ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری ؓ کو کہتے سنا کہ درہم کو درہم سے، اور دینار کو دینار سے برابر برابر بیچنا چاہیئے، تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے ابن عباس ؓ کو کچھ اور کہتے سنا ہے، ابوسعید ؓ کہتے ہیں: تو میں ابن عباس ؓ سے جا کر ملا، اور میں نے ان سے کہا: آپ بیع صرف کے متعلق جو کہتے ہیں مجھے بتائیے، کیا آپ نے کچھ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ کتاب اللہ (قرآن) میں اس سلسلہ میں آپ کو کوئی چیز ملی ہے؟ اس پر وہ بولے: نہ تو میں نے اس کو کتاب اللہ (قرآن) میں پایا ہے، اور نہ میں نے رسول اللہ ﷺ ہی سے سنا ہے، البتہ مجھے اسامہ بن زید ؓ نے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: سود صرف ادھار میں ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "I heard Abu Saeed Al-Khudri say: A Dirham for a Dirham and a Dinar for a Dinar. So I said: I heard Ibn Abbas say something other than that: He said: But I met Ibn Abbas and said: "Tell me about what you say concerning exchange - is it something that you heard from the Messenger of Allah ﷺ or something that you found in the Book of Allah?" He said: "I did not find it in the Book of Allah, and I did not hear it from the Messenger of Allah; rather Usamah bin Zaid told me that the Messenger of Allah ﷺ said: "Usury is only in credit.
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل حدیث اور جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ ان چھ چیزوں میں جن کا ذکر حدیث میں ہے، جب ہر ایک اپنی جنس کے بدلے بیچی جائے تو اس میں کم و بیش، اسی طرح ایک طرف نسیئہ یعنی میعاد ہونا، دونوں منع ہیں، اور دونوں سود ہیں، اور جب ان میں سے کوئی دوسری جنس کے بدل بیچی جائے جیسے چاندی سونے کے بدلے، یا گیہوں جو کے بدلے، تو کمی و بیشی جائز ہے، لیکن نسیئہ حرام ہے۔
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس ؓ کو بیع صرف کے جواز کا حکم دیتے سنا، اور لوگ ان سے یہ حدیث روایت کرتے تھے، پھر مجھے یہ خبر پہنچی کہ انہوں نے اس سے رجوع کرلیا ہے، تو میں ان سے مکہ میں ملا، اور میں نے کہا: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس سے رجوع کرلیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، وہ میری رائے تھی، اور یہ ابوسعید ؓ ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بیع صرف سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Jawza: said: "I heard him - meaning Ibn Abbas - ailowing exchange (of Dirhams for Dirham etc., if extra was given) and that was narrated from him. Then I heard that he has taken back this opinion. I met him in Makkah and said: I heard that you had taken back (your opinion): He said: Yes. That was just my own opinion, but Abu Sa eed narrated from the Messenger of Allah ﷺ that he forbade exchange (of like items if extra is given).
Notes · وضاحت
١ ؎: بیع صرف: جب مال برابر نہ ہو یا نقدا نقد نہ ہو، تو وہ بیع صرف کہلاتا ہے، ابن عباس ؓ حدیث سنتے ہی اپنی رائے سے پھرگئے، اور رائے کو ترک کردیا، اور حدیث پر عمل کرلیا، لیکن ہمارے زمانے کے نام نہاد مسلمان صحابہ کرام ؓ کی پیروی نہیں کرتے، اور ایک حدیث کیا بہت ساری احادیث سن کر بھی اپنے مجتہد کا قول ترک نہیں کرتے، حالانکہ ان کا مجتہد کبھی خطا کرتا ہے کبھی صواب۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٨، ٥١) (صحیح )
عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونے کو چاندی سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ کو کہتے سنا: یاد رکھو کہ سونے کو چاندی سے یعنی باوجود اختلاف جنس کے ادھار بیچنا ربا (سود) ہے۔
It was narrated that Zuhri heard Malik bin Aws bin Hadathan say: "I heard Umar say: "The Messenger of Allah ﷺ said: Gold for silver is usury, unless it is exchanged on the spot:" (Sahih) Abu Bakr (RA) bin Abu-Shaibah said: "I heard sufyan saying: Gold for silver." memorize (this).
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں یہ کہتے ہوئے آیا کہ کون درہم کی بیع صرف کرتا ہے؟ یہ سن کر طلحہ بن عبیداللہ ؓ بولے، اور وہ عمر بن خطاب ؓ کے پاس بیٹھے تھے: لاؤ مجھے اپنا سونا دکھاؤ، اور دے جاؤ، پھر ذرا ٹھہر کے آنا، جب ہمارا خزانچی آجائے گا تو ہم تمہیں درہم دے دیں گے، اس پر عمر ؓ نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! یا تو اس کی چاندی دے دو، یا اس کا سونا اسے لوٹا دو، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: چاندی کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو ۔
It was narrated that Malik bin Aws bin Hadathan said: "I came saying. Who will exchange Dirham? Talhah bin Ubaidullah, who was with Umar bin Khattab, said: Show us your gold, then Come to us; when our treasure comes, we will give you your silver: Umar said: No, by Allah, you will give him silver (now), or give him back his gold, for the Messenger of Allah ﷺ said: "Silver for gold is usury, unless it is exchanged on the spot.": (Sahih)
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دینار کو دینار سے، اور درہم کو درہم سے بیچو ان میں کمی بیشی نہ ہو، اور جس کو چاندی کی حاجت ہو تو وہ اس کو سونے سے بھنا لے، اور جس کو سونے کی حاجت ہو اس کو چاندی سے بھنا لے، لیکن یہ نقدا نقد ہو، ایک ہاتھ سے لے دوسرے ہاتھ سے دے ۔
It was narrated from ‘Umar bin Muhammad bin ‘Ali bin Abi Tâlib, from his father, that his grandfather said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Dinar for Dinar, Dirham for Dirham, with no increase between them. Whoever has need of silver, let him trade gold for it, and whoever has need of gold, let him trade silver for it, and let the transaction he done on the spot.” (Da’if)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں چاندی (جو قیمت میں ٹھہرتی) کے بدلے سونا لے لیتا، اور سونا (جو قیمت میں ٹھہرتا) کے بدلے چاندی لے لیتا، اور دینار درہم کے بدلے، اور درہم دینار کے بدلے لے لیتا تھا، پھر میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس سلسلے میں پوچھا کہ ایسا کرنا کیسا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم دونوں میں سے ایک لے لو اور دوسرا دیدے تو اپنے ساتھی سے اس وقت تک جدا نہ ہو جب تک کہ حساب صاف نہ ہوجائے ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "I used to sell camels, and I used to buy gold for silver and silver for gold, Dinar for Dirham and Dirham for Dinar. I asked the Prophet ﷺ about that,and he said: I will you take one of them and give the other, then you and your companion should not separate until everything is clear (i.e., the exchange is completed):" (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ١٤ (٣٣٥٤، ٣٣٥٥)، سنن الترمذی/البیوع ٢٤ (١٢٤٢)، سنن النسائی/البیوع ٤٨ (٤٥٨٦)، (تحفة الأشراف: ٧٠٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣، ٥٩، ٨٩، ١٠١، ١٣٩، ١٥٤)، سنن الدارمی/البیوع ٤٣ (٢٦٢٣) (ضعیف) (سماک بن حرب کے حفظ میں آخری عمر میں تبدیلی واقع ہوگئی تھی، اور کبھی رایوں کی تلقین قبول کرلیتے تھے اس لئے ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٣٢ )
اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
انظر ماقبلہ (ضعیف )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بغیر ضرورت مسلمانوں کے رائج سکہ کو توڑنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Alqamah bin Abdullah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade breaking the coins of the Muslims that are in circulation among them, without any necessary reason (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٥٠ ( ٣٤٤٩ )، (تحفة الأشراف: ٨٩٧٣ )، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٣ /٤١٩) (ضعیف) (سند میں محمد بن فضاء ضعیف اور ان کے والد مجہول ہیں )
بنی زہرۃ کے غلام زید ابوعیاش کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے پوچھا: سالم جَو کو چھلکا اتارے ہوئے جَو کے بدلے خریدنا کیسا ہے؟ سعد ؓ نے ان سے کہا: دونوں میں سے کون بہتر ہے؟ کہا: سالم جو، تو سعد ؓ نے مجھے اس سے روکا، اور کہا: رسول اللہ ﷺ سے جب تر کھجور کو خشک کھجور سے بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا: کیا تر کھجور سوکھ جانے کے بعد (وزن میں) کم ہوجاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے اس سے منع کیا۔
It was narrated from Abdullah bin Yazid, the freed slave of Al-Aswad bin Sufyan, that Zaid, Abu Ayyash, the freed slave of Bani Zuhrah, told him that he asked Sad bin Abu Waqqas about buying wheat with barley. Sad said to him: "Which of them is better?" He said: "Wheat." He told him not to do that and said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ being asked about buying fresh dates with dried dates, and he said: Do fresh dates decrease in weight when they become dry? They said: Yes. So he told them not to do that." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ١٨ (٣٣٥٩، ٣٣٦٠)، سنن الترمذی/البیوع ١٤ (١٢٢٥)، سنن النسائی/البیوع ٣٤ (٤٥٤٩)، (تحفة الأشراف: ٣٨٥٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ١٢ (٢٢)، مسند احمد (١/١٧٥، ١٧٩) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کی کھجور کو جو درختوں پر ہو خشک کھجور کے بدلے ناپ کر بیچے، یا انگور کو جو بیل پر ہو کشمش کے بدلے ناپ کر بیچے، اور اگر کھیتی ہو تو کھیت میں کھڑی فصل سوکھے ہوئے اناج کے بدلے ناپ کر بیچے آپ ﷺ نے ان سب سے منع کیا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade the Muzabanah. The Muzabanah means when a man sells the dates of his grove when they are still on the tree, for a measure of dry datespl or, if it is grapes, he sells them when they are still on the vine, for a measure of raisins; or if it is a crop, he sells it for food, estimating the amount (of the crop in the field). He forbade all of these things." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہ آخری صورت محاقلہ کہلاتی ہے، بیع محاقلہ: یہ ہے کہ گیہوں کا کھیت گیہوں کے بدلے بیچے، یا چاول کا کھیت چاول کے بدلے، غرض اپنی جنس کے ساتھ، اور یہ اس لئے منع ہوا کیونکہ اس میں کمی بیشی کا احتمال ہے۔
زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرایا کی بیع میں رخصت دی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Sâlim from his father: “Zaid bin Thâbit narrated to me that the Messenger of Allah ﷺ gave a concession regarding the sale of ‘Arayã.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بیع عرایا: یہ بیع بھی بیع مزابنہ ہے، لیکن نبی کریم ﷺ نے عرایا کی اجازت فقراء اور مساکین کے فائدے اور آرام کے لئے دی ہے، عرایا جمع ہے عریہ کی، یعنی کوئی آدمی اپنے باغ میں سے دو تین درخت کسی کو ہبہ کر دے، پھر اس کا باغ میں بار بار آنا پریشانی کا سبب بن جائے، اس لئے مناسب خیال کر کے ان درختوں کا پھل خشک پھل کے بدلے اس سے خرید لے، اور ضروری ہے کہ یہ پھل پانچ وسق ( ٧٥٠ کلو) سے کم ہو۔
زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عریہ کی بیع میں اجازت دی ہے کہ اندازہ سے اس کے برابر خشک کھجور کے بدلے خریدو فروخت کی جائے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ عریہ یہ ہے کہ ایک آدمی کھجور کے کچھ درخت اپنے گھر والوں کے کھانے کے لیے اندازہ کر کے اس کے برابر خشک کھجور کے بدلے خریدے۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that he said: "Zaid bin Thabit told me that the Messenger of Allah ﷺ gave a concession regarding the sale of the estima ted harvest of Araya in return for dried dates." (Sahih) Yahya (one of the narrators) said: "The Araya. is when a man purchases dates on the trees for food that his family has that is ripe by estimating them (the dates).”
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک حیوان کو دو حیوان کے بدلے نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور آپ ﷺ نے ایسا ادھار بیچنے کو ناپسند کیا ۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is nothing wrong with selling animals, one for two, hand to hand," but he disliked selling them on credit. (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٢١ ( ١٢٣٨ )، (تحفة الأشراف: ٢٦٧٦ )، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٣ /٣١٠، ٣٨٠ ، ٣٨٢ ) (صحیح) (ترمذی نے حدیث کی تحسین کی ہے، جب کہ حجاج بن أرطاہ ضعیف ہیں، اور ابوزبیر مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے، تو یہ تحسین شواہد کی وجہ سے ہے، بلکہ صحیح ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے الإرواء: ٢٤١٦) ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین صفیہ ؓ کو سات غلام کے بدلے خریدا ١ ؎۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا: دحیہ کلبی سے۔
It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ bought Safiyyah for seven slaves. (Sahih) (One of the narrators) Abdur-Rahman said: "From Dihyah Kalbi."
Notes · وضاحت
١ ؎: غزوہ خیبر کے قیدیوں میں ام المؤمنین صفیہ ؓ بھی تھیں جو ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بڑی خاندانی عورت تھیں، مال غنیمت کی تقسیم کے وقت وہ دحیہ کلبی ؓ کے حصہ میں آئیں، تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ صفیہ آپ کے لائق ہیں تو آپ ﷺ نے ان کو بلا کر دیکھا، اور دحیہ کلبی ؓ کو سات غلام دے کر ام المؤمنین صفیہ ؓ کو ان سے لے لیا، اور اپنے نکاح میں لائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٣٦٥)، سنن ابی داود/الخراج ٢١ (٢٩٩٧)، مسند احمد (٣/١١١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معراج کی رات میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے پیٹ مکانوں کے مانند تھے، ان میں باہر سے سانپ دکھائی دیتے تھے، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ سود خور ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "On the night in which I was taken on the Night Journey (AI-Isra), I came to people whose stomachs were like houses, in which there were snakes that could be seen from outside their stomachs. I said: Who are these, a Jibrail? He said: They are the ones who consumed usury. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٤٣، ومصباح الزجاجة: ٧٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٣، ٣٦٣) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سود ستر گناہوں کے برابر ہے جن میں سے سب سے چھوٹا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are seventy degrees of usury, the least of which is equivalent to a man having intercourse with his mother. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: ستر کی تعداد سے مراد گناہ کی زیادتی اور اس فعل کی شناعت و قباحت کا اظہار ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٠٧٣، ومصباح الزجاجة: ٧٩٩) (صحیح) (سند میں ابومعشر نجیح بن عبد الرحمن سندی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے )
عمر ؓ کہتے ہیں کہ آخری آیت جو نازل ہوئی، وہ سود کی حرمت والی آیت ہے، رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی، اور آپ ﷺ نے اس کی تفسیر ہم سے بیان نہیں کی، لہٰذا سود کو چھوڑ دو، اور جس میں سود کا شبہ ہو اسے بھی ١ ؎۔
It was narrated that Urnar bin Khattab said: "The last thing to be revealed was the Verse on usury, but the Messenger of Allah ﷺ died before he had explained it to us. So give up usury (interest) and doubtful things." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ سود کی آیت کے بعد اور کئی آیتیں اتریں، لیکن اس کو آخری اس اعتبار سے کہا کہ معاملات کے باب میں اس کے بعد کوئی آیت نہیں اتری، مقصد یہ ہے کہ سود کی آیت منسوخ نہیں ہے، اس کا حکم قیامت تک باقی ہے، اور نبی کریم ﷺ نے اس کی تفسیر نہیں کی یعنی جیسا چاہیے ویسا کھول کر سود کا مسئلہ بیان نہیں کیا، چھ چیزوں کا بیان کردیا کہ ان میں سود ہے: سونا، چاندی، گیہوں، جو، نمک، اور کھجور، اور چیزوں کا بیان نہیں کیا کہ ان میں سود ہوتا ہے یا نہیں، لیکن مجتہدین نے اپنے اپنے قیاس کے موافق دوسری چیزوں میں بھی سود قرار دیا، اب جن چیزوں کو نبی کریم ﷺ نے بیان کردیا ان میں تو سود کی حرمت قطعی ہے، کسی مسلمان کو اس کے پاس پھٹکنا نہ چاہیے، رہیں اور چیزیں جن میں اختلاف ہے تو تقوی یہ ہے کہ ان میں بھی سود کا پرہیز کرے، لیکن اگر کوئی اس میں مبتلا ہوجائے تو اللہ سے استغفار کرے اور حتی المقدور دوبارہ احتیاط رکھے، اور یہ زمانہ ایسا ہے کہ اکثر لوگ سود کھانے سے بچتے ہیں تو دینے میں گرفتار ہوتے ہیں، حالانکہ دونوں کا گناہ برابر ہے، اللہ ہی اپنے بندوں کو بچائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٤٥٤)، وقد أخرجہ: (حم (١/٣٦، ٤٩) (صحیح )