ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کو جمعرات کی صبح کے وقت میں برکت عطا فرما ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "O Allah, bless my nation early in the morning of Thursday." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٧٩١، ومصباح الزجاجة: ٧٨٨) (ضعیف) (ابومروان بعض منکر احادیث روایت کرنے کی وجہ سے ضعیف راوی ہیں، نیز عبدالرحمٰن بن أبی الزناد مضطرب الحدیث ہیں، يَوْمَ الْخَمِيسِ کی زیادتی اس حدیث میں منکر ہے، جس کی زیادتی ضعیف راوی نے کی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے مصّرا ۃ خریدی تو اسے تین دن تک اختیار ہے، چاہے تو واپس کر دے، چاہے تو رکھے، اگر واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی واپس کرے ، سمراء (یعنی گیہوں) کا واپس کرنا ضروری نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever buys a Muhaffalah he has the choice (of annulling the deal) for three days. If he returns it, then he must also give a sa of dates, not Samra," Meaning wheat. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مصرا ۃ : ایسی بکری یا دودھ والا جانور جس کا دودھ ایک یا دو یا تین دن تک نہ دوہا جائے تاکہ دودھ تھن میں جمع ہوجائے اور خریدار دھوکہ کھا کر زیادہ قیمت میں اس جانور کو اس دھوکہ میں خرید لے کہ یہ بہت دودھ دینے والا جانور ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٥٦٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٦٤ (٢١٤٩)، ٦٥ (٢١٥١)، نحوہ دون ثلاثة أیام، صحیح مسلم/البیوع ٧ (١٥٢٥)، سنن ابی داود/البیوع ٤٨ (٣٤٤٤)، سنن النسائی/البیوع ١٢ (٤٤٩٤)، حصحیح مسلم/٢٤٨، ٣٩٤، ٤٦٠، ٤٦٥، سنن الدارمی/البیوع ١٩ (٢٥٩٥) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٣٣٧ ، ثَلاثَةَ أَيَّامٍ تین دن کی تحدید ثابت نہیں ہے
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگو! اگر کوئی محفَلہ (مصّرا ۃ ) کو بیچے تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر وہ اسے واپس کر دے تو اس کے دودھ کے دوگنا یا برابر گیہوں اس کو دے ۔
Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever buys a Muhaffalah,il he has the choice (of annulling the deal) for three days. If he returns it, then he must also give wheat equal to twice the amount of its milk, or equal to the amount of its milk" (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٤٨ (٣٤٤٦)، (تحفة الأشراف: ٦٦٧٥) (ضعیف) (سند میں جمیع بن عمیر ضعیف راوی ہیں )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں صادق و مصدوق ابوالقاسم ﷺ پر گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ہم سے بیان کیا، اور فرمایا: محفّلات کا بیچنا فریب اور دھوکہ ہے، اور مسلمان کو دھوکہ دینا حلال اور جائز نہیں ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Masud said: "I bear witness that the true and truly inspired one Abul-Qasim ; ﷺ told us: Selling a Muhaffalah is Khilabah, and Khilabah is not lawful for the Muslim:" (Ibn Majah said: "Meaning: Deception.") (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: محفّلات: جمع ہے محفلہ کی یعنی ایسے جانور جن کو کئی دنوں تک دوہا نہ گیا ہو، اور دودھ ان کے تھنوں میں جمع رہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٨٣، ومصباح الزجاجة: ٧٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٣٠، ٤٣٣) (ضعیف) (سند میں جابر جعفی ضعیف راوی ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ غلام کی کمائی اس کی ہے، جو اس کا ضامن ہو ١ ؎۔
It was narrated from ‘ Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ ruled that what a slave earns belongs to his guarantor. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، وہ کئی دن تک اس کے پاس رہا، پھر عیب کی وجہ سے یا شرط خیار کی بناء پر اس کو واپس کردیا، تو جتنے دن وہ غلام خریدار کے پاس رہا اتنے دن کی کمائی خریدار ہی کی ہوگی، اس لئے کہ خریدار ہی ان دنوں میں اس کا ضامن تھا، اگر وہ غلام خریدار کے پاس ہلاک ہوجاتا تو اسی کا نقصان ہوتا، بیچنے والے کا نقصان نہ ہوتا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا، پھر اس سے مزدوری کرائی، بعد میں اسے اس میں کوئی عیب نظر آیا، اسے بیچنے والے کو واپس کردیا، بیچنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرے غلام سے مزدوری کرائی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ فائدہ اسے ضمانت کی وجہ سے ہے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that a man bought a slave and put him to work, then he found some defect in him, so he returned him. He (the seller) said: "O Messenger of Allah, he put my slave to work" The Messenger of Allah ﷺ said: A slaves earnings belong to his guarantor." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: تو وہ اجرت خریدنے والے ہی کا حق ہے، اس لئے کہ وہ اس غلام کا ضامن تھا اگر وہ غلام اس کے پاس مرجاتا تو کیا اس کو قیمت واپس کردیتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧٣ (٣٥١٠)، سنن الترمذی/البیوع ٥٣ (١٢٨٦ تعلیقاً )، (تحفة الأشراف: ١٧٢٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٠، ١١٦) (حسن) (سند میں مسلمہ بن خالد زنجی ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٣١٥ )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیچنے والے پر غلام یا لونڈی کو واپس لینے کی ذمہ داری تین دن تک ہے ۔
It was narrated from Samurah bin Jundab that the Messenger of Allah ﷺ said: "The contractual obligation regarding a slave lasts for three days.(Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ٤٦٠٨، ومصباح الزجاجة: ٧٩٠) (ضعیف) (حسن بصری نے یہ حدیث سمرہ بن جندب ؓ سے نہیں سنی ہے، کیونکہ حدیث عقیقہ کے علاوہ کسی دوسری حدیث کا سماع ان سے صحیح نہیں ہے )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چار دن کے بعد بیچنے والا ذمہ دار نہیں ۔
Itwas narrated from Uqbah bin Amir that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no contractual obligation after four (days)." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧٢ (٣٥٠٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٣، ١٥٠، ١٥٢)، سنن الدارمی/البیوع ١٨ (٢٥٩٤) (ضعیف) (سند میں ہشیم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو، مگر یہ کہ وہ اس کو اس سے بیان کر دے ١ ؎۔
It was narrated that Uqbah bin Amir said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The Muslim is the brother of another Muslim, and it is not permissible for a Muslim to sell his brother goods in which there is a defect, without pointing that out to him:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عیب بیان کردینے کے بعد خریدار اس مال کو خریدے تو اس کو پھیرنے کا اختیار نہ ہوگا، اگر عیب نہ بیان کرے تو اختیار ہوگا، جب عیب معلوم ہو تو اس کو پھیر دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٤)، (تحفة الأشراف: ٩٩٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٨) (صحیح )
واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو کوئی عیب دار چیز بیچے اور اس کے عیب کو بیان نہ کرے، تو وہ برابر اللہ تعالیٰ کے غضب میں رہے گا، اور فرشتے اس پر برابر لعنت کرتے رہیں گے ۔
It was narrated that Wathilah bin Asqa said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever sells defective goods without pointing it out, he will remain subject to the wrath of Allah, and the angels will continue to curse him:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جة، (تحفة الأشراف: ١١٧٤٠، ١١٧٥٢، ومصباح الزجاجة: ٧٩٢) (ضعیف جدا) (سند میں کئی ضعیف راوی ہیں )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جب قیدی (جو آپس میں قریبی عزیز ہوتے) لائے جاتے، تو آپ ان سب کو ایک گھر کے لوگوں کو دے دیتے، اس لیے کہ آپ ان کے درمیان جدائی ڈالنے کو ناپسند فرماتے۔
It was narrated that Abdullah bin Masud said: "When captives were brought to him, the Prophet ﷺ would give the members of one family together (to one person), not wanting to separate them." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٣٦٩، ومصباح الزجاجة: ٧٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٩) (ضعیف) (سند میں جابر جعفی ضعیف راوی ہے )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو غلام ہبہ کئے جو دونوں سگے بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: دونوں غلام کہاں گئے ؟ میں نے عرض کیا: میں نے ایک کو بیچ دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو واپس لے لو ۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ gave me two slaves who were brothers, and I sold one of them. He said: What happened with the two slaves? I said: I sold one of them: He said: Take him back:" (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٥٢ (١٢٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٠٢) (ضعیف) (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف راوی ہیں، لیکن یہ مختصراً ابوداود میں صحیح ہے )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو ماں بیٹے، اور بھائی بھائی کے درمیان جدائی ڈال دے۔
It was narrated that Abu Musa said: "The Messenger of Allah ﷺ cursed the one who separates a mother and her child, or a brother from his brother." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: ٩١٠٤، ومصباح الزجاجة: ٧٩٥) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہیں )
عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء بن خالد بن ہوذہ ؓ نے کہا: کیا میں تم کو وہ تحریر پڑھ کر نہ سناؤں جو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے لکھی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ ضرور سنائیں، تو انہوں نے ایک تحریر نکالی، میں نے جو دیکھا تو اس میں لکھا تھا: یہ وہ ہے جو عداء بن خالد بن ہوذہ نے محمد ﷺ سے خریدا، عداء نے آپ سے ایک غلام یا ایک لونڈی خریدی، اس میں نہ تو کوئی بیماری ہے، نہ وہ چوری کا مال ہے، اور نہ وہ مال حرام ہے، مسلمان سے مسلمان کی بیع ہے ۔
It was narrated that Abdul.Majid bin Wahb said: "Adda bin Khalid bin Hawdhah said to me: Shall I not read to you a letter that the Messenger of Allah ﷺ wrote to me? I said: Yes. So he took out a letter. In it was: This is what Adda bin Khalid bin Hawdhah bought [from] Muhammad the Messenger of Allah ﷺ . He bought from him a slave - or - a female slave, having no ailments, nor being a runaway, nor having any malicious behavior. Sold by a Muslim to a Muslim:" (Hasan)
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لونڈی خریدے تو کہے: اللهم إني أسألک خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بک من شرها وشر ما جبلتها عليه اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی کا طالب ہوں، اور اس چیز کی بھلائی کا جو تو نے اس کی خلقت میں رکھی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس کی برائی سے، اور اس چیز کی برائی سے جو تو نے اس کی خلقت میں رکھی ہے اور برکت کی دعا کرے، اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کے اوپر کا حصہ پکڑ کر برکت کی دعا کرے، اور ایسا ہی کہے ۔
It was narrated from Amr bin Shuaib from his father that his grandfather told that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you buys a slave woman let him say: (O Allah, I ask You for the goodness within her and the goodness that You have made her inclined towards, and I seek refuge with You from the evil within her and the evil that You have made her inclined towards): And he should pray for blessing. And if anyone of you buys a camel then he should take hold of its hump and pray for blessing and say similar words." (Hasan)
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سونے کو سونے سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد، اور گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد، اور کھجور کا کھجور سے بیچنا سود ہے مگر نقدا نقد ١ ؎۔
It was narrated that Malik bin Aws bin Hadathan Nasri said: "I heard Umar bin Al-Khattab (RA) say: The Messenger of Allah ﷺ said: "Exchanging gold for gold is usury, unless it is done on the spot. (Exchanging) wheat for wheat is usury, unless it is done on the spot. (Exchanging) barley for barley is usury unless it is done on the spot. (Exchanging) dates for dates is usury, unless it is done on the spot." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں چار ہی چیزوں کا ذکر ہے، لیکن ابوسعید کی روایت میں جو صحیحین میں وارد ہے، دو چیزوں چاندی اور نمک کا اضافہ ہے، اس طرح ان چھ چیزوں میں تفاضل (کمی بیشی) اور نسیئہ (ادھار) جائز نہیں ہے، اگر ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے تو درست ہے، اور اگر ایک طرف سے بھی ادھار ہو تو یہ سود ہوجائے گا۔
مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت اور معاویہ ؓ دونوں کسی کلیسا یا گرجا میں اکٹھا ہوئے، تو عبادہ بن صامت ؓ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں چاندی کو چاندی سے، اور سونے کو سونے سے، اور گیہوں کو گیہوں سے، اور جو کو جو سے، اور کھجور کو کھجور سے بیچنے سے منع کیا ہے۔ (مسلم بن یسار اور عبداللہ بن عبید ان دونوں میں سے ایک نے کہا ہے: اور نمک کو نمک سے اور دوسرے نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے) اور ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم گیہوں کو جو سے اور جو کو گیہوں سے نقدا نقد (برابر یا کم و بیش) جس طرح چاہیں بیچیں۔
Muslim bin Yasar and Abdullah bin Ubaid said: "Ubadahh bin Samit and Muawiyah happened to meet, either in a church or in a synagogue. Ubadahh bin Samit narrated to them and said: The Messenger of Allah ﷺ forbade us from selling silver for silver, gold for gold, wheat for wheat, barley for barley, and dates for dates:" - one of them said: "And salt for salt," but the other did not say it. - "And he commanded us to sell Wheat for barley, or barley for Wheat, hand-to-hand, however we Wished." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٤١ (٤٥٦٤)، ٤٢ (٤٥٦٦)، (تحفة الأشراف: ٥١١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٢٠)، سنن الدارمی/البیوع ٤١ (٢٦٢١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چاندی کو چاندی سے، اور سونے کو سونے سے، اور جو کو جو سے اور گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: (Sell) silver for silver, gold for gold, barley for barley, wheat for wheat, like for like." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان میں تفاضل (کمی بیشی) درست نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١٥ (١٥٨٨)، سنن النسائی/البیوع ٤٤ (٤٥٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٢٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ١٢ (٢٠)، مسند احمد (٢/٢٣٢) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمیں مختلف قسم کی مخلوط کھجوریں کھانے کو دیتے تھے، تو ہم انہیں عمدہ کھجور سے بدل لیتے تھے، اور اپنی کھجور بدلہ میں زیادہ دیتے تھے، تو رسول ﷺ نے فرمایا: ایک صاع کھجور کو دو صاع کھجور سے اور ایک درہم کو دو درہم سے بیچنا درست نہیں، درہم کو درہم سے، اور دینار کو دینار سے، برابر برابر وزن کر کے بیچو، ان میں کمی بیشی جائز نہیں ۔
It was narrated that Abu Saeed said: "The Prophet ﷺ used to give us dates from the collection (mixed) dates, and we would exchange them for dates that were better, and we add to the price The Messenger of Allah ﷺ said: It is not right to give one Sir of dates for two sa, nor one Dirham for two Dirham. A Dirham for a Dirham and a Dinar for a Dinar Is allowed; the only difference between them is in weight (i.e., the weight must be equal.":(Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٢٠ (٢٠٨٠)، صحیح مسلم/البیوع ٣٩ (١٥٨٨)، سنن النسائی/البیوع ٣٩ (٤٥٥٩)، (تحفة الأشراف: ٤٤٢٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ١٢ (٢١)، مسند احمد (٣/٤٩، ٥٠، ٥١) (حسن صحیح )