Sunan Ibne-Majah 2309

فیصلوں کا بیان

2309Sunan Ibne-Majah

قاضیوں کا ذکر

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ وَمَنْ جُبِرَ عَلَيْهِ نَزَلَ إِلَيْهِ آلِكْ فَسَدَّدَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے عہدہ قضاء کا مطالبہ کیا، وہ اپنے نفس کے حوالہ کردیا جاتا ہے، اور جو اس کے لیے مجبور کیا جائے تو اس کے لیے ایک فرشتہ اترتا ہے جو اسے درست بات کی رہنمائی کرتا ہے ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever asks to be appointed a judge, will be entrusted to himself, but whoever is forced to accept the position, an angel will come down to him and guide him."

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأقضیة ١ (٣٥٧٨)، سنن الترمذی/الأحکام ١ (١٣٢٣)، (تحفة الأشراف: ٢٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٨، ٢٢٠) (ضعیف) (سند میں عبدالأعلی ضعیف راوی ہے )