Sunan Ibne-Majah 2219

تجارت ومعاملات کا بیان

2219Sunan Ibne-Majah

کئی برس کیلئے میوہ بیچنا اور آفت کا بیان۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ بَاعَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْئًا عَلَامَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے پھل بیچا، پھر اس کو کوئی آفت لاحق ہوئی، تو وہ اپنے بھائی (خریدار) کے مال سے کچھ نہ لے، آخر کس چیز کے بدلہ تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کا مال لے گا ١ ؎۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever sells fruits then the crop fails, should not take any of his brothers money. Why would any of you take the money of his Muslim brother?" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اہل حدیث اور امام احمد نے اسی حدیث پر عمل کیا ہے، اور کہا ہے کہ پھلوں پر اگر ایسی آفت آجائے کہ سارا پھل برباد ہوجائے تو ساری قیمت بیچنے والے سے خریدنے والے کو واپس دلائی جائے گی اگرچہ یہ آفت خریدنے والے کا قبضہ ہوجانے کے بعد آئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٣ (١٥٥٤)، سنن ابی داود/البیوع ٦٠ (٣٤٧٠)، سنن النسائی/البیوع ٢٨ (٤٥٣١)، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٨)، وقد أ خرجہ: سنن الدارمی/البیوع ٢٢ (٢٥٩٨) (صحیح )