Sunan Ibne-Majah 2236

تجارت ومعاملات کا بیان

2236Sunan Ibne-Majah

صبح کے وقت میں متوقع برکت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا، قَالَ: وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً، أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ، قَالَ: وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ.

صخر غامدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما اور جب آپ ﷺ کو کوئی سریہ یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو اسے دن کے ابتدائی حصہ ہی میں روانہ فرماتے ١ ؎۔ راوی کہتے ہیں: غامدی صخر تاجر تھے، وہ اپنا مال تجارت صبح سویرے ہی بھیجتے تھے بالآخر وہ مالدار ہوگئے، اور ان کی دولت بڑھ گئی۔

It was narrated from Sakhr Al-Ghamidi that the Messenger of Allah ﷺ said: "O Allah, bless my nation in their early mornings (i.e., what they do early in the morning).(Hasan) He said: "When he sent out a raiding party or an army, he would send them at the beginning of the day." He said "Sakhr was a man engaged in trade, and he used to send his goods out at the beginning of the day, and his wealth grew and increased.

Notes · وضاحت
١ ؎: سویرے سے مراد یہ ہے کہ صبح کی نماز کے بعد شروع دن میں کرے، یہ وقت برکت کا ہے، جو کام اس وقت کرے گا امید ہے کہ اس میں برکت ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجھاد ٨٥ (٢٦٠٦)، سنن الترمذی/البیوع ٦ (١٢١٢)، (تحفة الأشراف: ٤٨٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٦، ٤١٧، ٤٣٢، ٤/٣٨٤، ٣٩٠)، سنن الدارمی/السیر ١ (٢٤٧٩) (صحیح) (حدیث کا پہلا ٹکڑا اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، اور سند میں عمارہ بن حدید کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے، جو مجاہیل کی توثیق کرتے ہیں، اور ابن حجر نے مجہول کہا ہے، حدیث کے دوسرے ٹکڑے کو البانی صاحب نے سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ( ٤١٧٨ ) میں شاہد نہ ملنے کی وجہ سے ضعیف کہا ہے، جب کہ سنن ابی داود میں پوری حدیث کو صحیح کہا ہے، لیکن سنن ابن ماجہ میں تفصیل بیان کردی ہے، نیز اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے)۔