٨)، صحیح مسلم/الأقضیة ٧ (١٧١٧)، سنن ابی داود/الأقضیة ٩ (٣٥٨٩)، سنن الترمذی/الأحکام ٧ (١٣٣٤)، سنن النسائی/آداب القضاة ١٧ (٥٤٠٨)، ٣١ (٥٤٢٣)، (تحفة الأشراف: ١١٦٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٦، ٣٧، ٣٨، ٤٦، ٥٢) (صحیح )