انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پھل کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ پکنے کے قریب ہوجائے، اور انگور کی بیع سے منع کیا ہے یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوجائے، اور غلے کی بیع سے (بھی منع کیا ہے) یہاں تک کہ وہ سخت ہوجائے۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ forbade selling fruits until they have changed the color, and selling grapes until they have turned black, and selling grains until they have hardened. (Daif)
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے پھل بیچا، پھر اس کو کوئی آفت لاحق ہوئی، تو وہ اپنے بھائی (خریدار) کے مال سے کچھ نہ لے، آخر کس چیز کے بدلہ تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کا مال لے گا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever sells fruits then the crop fails, should not take any of his brothers money. Why would any of you take the money of his Muslim brother?" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل حدیث اور امام احمد نے اسی حدیث پر عمل کیا ہے، اور کہا ہے کہ پھلوں پر اگر ایسی آفت آجائے کہ سارا پھل برباد ہوجائے تو ساری قیمت بیچنے والے سے خریدنے والے کو واپس دلائی جائے گی اگرچہ یہ آفت خریدنے والے کا قبضہ ہوجانے کے بعد آئے۔
سوید بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ میں اور مخرفہ عبدی ؓ دونوں ہجر سے کپڑا لائے، تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے ہم سے پاجاموں کا مول بھاؤ کیا، ہمارے پاس ایک تولنے والا تھا جو اجرت لے کر تولتا تھا، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: او تولنے والے! تولو اور پلڑا جھکا کر تولو ١ ؎۔
It was narrated that Suwaid bin Qais said: “Makhrafah Al-’Abdi and brought linens from Hajar.’ The Messenger of Allah ﷺ came to us to bargain with us with some trousers. There was someone with me who weighed (the goods) in exchange for a wage. So the Prophet ﷺ said to the one weighing: ‘Weigh and add more.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ہجر: ایک مقام کا نام ہے، جو سعودی عرب کے مشروقی زون کے شہر احساء میں ہے۔
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے مالک ابوصفوان بن عمیرہ ؓ کو کہتے سنا کہ ہجرت سے پہلے میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ ایک پاجامہ بیچا، آپ نے مجھے قیمت تول کردی، اور جھکا کردی ١ ؎۔
It was narrated that SimAk bin Harb said: “I heard Malik, Abu Safwan bin ‘Umairah, say: ‘I bought a pair of trousers from the Messenger of Allah ﷺ before the Hijrah, and he weighed it for me and allowed more:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے پائجامہ قیمتاً خریدا، اور ظاہر یہ ہے کہ پہننے کے لئے خریدا، لیکن کسی صحیح حدیث سے صراحۃ یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نے پائجامہ پہنا، اور جس روایت میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے پائجامہ پہنا، اس کو لوگوں نے موضوع کہا ہے۔ (انجاح الحاجۃ)۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ والے ناپ تول میں سب سے برے تھے، اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: ويل للمطففين خرابی ہے کم تولنے والوں کے لیے الخ اتاری اس کے بعد وہ ٹھیک ٹھیک ناپنے لگے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “When the Prophet ﷺ came to Al-Madinah, they were the worst people in weights and measures. Then Allah, Glorious is He, revealed: “Woe to the Mutaffifun (those who give less in measure and weight)”, and they were fair in weights and measures after that. (Hasan)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو گیہوں (غلہ) بیچ رہا تھا، آپ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو وہ مغشوش (غیر خالص اور دھوکے والا گڑبڑ) تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: جو دھوکہ فریب دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ passed by a man who was selling food. He put his hand in it and saw that there was something wrong with it. The Messenger of Allah ﷺ said, ‘He is not one of us who cheats.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مغشوش: یعنی غیر خالص اور دھوکے والا یعنی گیہوں اندر سے گیلا تھا۔
ابوالحمراء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس ایک برتن میں گیہوں تھا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس گیہوں میں ڈالا پھر فرمایا: شاید تم نے دھوکا دیا ہے، جو ہمیں دھوکا دے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
It was narrated that Abu Hamra said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ pass by a man having food in a vessel. He put his hand in it and said: Perhaps you are cheating. Whoever cheats us is not one of us:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٩، ومصباح الزجاجة: ٧٨١) (ضعیف جدا) (سند میں ابوداؤد نفیع بن الحارث الاعمی متروک الحدیث راوی ہیں، امام+بخاری نے ابوالحمراء کے ترجمہ میں کہا کہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صحابی ہیں، ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، یعنی ابوداؤد الاعمی کے متروک الحدیث ہونے کی وجہ سے، نیز ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال للمزی ٣٣ / ٢٥٨)۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو گیہوں خریدے تو اس پر قبضہ کے پہلے اس کو نہ بیچے ۔ ابوعوانہ اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ابن عباس ؓ نے کہا: میں ہر چیز کو گیہوں ہی کی طرح سمجھتا ہوں۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever buys food, let him not sell it until he has taken full possession of it:" (Sahih) In his narration, (one of the narrators) Abu "Awanah said: "Ibn Abbas said: I think everything is like food:"
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اناج کو بیچنے سے منع کیا ہے جب تک اس میں بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کے صاع نہ چلیں ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade selling food bought by measure until two Sa have been measured - the Sit of the seller and the sa of the buyer.(Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: بیچنے والے اور خریدنے والے کے صاع (یعنی پیمانہ) چلنے کا مطلب یہ ہے کہ بیچنے والے نے خریدتے وقت اپنے صاع سے اس کو ماپا، اور خریدنے والا جب خریدے تو اس وقت ماپے، جب ماپ لے تو اب دوسرے کے ہاتھ بیچ سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٩٤١، ومصباح الزجاجة: ٧٨٢) (حسن) (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سواروں سے گیہوں (غلہ) کا ڈھیر بغیر ناپے تولے اندازے سے خریدتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کے بیچنے سے اس وقت تک منع کیا جب تک کہ ہم اسے اس کی جگہ سے منتقل نہ کردیں۔
It was narrated that Ibn Umar said: "We used to buy food from troops of riders (i.e., the caravans) without knowing the amount, but the Messenger of Allah ﷺ forbade us to sell it until it had been delivered to us." (Sahih)
عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ میں بازار میں کھجور بیچتا تھا، تو میں (خریدار سے) کہتا: میں نے اپنے اس ٹوکرے میں اتنا ناپ رکھا ہے، چناچہ اسی حساب سے میں کھجور کے ٹوکرے دے دیتا، اور جو زائد ہوتا نکال لیا کرتا تھا، پھر مجھے اس میں کچھ شبہ معلوم ہوا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم کہو کہ اس میں اتنے صاع ہیں تو اس کو خریدنے والے کے سامنے ناپ دیا کرو ۔
It was narrated that Uthman bin Affan said: "I used to sell dates in the marketplace, and I would say: This was such and such an amount (when I bought it). I would give the purchaser a specific amount of dates according to the way it had been measu.red for me, and take my profit. Then I began to have some doubts about that, so I asked the Messenger of Allah ﷺ , and he said: When you name the amount, measure it in front of the purchaser. (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٨٠٧، ومصباح الزجاجة: ٧٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٦٢، ٧٥) صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٣٣١ )
ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنا اناج ناپ لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ہوگی ۔
It was narrated from Abu Ayyub that the Prophet ﷺ said: "Measure your food, may you be blessed therein." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٩٠، ومصباح الزجاجة: ٧٨٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٥٢ (٢١٢٨)، مسند احمد (٤/١٣١، ٥/٤١٤) (صحیح) (اس سند میں بقیہ بن الولید مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن حدیث متابعت اور شواہد کی وجہ سے صحیح ہے )
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، وَعَلِيٌّ ابنا الحسن بن أبي الحسن البراد، أن الزبير بن المنذر بن أبي أسيد الساعدي حدثهما، أن أباه المنذر حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ، أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى سُوقِ النَّبِيطِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَيْسَ هَذَا لَكُمْ بِسُوقٍ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى سُوقٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَيْسَ هَذَا لَكُمْ بِسُوقٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا السُّوقِ، فَطَافَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا سُوقُكُمْ فَلَا يُنْتَقَصَنَّ وَلَا يُضْرَبَنَّ عَلَيْهِ خَرَاجٌ.
ابواسید ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نبی ط کے بازار تشریف لے گئے، اس کو دیکھا تو آپ نے فرمایا: یہ بازار تمہارے لیے نہیں ہے پھر ایک دوسرے بازار میں تشریف لے گئے، اور اس کو دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بازار بھی تمہارے لیے نہیں ہے، پھر اس بازار میں پلٹے اور اس میں ادھر ادھر پھرے، پھر فرمایا: یہ تمہارا بازار ہے، اس میں نہ مال کم دیا جائے گا اور نہ اس میں کوئی محصول (ٹیکس) عائد کیا جائے گا ۔
It was narrated that Abu Usaid said that the Messenger of Allah ﷺ went to the market of Nabit and looked at it, and said: "This is not a market for you." Then we went to another market and looked at it, and said: "This is not a market for you." Then he came back to this market and walked around in it, then he said: "This is your market. It will always be your market and no duty will be levied on it." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١١٩٩، ومصباح الزجاجة: ٧٨٦) (ضعیف) (سند میں اسحاق بن ابراہیم، محمد و علی اور زبیر بن منذر سب ضعیف ہیں )
سلمان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو صبح سویرے نماز فجر کے لیے گیا، وہ ایمان کا جھنڈا لے کر گیا، اور جو صبح سویرے بازار گیا وہ ابلیس کا جھنڈا لے کر گیا ۔
It was narrated that Salman said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: Whoever goes to the Morning prayer first thing in the morning, he goes out with the banner of faith, but whoever goes out to the marketplace first thing in the morning, he goes out under the banner of Iblis (Satan). (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٠٤، ومصباح الزجاجة: ٧٨٧) (ضعیف جدا) (سند میں عیسیٰ بن میمون منکر الحدیث اور متروک راوی ہے )
عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت دعا یہ پڑھے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير كله وهو على كل شيء قدير اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے حکمرانی ہے، اور اسی کے لیے ہر طرح کی حمد وثناء ہے، وہی زندگی، اور موت دیتا ہے، اور وہ زندہ ہے، اس کے لیے موت نہیں، اسی کے ہاتھ میں سارا خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھے گا، اور اس کی دس لاکھ برائیاں مٹا دے گا، اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر کرے گا ١ ؎۔
It was narrated from Salim bin Abdullah bin Umar, from his father, that his grandfather told that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever says, when he enters the marketplace: La ilaha mallah wahdahu Ia sharika lahu , lahul·mulk wa lahul-hamdu, yuhyi wa yumitu, wa Huwa hayyun la yamutu, bi yadihil·khairu kulluhu, wa Huwa ala kulli shayin Qadir (None has the right to be worshiped but Allah alone, with no partner, to Him belongs aU sovereignty and to Him is the praise, He gives life and gives death, and He is Ever-Living and does not die; in His Hand is all goodness and He is Able to do all things): Allah will record for him one million good deeds, and will erase from him one million bad deeds, and will build for him a house in Paradise." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: بازار میں اس دعا کا ثواب اس واسطے زیادہ ہوا کہ بازار دنیا میں مشغول ہونے اور اللہ سے غفلت کی جگہ ہے تو اس جگہ اللہ کو یاد رکھنا بڑے جواں مردوں کا کام ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ (سورہ النور: 37) دوسری روایت میں ہے کہ شیطان بازار میں اپنی کرسی بچھاتا ہے اور لوگوں کو بھڑکاتا ہے، تو وہاں اللہ کی یاد گویا شیطان کو ذلیل کرنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٣٦ (٣٤٢٩)، (تحفة الأشراف: ٦٧٨٧، ١٠٥٢٨)، وقد أخرجہ: (١/٤٧)، سنن الدارمی/الاستئذان ٥٧ (٢٧٣٤) (حسن) (سند میں عمرو بن دینار ضعیف راوی ہیں لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے )
صخر غامدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما اور جب آپ ﷺ کو کوئی سریہ یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو اسے دن کے ابتدائی حصہ ہی میں روانہ فرماتے ١ ؎۔ راوی کہتے ہیں: غامدی صخر تاجر تھے، وہ اپنا مال تجارت صبح سویرے ہی بھیجتے تھے بالآخر وہ مالدار ہوگئے، اور ان کی دولت بڑھ گئی۔
It was narrated from Sakhr Al-Ghamidi that the Messenger of Allah ﷺ said: "O Allah, bless my nation in their early mornings (i.e., what they do early in the morning).(Hasan) He said: "When he sent out a raiding party or an army, he would send them at the beginning of the day." He said "Sakhr was a man engaged in trade, and he used to send his goods out at the beginning of the day, and his wealth grew and increased.
Notes · وضاحت
١ ؎: سویرے سے مراد یہ ہے کہ صبح کی نماز کے بعد شروع دن میں کرے، یہ وقت برکت کا ہے، جو کام اس وقت کرے گا امید ہے کہ اس میں برکت ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجھاد ٨٥ (٢٦٠٦)، سنن الترمذی/البیوع ٦ (١٢١٢)، (تحفة الأشراف: ٤٨٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٦، ٤١٧، ٤٣٢، ٤/٣٨٤، ٣٩٠)، سنن الدارمی/السیر ١ (٢٤٧٩) (صحیح) (حدیث کا پہلا ٹکڑا اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، اور سند میں عمارہ بن حدید کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے، جو مجاہیل کی توثیق کرتے ہیں، اور ابن حجر نے مجہول کہا ہے، حدیث کے دوسرے ٹکڑے کو البانی صاحب نے سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ( ٤١٧٨ ) میں شاہد نہ ملنے کی وجہ سے ضعیف کہا ہے، جب کہ سنن ابی داود میں پوری حدیث کو صحیح کہا ہے، لیکن سنن ابن ماجہ میں تفصیل بیان کردی ہے، نیز اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے)۔