تجارت ومعاملات کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 14 · 171 hadiths · Page 9 of 9

2297Sunan Ibne-Majah

غلام کیلئے کس حد تک دینے اور صدقہ کرنے کی گنجائش ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: كَانَ مَوْلَايَ يُعْطِينِي الشَّيْءَ، فَأُطْعِمُ مِنْهُ، فَمَنَعَنِي، أَوْ قَالَ: فَضَرَبَنِي، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَأَلَهُ، فَقُلْتُ: لَا أَنْتَهِي أَوْ لَا أَدَعُهُ؟، فَقَالَ: الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا.

عمیر مولی آبی اللحم ؓ کہتے ہیں کہ میرے مالک مجھے کوئی چیز دیتے تو میں اس میں سے اوروں کو بھی کھلا دیتا تھا تو انہوں نے مجھ کو ایسا کرنے سے روکا یا کہا: انہوں نے مجھے مارا، تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: یا اسی مالک نے آپ ﷺ سے پوچھا: میں نے عرض کیا: میں اس سے باز نہیں آسکتا، یا میں اسے چھوڑ نہیں سکتا (کہ مسکین کو کھانا نہ کھلاؤں) تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم دونوں کو اس کا اجر ملے گا ۔

It was narrated that Urnair, the freed slave of Aabi Lahm, said: "My master used to give me, food and I would feed others from it, then he stopped me - or he said: "He beat me, So I asked the Prophet ﷺ " - or -"he asked him and I said: I will not stop: He said: Both of you will be rewarded:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٢٦ (١٠٢٥)، سنن النسائی/الزکاة ٥٦ (٢٥٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٩٩) (صحیح )
2298Sunan Ibne-Majah

جانور کے گلہ یا باغ سے گزر ہو تو دودھ یا پھل کھانے کیلئے لینا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا: حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ رَجُلًا مِنْ بَنِي غُبَرَ، قَالَ: أَصَابَنَا عَامُ مَخْمَصَةٍ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَتَيْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا، فَأَخَذْتُ سُنْبُلًا فَفَرَكْتُهُ وَأَكَلْتُهُ وَجَعَلْتُهُ فِي كِسَائِي، فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: مَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ جَائِعًا أَوْ سَاغِبًا وَلَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ وَأَمَرَ لَهُ بِوَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نِصْفِ وَسْقٍ.

ابوبشر جعفر بن أبی ایاس کہتے ہیں میں نے عباد بن شرحبیل ؓ جو بنی غبر کے ایک فرد ہیں کو کہتے سنا کہ ایک سال قحط ہوا تو میں مدینہ آیا، وہاں اس کے باغوں میں سے ایک باغ میں گیا، اور اناج کی ایک بالی اٹھا لی، اور مل کر اس میں سے کچھ کھایا، اور کچھ اپنے کپڑے میں رکھ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے باغ والے سے کہا: تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا، اور نہ تم نے اس کو تعلیم دی جبکہ یہ جاہل تھا، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کے کپڑے واپس کرنے اور ساتھ ہی ایک وسق یا نصف وسق غلہ دینے کا حکم دیا ۔

It was narrated that Abu Bishr Jafar bin Abu Iyas said: "I heard Abbad bin Shurahbil, a man from Banu Chubar, say: We suffered a year of famine, and I came to Al-Madinah. I came to one of its gardens and took an ear of corn, I rubbed it, ate some and put the rest in my garment. The owner of the garden came and beat me and took my garment. I came to the Prophet ﷺ and told him (what had happened). He said to the man: "You did not feed him when he was hungry and you did not teach him when he was ignorant. Then the Prophet ﷺ told him to give back his garment and ordered that a Wasq or half a Wasq of food be brought to him." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٩٣ (٢٦٢٠، ٢٦٢١)، سنن النسائی/آداب القضاة ٢٠ (٥٤١١)، (تحفة الأشراف: ٥٠٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٦، ١٦٧) (صحیح )
2299Sunan Ibne-Majah

جانور کے گلہ یا باغ سے گزر ہو تو دودھ یا پھل کھانے کیلئے لینا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ أَبِيهَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلَنَا، أَوْ قَالَ: نَخْلَ الْأَنْصَارِ، فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا غُلَامُ، وَقَالَ ابْنُ كَاسِبٍ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟، قَالَ: قُلْتُ: آكُلُ، قَالَ: فَلَا تَرْميِ النَّخْلَ وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا، قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي، وَقَالَ: اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ.

رافع بن عمرو غفاری ؓ کہتے ہیں کہ میں اور ایک لڑکا دونوں مل کر اپنے یا انصار کے کھجور کے درخت پر پتھر مار رہے تھے، تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: لڑکے! (ابن کا سب کا قول ہے کہ آپ ﷺ نے یوں فرمایا: میرے بیٹے! ) تم کیوں کھجور کے درختوں پر پتھر مارتے ہو ؟، رافع بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں (کھجور) کھاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا: درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے گرے ہوں انہیں کھاؤ پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اسے آسودہ کر دے ۔

It was narrated that Rãfi’ bin ‘Amr Al-Ghifâri said: “When I was a boy, I used to throw stones at our date-palm Trees” — or he said: “the date-palm frees of the Ansdr.” I was brought to the Prophet ﷺ and he said: ‘O boy’ - (one of the narrators) Ibn Kâsib said He said: ‘O my son - why are you throwing stones at the date-palm frees?’ I said: ‘So I can He said: ‘Do not throw stones at the date-palm frees. Eat om what falls to the ground om them.’ Then he patted me on e head and said: ‘O Allah, give him enough to eat.’” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٩٤ (٢٦٢٢)، سنن الترمذی/البیوع ٥٤ (١٢٨٨)، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٥) (ضعیف) (سند میں ابن ابی الحکم مستور اور جدتی (دادی) مبہم روایہ ہیں نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ٤٥٣ )
2300Sunan Ibne-Majah

جانور کے گلہ یا باغ سے گزر ہو تو دودھ یا پھل کھانے کیلئے لینا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَتَيْتَ عَلَى رَاعٍ فَنَادِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَإِنْ أَجَابَكَ وَإِلَّا فَاشْرَبْ فِي غَيْرِ أَنْ تُفْسِدَ، وَإِذَا أَتَيْتَ عَلَى حَائِطِ بُسْتَانٍ فَنَادِ صَاحِبَ الْبُسْتَانِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ أَجَابَكَ، وَإِلَّا فَكُلْ فِي أَنْ لَا تُفْسِدَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی چرواہے کے پاس آؤ تو تین بار اسے آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق بغیر خراب کئے دودھ دوہ کر پی لو، اور جب تم کسی باغ میں آؤ تو باغ والے کو تین بار آواز دو، اگر وہ جواب دے تو بہتر، ورنہ اپنی ضرورت کے مطابق پھل توڑ کر کھالو، البتہ خراب مت کرو ۔

It was narrated from Abu Saeed that the Prophet ﷺ said: "When you come to a shepherd, call him three times. If he answers (all well and good), otherwise drink (milk from the flock) WIthout taking advantage. And when you come to a garden, call the owner of the garden three times. If he answers (all well and good), otherwise eat (from the produce of the garden) without taking advantage." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٣٤٢، ومصباح الزجاجة: ٨٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٧، ٢١، ٨٥) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٥٢١ )
2301Sunan Ibne-Majah

جانور کے گلہ یا باغ سے گزر ہو تو دودھ یا پھل کھانے کیلئے لینا۔

حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَأَيُّوبُ بْنُ حَسَّانَ الْوَاسِطِيُّ، وعلي بن سلمة قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِحَائِطٍ، فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی باغ سے گزرے تو (پھل) کھائے، اور کپڑے میں نہ باندھے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you passes by a garden, let him eat therefrom, but he should not carry any away in his garment." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: جن احادیث میں مالک کی اجازت کے بغیر دودھ یا پھل لینے کی اجازت ہے، اکثر علماء کے نزدیک یہ منسوخ ہیں، اور ان کی ناسخ وہ احادیث ہیں جن میں مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کا مال لینا حرام ہے، اور بعضوں نے کہا کہ یہ حدیثیں اس حالت پر محمول ہیں کہ جب آدمی بھوک کے مارے بےتاب ہو یعنی مرنے کے قریب ہو، مخمصہ کی حالت ہو تو ایسی حالت میں حرام حلال ہوجاتا ہے، پھر پھل یا دودھ بھی بےاجازت کھا پی لینا جائز ہوگا، لیکن ضروری ہے کہ صرف اتنا لے جس سے جان بچ جائے، اور ضرورت سے زیادہ اس کا مال خراب نہ کرے نہ اپنے ساتھ باندھ کرلے جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٥٤ (١٢٨٧)، (تحفة الأشراف: ٨٢٢٢) (صحیح )
2302Sunan Ibne-Majah

مالک کی اجازت کے بغیر کوئی چیز استعمال کرنے سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَامَ، فَقَالَ: لَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشِيَةَ رَجُلٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ، فَيُكْسَرَ بَاب: خِزَانَتِهِ، فَيُنْتَثَلَ طَعَامُهُ، فَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَاتِهِمْ، فَلَا يَحْتَلِبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشِيَةَ امْرِئٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: کوئی کسی کے جانور کا دودھ بغیر اس کی اجازت کے نہ دوہے، کیا کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کے بالاخانہ میں کوئی جائے، اور اس کے غلہ کی کوٹھری کا دروازہ توڑ کر غلہ نکال لے جائے؟ ایسے ہی ان کے جانوروں کے تھن ان کے غلہ کی کوٹھریاں ہیں، تو کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ stood up and said: "No one of you should milk from the livestock of another man without his permission. Would anyone of you like someone to break into his storeroom and take his food? The udders of their livestock store food for them, so none of you should milk the livestock of another man without his permission."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللقطة ٢ (١٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨٣٠٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللقطة ٤٨ (٢٤٣٥)، سنن ابی داود/الجہاد ٩٥ (٢٦٢٣)، موطا امام مالک/الإستئذان ٦ (١٧) (صحیح )
2303Sunan Ibne-Majah

مالک کی اجازت کے بغیر کوئی چیز استعمال کرنے سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطُّهَوِيِّ، عَنْذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ الطُّهَوِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، إِذْ رَأَيْنَا إِبِلًا مَصْرُورَةً بِعِضَاهِ الشَّجَرِ، فَثُبْنَا إِلَيْهَا، فَنَادَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْإِبِلَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ هُوَ قُوتُهُمْ وَيُمْنُهُمْ بَعْدَ اللَّهِ أَيَسُرُّكُمْ لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فَوَجَدْتُمْ مَا فِيهَا قَدْ ذُهِبَ بِهِ أَتُرَوْنَ ذَلِكَ عَدْلًا، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنَّ هَذَا كَذَلِكَ، قُلْنَا: أَفَرَأَيْتَ إِنِ احْتَجْنَا إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ؟، فَقَالَ: كُلْ وَلَا تَحْمِلْ وَاشْرَبْ وَلَا تَحْمِلْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں ہم نے خاردار درختوں کی آڑ میں ایک اونٹنی دیکھی، جس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے تو اس ہم (کا دودھ دوہنے کے لیے) اس کی طرف لپکے، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے ہم کو آواز دی تو ہم آپ کی طرف پلٹ آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اونٹنی کسی مسلمان گھرانے کی ہے، اور یہی ان کی روزی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے بعد یہی ان کے لیے خیر و برکت کی چیز ہے، کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ تم اپنے توشہ دانوں کے پاس واپس آؤ تو جو کچھ ان میں ہے اس سے ان کو خالی پاؤ، کیا تم اس کو انصاف سمجھو گے ؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: بس یہ بھی ایسا ہی ہے ، ہم نے عرض کیا: اگر ہم کھانے پینے کے حاجت مند ہوں تو کیا تب بھی یہی حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (ایسی حالت میں) کھا پی لو لیکن اٹھا کر نہ لے جاؤ ١ ؎۔

Abu Hurairah (RA) said: "While We were wi th the Messenger of Allah ﷺ on a journey, we saw some camels with their udders tied, among some thorny trees. We rushed towards it, but the Messenger of Allah ﷺ called us arid we came back to him. He said: ‘These camels belong to a family of Muslims, and this is their support (and blessing) after Allah. Would you be happy if you went back to your vessels and found that what was in them had been taken away? Do you think that is fair?’ They said: ‘No.’ He said: ‘This is like that.’ We said: ‘What do you think if we are in need of food and drink?’ He said: ‘Eat but do not carry any away; drink but do not carry any away.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ اونٹنی ان کی توشہ دان ہیں، اس کے تھن میں ان کے کھانے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٨٩٢ ، ومصباح الزجاجة: ٨٠٧ )، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٢ /٤٠٥) (ضعیف) لأن ھذا السند فیہ سلیط بن عبد اللہ، قال فیہ البخاری: إسنادہ لیس بالقائم وحجاج بن أرطاة مدلس وقد رواہ بالعنعنة۔
2304Sunan Ibne-Majah

جانور رکھنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: اتَّخِذِي غَنَمًا، فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً.

ام ہانی ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: تم بکریاں پالو، اس لیے کہ ان میں برکت ہے ۔

It was narrated from Umm Hani that the Prophet ﷺ said to her: "Keep sheep, for in them is blessing."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٠٠٨، ومصباح الزجاجة: ٨٠٨)، وقد أخرجہ: ٦/٤٢٤) (صحیح )
2305Sunan Ibne-Majah

جانور رکھنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّيَرْفَعُهُ، قَالَ: الْإِبِلُ عِزٌّ لِأَهْلِهَا وَالْغَنَمُ بَرَكَةٌ وَالْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

عروہ بارقی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اونٹ ان کے مالکوں کے لیے قوت کی چیز ہے، اور بکریاں باعث برکت ہیں، اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے بھلائی بندھی ہے ۔

It was narrated that Urwah Al-Bariqi said in a Marfu report: "Camels are the pride of their owners, and sheep are a blessing, and goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٤٣ (٢٨٥٠)، ٤٤ (٢٨٥٢)، الخمس ٨ (٣١١٩)، المناقب ٢٨ (٣٦٤٢)، صحیح مسلم/الإمارة ٢٦ (١٨٧٣)، سنن الترمذی/الجہاد ١٩ (١٦٩٤)، سنن النسائی/الخیل ٦ (٩٨٩٧)، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧٥، ٣٧٦) سنن الدارمی/الجہاد ٣٤ (٢٤٧٠) (صحیح )
2306Sunan Ibne-Majah

جانور رکھنا۔

حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ النَّيْسَابُورِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا زَرْبِيٌّ إِمَامُ مَسْجِدِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّاةُ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بکری تو جنت کے جانوروں میں سے ہے ۔

It was narra led from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Sheep are among the animals of Paradise. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٣٩، ومصباح الزجاجة: ٨١٠) (صحیح) (سند میں زربی بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١١٢٨ )
2307Sunan Ibne-Majah

جانور رکھنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَغْنِيَاءَ بِاتِّخَاذِ الْغَنَمِ، وَأَمَرَ الْفُقَرَاءَ بِاتِّخَاذِ الدَّجَاجِ، وَقَالَ: عِنْدَ اتِّخَاذِ الْأَغْنِيَاءِ الدَّجَاجَ يَأْذَنُ اللَّهُ بِهَلَاكِ الْقُرَى.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مالدار لوگوں کو بکریاں اور محتاج لوگوں کو مرغیاں رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا ہے: جب مالدار مرغیاں پالنے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بستی کو تباہ کرنے کا حکم دیتا ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ commanded the rich to keep sheep, and he commanded the poor to keep chickens, and he said: When the rich keep chickens, then Allah will give permission for the town to be destroyed.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٩٩، ومصباح الزجاجة: ٨١١) (موضوع) (سند میں علی بن عروہ متروک بلکہ متہم با لوضع راوی ہے، نیز عثمان بن عبد الرحمن مجہول ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١١٩ )