ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ سود ادھار ہی میں ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ الرِّبْعِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَأْمُرُ بِالصَّرْفِ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ وَيُحَدَّثُ ذَلِكَ عَنْهُ، ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ فَلَقِيتُهُ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجَعْتَ، قَالَ: نَعَمْ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ رَأْيًا مِنِّي، وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنَّهُ نَهَى عَنِ الصَّرْفِ.
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس ؓ کو بیع صرف کے جواز کا حکم دیتے سنا، اور لوگ ان سے یہ حدیث روایت کرتے تھے، پھر مجھے یہ خبر پہنچی کہ انہوں نے اس سے رجوع کرلیا ہے، تو میں ان سے مکہ میں ملا، اور میں نے کہا: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس سے رجوع کرلیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، وہ میری رائے تھی، اور یہ ابوسعید ؓ ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بیع صرف سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Jawza: said: "I heard him - meaning Ibn Abbas - ailowing exchange (of Dirhams for Dirham etc., if extra was given) and that was narrated from him. Then I heard that he has taken back this opinion. I met him in Makkah and said: I heard that you had taken back (your opinion): He said: Yes. That was just my own opinion, but Abu Sa eed narrated from the Messenger of Allah ﷺ that he forbade exchange (of like items if extra is given).