Sunan Ibne-Majah 2293

تجارت ومعاملات کا بیان

2293Sunan Ibne-Majah

بیوی کیلئے خاوند کا مال لینے کی کس حد تک گنجائش ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ لَا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَقَالَ: خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہند ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہیں، مجھے اتنا نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کے لیے کافی ہو سوائے اس کے جو میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال میں سے لے لوں (اس کے بارے میں فرمائیں؟ ) تو آپ ﷺ نے فرمایا: مناسب انداز سے اتنا لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لیے کافی ہو ۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "Hind came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, Abu Sufyan (RA) is a stingy man and he does not give me enough for me and my child, except for what I take from his wealth without him realizing. He said: Take what is sufficient for you and your child, on a reasonable basis. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأقضیة ٤ (١٧١٤)، سنن ابی داود/البیوع ٨١ (٣٥٣٢)، سنن النسائی/آداب القضاة ٣٠ (٥٤٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٢٦١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٩٥ (٢٢١١)، المظالم ١٨ (٢٤٦٠)، النفقات ٥ (٥٣٥٩)، ٩ (٥٣٦٤)، ١٤ (٥٣٧٠)، الأیمان ٣ (٦٦٤١)، الأحکام ١٤ (٧١٦١)، ٢٨ (٧١٨٠)، مسند احمد (٦/٣٩، ٥٠، ٢٠٦)، سنن الدارمی/النکاح ٥٤ (٥٣٦٤) (صحیح )