جانور کو جانور کے بدلہ میں کم وبیش لیکن نقد بیچنا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عُرْوَةَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى صَفِيَّةَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مِنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ.
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین صفیہ ؓ کو سات غلام کے بدلے خریدا ١ ؎۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا: دحیہ کلبی سے۔
It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ bought Safiyyah for seven slaves. (Sahih) (One of the narrators) Abdur-Rahman said: "From Dihyah Kalbi."
Notes · وضاحت
١ ؎: غزوہ خیبر کے قیدیوں میں ام المؤمنین صفیہ ؓ بھی تھیں جو ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بڑی خاندانی عورت تھیں، مال غنیمت کی تقسیم کے وقت وہ دحیہ کلبی ؓ کے حصہ میں آئیں، تو لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ صفیہ آپ کے لائق ہیں تو آپ ﷺ نے ان کو بلا کر دیکھا، اور دحیہ کلبی ؓ کو سات غلام دے کر ام المؤمنین صفیہ ؓ کو ان سے لے لیا، اور اپنے نکاح میں لائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٩٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٣٦٥)، سنن ابی داود/الخراج ٢١ (٢٩٩٧)، مسند احمد (٣/١١١) (صحیح )