تجارت ومعاملات کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 14 · 171 hadiths · Page 8 of 9

2277Sunan Ibne-Majah

سود سے شدید ممانعت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدِيهِ وَكَاتِبَهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کے کھانے والے پر، کھلانے والے پر، اس کی گواہی دینے والے پر، اور اس کا حساب لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے۔

It was narrated from ‘Abdullâh bin Mas’ud that the Messenger of Allah ﷺ cursed the one who consumes usury, the one who pays it, those who witness it and the one who writes it down. (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٤ (٣٣٣٣)، سنن الترمذی/البیوع ٢ (١٢٠٦)، (تحفة الأشراف: ٩٣٥٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساقاة ١٩ (١٥٩٧)، سنن النسائی/الطلاق ١٣ (٣٤٤٥)، مسند احمد (١/٣٩٣، ٣٩٤، ٤٠٢، ٤٥٣) (صحیح )
2278Sunan Ibne-Majah

سود سے شدید ممانعت۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، عَنْالْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا آكِلُ الرِّبَا فَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یقیناً لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کوئی ایسا نہ بچے گا جس نے سود نہ کھایا ہو، جو نہیں کھائے گا اسے بھی اس کا غبار لگ جائے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There will come a time when there will be no one left who does not consume usury (interest), and whoever does not consume it will nevertheless be affected by it. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣ (٣٣٣١)، سنن النسائی/البیوع ٢ (٤٤٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٩٤) (ضعیف) (سعید بن أبی خیرہ مقبول راوی ہیں، یعنی متابعت کی موجود گی میں، اور متابع کوئی نہیں ہے، اس لئے لین الحدیث ہیں، یعنی کمزوری اور ضعیف ہیں، حسن بصری کا سماع ابوہریرہ ؓ سے ثابت نہیں ہے )
2279Sunan Ibne-Majah

سود سے شدید ممانعت۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ رُكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا أَحَدٌ أَكْثَرَ مِنَ الرِّبَا إِلَّا كَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهِ إِلَى قِلَّةٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے بھی سود سے مال بڑھایا، اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اس کا مال گھٹ جاتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Masud that the Prophet ﷺ said: "There is no one who deals in usury a great deal (to increase his wealth) but he will end up with little (i.e., his wealth will be decreased)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: سودی کاروبار کرنے والا اپنا مال بڑھانے کے لئے زیادہ سود لیتا ہے، لیکن غیب سے ایسی آفتیں اترتی ہیں کہ مال میں برکت نہیں رہتی، سب تباہ و برباد ہوجاتا ہے، اور آدمی مفلس بن جاتا ہے۔ اس امر کا تجربہ ہوچکا ہے، مسلمان کو کبھی سودی کاروبار سے ترقی نہیں ہوتی، البتہ کفار و مشرکین کا مال سود سے بڑھتا ہے، وہ کافر ہیں ان کو سود کی حرمت سے کیا غرض، ان کو تو پہلے ایمان لانے کا حکم ہے۔ اور چونکہ ان کی آخرت تباہ کن ہے، اس لیے دنیا میں ان کو ڈھیل دے دی گئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٠٣، ومصباح الزجاجة: ٨٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٩٥، ٤٢٤) (صحیح )
2280Sunan Ibne-Majah

مقررہ ناپ تول میں مقررہ مدت تک سلف کرنا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ: مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ، فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے، اس وقت اہل مدینہ دو سال اور تین سال کی قیمت پہلے ادا کر کے کھجور کی بیع سلف کیا کرتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: جو کھجور میں بیع سلف کرے یعنی قیمت پیشگی ادا کر دے تو اسے چاہیئے کہ یہ بیع متعین ناپ تول اور مقررہ میعاد پر کرے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "When the Prophet ﷺ came (to Al-Madinah), they used to pay in advance for dates, two or three years in advance. He said: Whoever pays in advance for dates, let him pay for a known amount or a known weight, to be delivered at a known time." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بیع سلف اور سلم دونوں ایک ہیں یعنی ایک آدمی دوسرے آدمی کو روپیہ نقد دے، لیکن مال لینے کے لئے ایک میعاد مقرر کرلے، اہل حدیث کے نزدیک اس میں دو ہی شرطیں ہیں: ایک یہ کہ جس مال کے لینے پر اتفاق ہوا ہے اس کی کیفیت، جنس اور نوع واضح طور پر بیان کر دے، اگر ناپ تول کی چیز ہو تو ناپ تول صراحت سے مقرر کردی جائے، مثلاً سو من گیہوں سفید اعلیٰ قسم کا، فلاں کپڑا اس قسم کے اتنے گز اور میٹر، دوسرے یہ کہ مال کے لینے کی میعاد مقرر ہو، مثلاً ایک مہینہ، دو مہینہ، ایک سال۔ اگر ان شرطوں میں سے کوئی شرط نہ ہو تو بیع سلم فاسد ہوگی، کیونکہ اس میں نزاع کی صورت پیدا ہوگی، بعضوں نے اور شرطیں بھی رکھیں ہیں لیکن ان کی دلیل ذرا مشکل سے ملے گی، اور شاید نہ ملے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/السلم ١ (٢٢٣٩)، ٢ (٢٢٤٠، ٢٢٤١)، ٧ (٢٢٥٣)، صحیح مسلم/المساقاہ ٢٥ (١٦٠٤)، سنن ابی داود/البیوع ٥٧ (٣٤٦٣)، سنن الترمذی/البیوع ٧٠ (١٣١١)، سنن النسائی/البیوع ٦١ (٤٦٢٠)، (تحفة الأشراف: ٥٨٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٧، ٢٢٢، ٢٨٢، ٣٥٨)، سنن الدارمی/البیوع ٤٥ (٢٦٢٥) (صحیح )
2281Sunan Ibne-Majah

مقررہ ناپ تول میں مقررہ مدت تک سلف کرنا۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ بَنِي فُلَانٍ أَسْلَمُوا لِقَوْمٍ مِنْ الْيَهُودِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ جَاعُوا، فَأَخَافُ أَنْ يَرْتَدُّوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عِنْدَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ: عِنْدِي كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ قَدْ سَمَّاهُ أُرَاهُ، قَالَ: ثَلاثُ مِائَةِ دِينَارٍ بِسِعْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِسِعْرِ كَذَا وَكَذَا إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا وَلَيْسَ مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ.

عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے آ کر عرض کیا: فلاں قبیلہ کے یہودی مسلمان ہوگئے ہیں، اور وہ بھوک میں مبتلا ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ مرتد نہ ہوجائیں، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی کے پاس کچھ نقدی ہے (کہ وہ ہم سے بیع سلم کرے) ؟ ایک یہودی نے کہا: میرے پاس اتنا اور اتنا ہے، اس نے کچھ رقم کا نام لیا، میرا خیال ہے کہ اس نے کہا: میرے پاس تین سو دینار ہیں، اس کے بدلے میں بنی فلاں کے باغ اور کھیت سے اس اس قیمت سے غلہ لوں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: قیمت اور مدت کی تعیین تو منظور ہے لیکن فلاں کے باغ اور کھیت کی جو شرط تم نے لگائی ہے وہ منظور نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Muhammad bin Hamzah bin Yusuf bin Abdullah bin Salam, from his father, that his grandfather Abdullah bin Salam said: "A man came to the Prophet ﷺ and said, The tribe of Banu soand-so, who were descended from the Jews, have become Muslim, and they are starving, and I am afraid that they may apostatize. The Prophet ﷺ said: Who has something with him? A Jewish man said: I have such and such, and he named it, and I think he said three hundred Dinar for such and such an amount (of produce) from the garden of the tribe of Banu so-and-so. The Messenger of Allah ﷺ said: For such and such a price at such and such a time, but not from the garden of the tribe of Banu soand-so.?" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ احتمال ہے کہ اس باغ یا کھیت میں کچھ نہ ہو یا وہاں کا غلہ تباہ ہوجائے تو یہ شرط لغو اور بیکار ہے، البتہ یہ شرط قبول ہے کہ اس بھاؤ سے اتنے کا غلہ فلاں وقت اور تاریخ پردے دیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣٢٩، ومصباح الزجاجة: ٨٠٣) (ضعیف) (سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
2282Sunan Ibne-Majah

مقررہ ناپ تول میں مقررہ مدت تک سلف کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: امْتَرَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَمِ فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، فَسَأَلْتُهُ؟، فَقَالَ: كُنَّا نُسْلِمُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَهْدِ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، عِنْدَ قَوْمٍ مَا عِنْدَهُمْفَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.

عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبرزہ ؓ کے درمیان بیع سلم کے سلسلہ میں جھگڑا ہوگیا، انہوں نے مجھے عبداللہ ابن ابی اوفی ؓ کے پاس بھیجا، میں نے جا کر ان سے اس کے سلسلے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اور ابوبکرو عمر ؓ کے عہد میں گیہوں، جو، کشمش اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے جن کے پاس اس وقت مال نہ ہوتا، پھر میں نے ابن ابزیٰ ؓ سے سوال کیا، تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا۔

It was narrated that Abu Mujalid said: "Abdullah bin Shaddad and Abu Barzah had a dispute about paying in advance . They sent me to Abdullah bin Abu Awfa to ask him about it. He said: We used to make payments in advance at the time of the Messenger of Allah ﷺ and the time of Abu Bakr (RA) and Umar, for wheat, barley, raisins and dates, to people who did not yet possess those things. I asked Ibn Abza, and he said something similar." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/السلم ٢ (٢٢٤٢)، ٣ (٢٢٤٤)، ٧ (٢٢٥٤، ٢٢٥٥) بلفظ: ما کنا نسألھم مکان ماعندھم، سنن ابی داود/البیوع ٥٧ (٣٤٦٤، ٣٤٦٥)، سنن النسائی/البیوع ٥٩ (٤٦١٨)، ٦٠ (٤٦١٩)، (تحفة الأشراف: ٥١٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥٤، ٣٨٠) (صحیح )
2283Sunan Ibne-Majah

ایک مال میں سلم کی تو اسے دوسرے مال میں نہ پھیرے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَسْلَفْتَ فِي شَيْءٍ فَلَا تَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ. حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدًا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم کسی چیز میں بیع سلف کرو تو اسے کسی اور چیز کی طرف نہ پھیرو ۔

It was narrated from Abu Sa eed that the Messenger of Allah ﷺ said: "When you have paid in advance lor something, do not exchange it lor somethming else," (Daif) Another chain with similar wording,

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٥٩ (٣٤٦٨)، (تحفة الأشراف: ٤٢٠٤) (ضعیف) (سند میں عطیہ العوفی ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٣٧٥ ) اس سند سے بھی ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پھر آگے راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا، اور اس کے راویوں میں سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٠٠) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: حدیث سابق )
2284Sunan Ibne-Majah

معین کھجور کے درخت میں سلم کی اور اس سال اس پر پھل نہ آیا تو ؟

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ النَّجْرَانِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أُسْلِمُ فِي نَخْلٍ، قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: لِمَ، قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ فِي حَدِيقَةِ نَخْلٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ النَّخْلُ فَلَمْ يُطْلِعِ النَّخْلُ شَيْئًا ذَلِكَ الْعَامَ، فَقَالَ الْمُشْتَرِي: هُوَ لِي حَتَّى يُطْلِعَ، وَقَالَ الْبَائِعُ: إِنَّمَا بِعْتُكَ النَّخْلَ هَذِهِ السَّنَةَ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلْبَائِعِ: أَخَذَ مِنْ نَخْلِكَ شَيْئًا، قَالَ: لَا، قَالَ: فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَا أَخَذْتَ مِنْهُ وَلَا تُسْلِمُوا فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ.

نجرانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا: کیا میں کسی درخت کے کھجور کی ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کروں؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: کیوں؟ کہا: ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں کھجور کے ایک باغ کے پھلوں میں ان کے پھلنے سے پہلے بیع سلم کی، لیکن اس سال کھجور کے درخت میں پھل آیا ہی نہیں، تو خریدار نے کہا: یہ درخت میرے رہیں گے جب تک ان میں کھجور نہ پھلے، اور بیچنے والے نے کہا: میں نے تو صرف اسی سال کا کھجور تیرے ہاتھ بیچا تھا، چناچہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں معاملہ لے گئے تو آپ ﷺ نے بیچنے والے سے کہا: کیا اس نے تمہارے کھجور کے درختوں سے کچھ پھل لیے ؟ وہ بولا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرو گے، جو تم نے اس سے لیا ہے، اسے واپس کرو اور آئندہ کھجور کے درختوں میں بیع سلم اس وقت تک نہ کرو جب تک اس کے پھل استعمال کے لائق نہ ہوجائیں ۔

It was narrated that Najrani said: "I said to Abdullah bin Umar (RA) : Can I pay in advance for a date palm before it bears fruit? He said: No. I said: Why not? He said: A man paid in advance for a grove of trees during the time of the Messenger of Allah ﷺ , before they had produced any fruit, and they did not bear anything that year, The purchaser said: They belong to me until they produce: but the seller said: I only sold the trees to yoU for this year. They referred their dispute to the Messenger of Allah ﷺ , who said to the seller: Did he take anything from your date palms? He said: No. He said: Then why do you regard his wealth as lawful for you? Give back what you took from him, and do not take payment in advance for date palms until their usefulness appears. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٥٨ (٣٤٦٧)، (تحفة الأشراف: ٨٥٩٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٢١ (٤٩)، مسند احمد (٢/٢٥، ٤٩، ٥١، ٥٨، ١٤٤) (ضعیف) (اس کی سند میں نجرانی مبہم راوی ہے )
2285Sunan Ibne-Majah

جانور میں سلم کرنا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، وَقَالَ: إِذَا جَاءَتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ قَضَيْنَاكَفَلَمَّا قَدِمَتْ، قَالَ: يَا أَبَا رَافِعٍ، اقْضِ هَذَا الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَلَمْ أَجِدْ إِلَّا رَبَاعِيًا فَصَاعِدًا، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَعْطِهِ، فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً.

ابورافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے ایک جوان اونٹ کی بیع سلم کی یعنی اسے قرض کے طور پر لیا، اور فرمایا: جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے تو ہم تمہارا اونٹ کا قرض ادا کردیں گے ، چناچہ جب صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابورافع! اس کے اونٹ کا قرض ادا کر دو ، ابورافع ؓ کہتے ہیں: میں نے ڈھونڈا تو مجھے ویسا اونٹ نہیں ملا، سوائے ایک ایسے اونٹ کے جس نے اپنے سامنے کے چاروں دانت گرا رکھے تھے، جو اس کے اونٹ سے بہتر تھا، میں نے نبی اکرم ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسی کو دے دو کیونکہ لوگوں میں بہتر وہ ہے جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Rafi that the Prophet ﷺ asked a man to give as a loan a young camel and said: "When the camels of the Sadaqah come, we will pay you back." When the camels came, he said: "O Abu Rafi, pay this man back for his young camel." But all I could find was a seven-year-old camel or that which is better. I told the Prophet ﷺ and he said: "Give it to him, for the best of people are those who are best in repaying." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جو مال بغیر شرط کے قرض لیا تھا اس سے افضل دیتے ہیں، اگر قرض سے بہتر یا زیادہ مال دیا جائے تو مستحب اور اس کا لینا جائز ہے، لیکن شرط کے ساتھ جائز نہیں، کیونکہ وہ ربا (سود) ہے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ بیع سلم بلکہ قرض لینا بھی جانور کا درست ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٤٣ (١٦٠٠)، سنن ابی داود/البیوع ١١ (٣٣٤٦)، سنن الترمذی/البیوع ٧٥ (١٣١٨)، سنن النسائی/البیوع ٦٢ (٤٦٢١)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ٤٣ (٨٩)، مسند احمد (٦/٣٩٠)، سنن الدارمی/البیوع ٣١ (٢٦٠٧) (صحیح )
2286Sunan Ibne-Majah

جانور میں سلم کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: اقْضِنِي بَكْرِي، فَأَعْطَاهُ بَعِيرًا مُسِنًّا، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَسَنُّ مِنْ بَعِيرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ النَّاسِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً.

عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا کہ ایک اعرابی نے آ کر عرض کیا: میرا جوان اونٹ مجھے دیجئیے، آپ ﷺ نے اس کو ایک اونٹ دیا جو اس سے بڑا تھا، اعرابی (دیہاتی) بولا: اللہ کے رسول! اس کی عمر تو اس سے زیادہ ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں ۔

Saeed bin Ham said: "I heard Irbad bin Sariyah say: I was with the Prophet ﷺ and a Bedouin said: "Pay me back for my young camel, and he gave him m older (i.e., better) camel." He said: a Messenger of Allah ﷺ It is older (i.e., better) than my camel. The Messenger of Allah ﷺ said: The best of people are those who are best in repaying, (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٦٢ (٤٦٢٣)، (تحفة الأشراف: ٩٨٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٨) (صحیح )
2287Sunan Ibne-Majah

شرکت اور مضاربت۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ، عَنْ السَّائِبِ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْتَ شَرِيكِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَكُنْتَ خَيْرَ شَرِيكٍ لَا تُدَارِينِي وَلَا تُمَارِينِي.

سائب ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! زمانہ جاہلیت میں آپ میرے شریک تھے، تو آپ بہت بہترین شریک ثابت ہوئے نہ آپ میری مخالفت کرتے تھے نہ جھگڑتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Saib said to the Prophet ﷺ "You were my partner during the Ignorance period and you were the best of partners, you did not contend or dispute." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ نبوت سے پہلے سائب مخزومی نبی کریم ﷺ کے شریک تھے، فتح مکہ کے دن وہ آئے، اور کہا: مرحباً، (خوش آمدید) میرے بھائی، میرے شریک، ایسے شریک کہ نہ کبھی انہوں نے مقابلہ کیا نہ جھگڑا، اس حدیث کے اور بھی کئی طریق ہیں، سبحان اللہ نبی کریم ﷺ کے اخلاق شروع سے ایسے تھے کہ تعلیم و تربیت اور ریاضت کے بعد بھی ویسے اخلاق حاصل ہونا مشکل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ٢٠ (٤٨٣٦)، (تحفة الأشراف: ٣٧٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (/٤٢٥) (صحیح )
2288Sunan Ibne-Majah

شرکت اور مضاربت۔

حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: اشْتَرَكْتُ أَنَا وَسَعْدٌ وَعَمَّارٌ يَوْمَ بَدْرٍ فِيمَا نُصِيبُ فَلَمْ أَجِئْ أَنَا وَلَا عَمَّارٌ بِشَيْءٍ وَجَاءَ سَعْدٌ بِرَجُلَيْنِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں سعد اور عمار تینوں بدر کے دن مال غنیمت میں شریک ہوئے، تو مجھ کو اور عمار کو کچھ نہ ملا، البتہ سعد کافروں کے دو آدمی پکڑ لائے۔

It was narrated that Abdullah said: "Sad, Ammar and I entered into a partnership on the day of Badr, (agreeing to share) whatever was allotted to us. Amrnar and I did not get anything, but Sad got two men (slaves)." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣٠ (٣٣٨٨)، سنن النسائی/الأیمان ٤٧ (٣٩٦٩)، البیوع ١٠٣ (٤٧٠١)، (تحفة الأشراف: ٩٦١٦) (ضعیف) (سند میں ابوعبیدہ اور ابن مسعود ؓ کے درمیان انقطاع ہے، اس لئے کہ ابوعبیدہ کا اپنے والد سے سماع نہیں ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٤٧٤ )
2289Sunan Ibne-Majah

شرکت اور مضاربت۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ فِيهِنَّ الْبَرَكَةُ الْبَيْعُ إِلَى أَجَلٍ وَالْمُقَارَضَةُ وَأَخْلَاطُ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ لِلْبَيْتِ لَا لِلْبَيْعِ.

صہیب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزوں میں برکت ہے: پہلی یہ کہ مقررہ مدت کے وعدے پر بیع کرنے میں، دوسری: مضاربت میں، تیسری: گیہوں اور جو ملانے میں جو کہ گھر کے کھانے کے لیے ہو، نہ کہ بیچنے کے لیے ۔

It was narrated from Salih bin Suhaib that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There are three things in which there is blessing: A sale with deferred payment; Muqdradhah (profit sharing); and mixing wheat with barley for ones house, but not for sale.": (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٣، ومصباح الزجاجة: ٨٠٤) (ضعیف جدا) (سند میں صالح صہیب، عبد الرحمن بن داود اور نصر بن قاسم وغیرہ سب مجہول راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢١٠٠ )
2290Sunan Ibne-Majah

مرد اپنی اولاد کا مال کس حدتک استعمال کرسکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے کھانوں میں سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو تمہارے ہاتھ کی کمائی کا ہو، اور تمہاری اولاد بھی تمہاری ایک قسم کی کمائی ہے ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The bes t of your provision is what you earn, and your children are part of what you earn." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧٩ (٣٥٢٨)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٢ (١٣٥٨)، سنن النسائی/البیوع ١ (٤٤٥٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣١، ٣٢، ١٢٧، ١٦٢، ١٩٣، ٢٢٠)، سنن الدارمی/البیوع ٦ (٢٥٧٩) (صحیح )
2291Sunan Ibne-Majah

مرد اپنی اولاد کا مال کس حدتک استعمال کرسکتا ہے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا، وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي، فَقَالَ: أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال اور اولاد دونوں ہیں، اور میرے والد میرا مال ختم کرنا چاہتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: تم اور تمہارا مال دونوں تمہارے والد کے ہیں ۔

It was narrated from [Sbir bin Abdullah that a man said: "O Messenger of Allah, I have wealth and a son, and my father wants to take all my wealth." He said: "You and your wealth belong to your father." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٠٩٣، ومصباح الزجاجة: ٨٠٥) (صحیح )
2292Sunan Ibne-Majah

مرد اپنی اولاد کا مال کس حدتک استعمال کرسکتا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي اجْتَاحَ مَالِي، فَقَالَ: أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: میرے والد نے میری دولت ختم کردی (اس کے بارے میں فرمائیں؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: تم اور تمہاری دولت دونوں تمہارے والد کے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے لہٰذا تم ان کے مال میں سے کھاؤ ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: My father is taking ;il my wealth. He said: You and your wealth belong to your father. And the Messenger of Allah ﷺ said: Your children are among the best of your earnings, so eat from your wealth. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ باپ اپنے بیٹے کے مال میں ضرورت کے مطابق تصرف کرسکتا ہے اور اگر ماں باپ بیٹے کا مال لے بھی لیں تو بھی بیٹے کو چاہیے کہ وہ ماں باپ سے مقابلہ نہ کرے، نہ ان سے سخت کلامی کرے اور اس وقت کو یاد کرے جب ماں باپ نے اسے محبت سے پالا پوسا تھا، پیشاب و پاخانہ دھویا، پھر کھلایا، پلایا، پڑھایا اور سکھایا، یہ سب احسانات ایسے ہیں کہ اگر ماں باپ کے کام میں بیٹے کا چمڑہ بھی آئے تو ان کا احسان نہ ادا ہو سکے اور یہ سمجھ لے کہ ماں باپ ہی کی رضامندی پر ان کی نجات منحصر ہے، اگر ماں باپ ناراض ہوئے تو دنیا و آخرت دونوں تباہ ہوگی، تجربہ سے معلوم ہوا کہ جن لڑکوں نے ماں باپ کو راضی رکھا ان کو بڑی برکت حاصل ہوئی اور انہوں نے چین سے زندگی بسر کی اور جنہوں نے ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی کی وہ ہمیشہ دنیا میں جلتے اور کڑھتے ہی رہے، اگر ماں باپ بیٹے کا مال لے لیں تو کمال خوشی کرنا چاہیے کہ ہماری یہ قسمت کہاں تھی کہ ہمارا روپیہ ماں باپ کے کام آئے یا روپیہ اپنے موقع پر صرف ہوا، اور ماں باپ سے یوں کہنا چاہیے کہ روپیہ تو کیا میرا بدن اور میری جان بھی آپ ہی کی ہے، آپ اگر چاہیں تو مجھ کو بھی بازار میں بیچ لیں، میں آپ کا غلام ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٧٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع ٧٩ (٣٥٣٠)، مسند احمد (٢/١٧٩) (صحیح )
2293Sunan Ibne-Majah

بیوی کیلئے خاوند کا مال لینے کی کس حد تک گنجائش ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَقَالَ: خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہند ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہیں، مجھے اتنا نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو سوائے اس کے جو میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال میں سے لے لوں (اس کے بارے میں فرمائیں؟ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا: مناسب انداز سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہو ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "Hind came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, Abu Sufyan (RA) is a stingy man and he does not give me enough for me and my child, except for what I take from his wealth without him realizing. He said: Take what is sufficient for you and your child, on a reasonable basis. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأقضیة ٤ (١٧١٤)، سنن ابی داود/البیوع ٨١ (٣٥٣٢)، سنن النسائی/آداب القضاة ٣٠ (٥٤٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٢٦١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٩٥ (٢٢١١)، المظالم ١٨ (٢٤٦٠)، النفقات ٥ (٥٣٥٩)، ٩ (٥٣٦٤)، ١٤ (٥٣٧٠)، الأیمان ٣ (٦٦٤١)، الأحکام ١٤ (٧١٦١)، ٢٨ (٧١٨٠)، مسند احمد (٦/٣٩، ٥٠، ٢٠٦)، سنن الدارمی/النکاح ٥٤ (٥٣٦٤) (صحیح )
2294Sunan Ibne-Majah

بیوی کیلئے خاوند کا مال لینے کی کس حد تک گنجائش ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ، وَقَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ: إِذَا أَطْعَمَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا وَلَهُ مِثْلُهُ بِمَا اكْتَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے خرچ کرے (کی روایت میں خرچ کرے کے بجائے جب عورت کھلائے ہے) اور اس کی نیت مال برباد کرنے کی نہ ہو تو اس کے لیے اجر ہوگا، اور شوہر کو بھی اس کی کمائی کی وجہ سے اتنا ہی اجر ملے گا، اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے، اور خازن کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کچھ کمی ہو ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When a woman spends" - and my father said: - "When a woman feeds (the poor) from her husbands house, without spending too much, she will have her reward, and he will be rewarded likewise because he earned it, and she will be rewarded for what she spent. The same applies to the storekeeper, without anything being detracted from their rewards." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ عورت کو اپنے شوہر کا اور خادم کو اپنے مالک کا مال بغیر ان کی اجازت کے صدقہ میں دینا جائز نہیں ہے، لیکن یہاں وہ مال مراد ہے جس کے خرچ کی عادتاً عورتوں کو اجازت دی جاتی ہے جیسے کھانے میں سے ایک روٹی فقیر کو دے دینا، یا پیسوں میں سے ایک پیسہ کسی مسکین کو، اور بعضوں نے کہا: اہل حجاز اپنی عورتوں کو صدقہ اور مہمانی کی اجازت دیا کرتے تھے، تو یہ حدیث ان سے خاص ہے، اور بعضوں نے کہا: مراد وہ مال ہے جو شوہر اپنی بیوی کو اس کے خرچ کے لئے دیتا ہے اس میں سے تو عورت بالاتفاق خرچ کرسکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ١٧ (١٤٢٥)، ٢٥ (١٤٣٧)، ٢٦ (١٤٣٩، ١٤٤٠)، البیوع ١٢ (٢٠٦٥)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٥ (١٠٢٤)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٤ (٦٧٢)، سنن ابی داود/الزکاة ٤٤ (١٦٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٠٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة ٥٧ (٢٥٤٠)، مسند احمد (٩/٤٤، ٩٩، ٢٧٨) (صحیح )
2295Sunan Ibne-Majah

بیوی کیلئے خاوند کا مال لینے کی کس حد تک گنجائش ہے؟

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الطَّعَامَ، قَالَ: ذَلِكَ مِنْ أَفْضَلِ أَمْوَالِنَا.

ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی کسی کو نہ دے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، کھانا بھی نہ دے، یہ تو ہمارے مالوں میں سب سے بہتر مال ہے ۔

Shurahbil bin Muslim AlKhawlâni said: I heard Abu Umâmah Al-Bâhili say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “No woman should spend anything from her house without her husband’s permission.” They said: “O Messenger of Allah, not even food?” He said: “That is among the best of our wealth.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزکاة ٣٤ (٦٧٠)، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٧) (حسن )
2296Sunan Ibne-Majah

غلام کیلئے کس حد تک دینے اور صدقہ کرنے کی گنجائش ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، سَمِعَأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غلام کی دعوت قبول کرتے تھے۔

It was narrated from Muslim Al-Mulai that he heard Anas bin Malik (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ used to accept the invitation of a slave," (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٣٢ (١٠١٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٨)، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ٤١٧٨) (ضعیف) (سند میں مسلم الملائی ضعیف راوی ہیں )