مقررہ ناپ تول میں مقررہ مدت تک سلف کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: امْتَرَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَمِ فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، فَسَأَلْتُهُ؟، فَقَالَ: كُنَّا نُسْلِمُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَهْدِ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، عِنْدَ قَوْمٍ مَا عِنْدَهُمْفَسَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
عبداللہ بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبرزہ ؓ کے درمیان بیع سلم کے سلسلہ میں جھگڑا ہوگیا، انہوں نے مجھے عبداللہ ابن ابی اوفی ؓ کے پاس بھیجا، میں نے جا کر ان سے اس کے سلسلے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اور ابوبکرو عمر ؓ کے عہد میں گیہوں، جو، کشمش اور کھجور میں ایسے لوگوں سے بیع سلم کرتے تھے جن کے پاس اس وقت مال نہ ہوتا، پھر میں نے ابن ابزیٰ ؓ سے سوال کیا، تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا۔
It was narrated that Abu Mujalid said: "Abdullah bin Shaddad and Abu Barzah had a dispute about paying in advance . They sent me to Abdullah bin Abu Awfa to ask him about it. He said: We used to make payments in advance at the time of the Messenger of Allah ﷺ and the time of Abu Bakr (RA) and Umar, for wheat, barley, raisins and dates, to people who did not yet possess those things. I asked Ibn Abza, and he said something similar." (Sahih)