Sunan Ibne-Majah 2246

تجارت ومعاملات کا بیان

2246Sunan Ibne-Majah

معیوب چیز بیچتے وقت عیب ظاہر کردینا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ إِلَّا بَيَّنَهُ لَهُ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو، مگر یہ کہ وہ اس کو اس سے بیان کر دے ١ ؎۔

It was narrated that Uqbah bin Amir said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The Muslim is the brother of another Muslim, and it is not permissible for a Muslim to sell his brother goods in which there is a defect, without pointing that out to him:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: عیب بیان کردینے کے بعد خریدار اس مال کو خریدے تو اس کو پھیرنے کا اختیار نہ ہوگا، اگر عیب نہ بیان کرے تو اختیار ہوگا، جب عیب معلوم ہو تو اس کو پھیر دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٤)، (تحفة الأشراف: ٩٩٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٨) (صحیح )