Sunan Ibne-Majah 2224

تجارت ومعاملات کا بیان

2224Sunan Ibne-Majah

ملاوٹ سے ممانعت۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا هُوَ مَغْشُوشٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو گیہوں (غلہ) بیچ رہا تھا، آپ نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا تو وہ مغشوش (غیر خالص اور دھوکے والا گڑبڑ) تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: جو دھوکہ فریب دے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ passed by a man who was selling food. He put his hand in it and saw that there was something wrong with it. The Messenger of Allah ﷺ said, ‘He is not one of us who cheats.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مغشوش: یعنی غیر خالص اور دھوکے والا یعنی گیہوں اندر سے گیلا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٥٢ (٣٤٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ٤٣ (١٠٢)، سنن الترمذی/البیوع ٧٤ (١٣١٥)، مسند احمد (٢/٢٤٢) (صحیح )