ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ کا غبار، اور جہنم کا دھواں، دونوں کسی مسلمان کے پیٹ میں اکٹھا نہ ہوں گے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the prophet said: "The dust (of Jihad) in the cause of Allah and the smoke of Hell will never be combined in the interior of a Muslim." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جس نے جہاد میں گرد و غبار کھایا ہے وہ ضرور جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایک شام بھی اللہ کی راہ میں چلا، تو جتنا غبار اس پر پڑا قیامت کے دن اس کے لیے اتنی ہی مشک ہوگی ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever goes out in the cause of Allah will have the equivalent of the dust that got on him, in musk, on the Day of Resurrection." (Hasan)
انس بن مالک ؓ اپنی خالہ ام حرام بنت ملحان ؓ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز میرے قریب سوئے، پھر آپ ﷺ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے لائے گئے جو اس سمندر کے اوپر اس طرح سوار ہو رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں ، ام حرام ؓ نے کہا: اللہ سے آپ دعا کر دیجئیے کہ وہ مجھے بھی ان ہی لوگوں میں سے کر دے، انس ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرما دی، پھر آپ ﷺ دوبارہ سو گئے، پھر ویسے ہی ہوا، آپ اٹھے تو ہنستے ہوئے، اور ام حرام ؓ نے وہی پوچھا جو پہلی بار پوچھا تھا، اور آپ ﷺ نے انہیں وہی جواب دیا جو پہلی بار دیا تھا، اس بار بھی انہوں نے عرض کیا: آپ اللہ سے دعا کر دیجئیے کہ وہ مجھے بھی انہی لوگوں میں سے کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم پہلے لوگوں میں سے ہو ۔ انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت ؓ کے ہمراہ جہاد کے لیے نکلیں، یہ پہلا موقع تھا کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ کے ساتھ مسلمان بحری جہاد پر گئے تھے چناچہ جب لوگ جہاد سے لوٹ رہے تھے تو شام میں رکے، ام حرام ؓ کی سواری کے لیے ایک جانور لایا گیا، جس نے انہیں گرا دیا، اور وہ فوت ہوگئیں ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that his maternal aunt Umm Haram bint Milhan said: "The Messenger of Allah ﷺ slept near me one day, then he woke up smiling. I said: O Messenger of Allah, what has made you smile? He said: People of my nation who were shown to me (in my dream) riding across this sea like kings on thrones. I said: Supplicate to Allah to make me one of them." So he prayed for her. Then he slept again, and did likewise, and she said the same as she said before, and he replied in the same manner. She said: "Pray to Allah to make me one of them," and he said: "You will be one of the first ones." He said: "Then she went au t with her husband, "Ubadahh bin Samit, as a fighter, the first time that the Muslims crossed the sea with Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) . On their way back, after they had finished fighting, they stopped in Sham. An animal was brought near for her to ride it, but it threw her off, and she died." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کے کئی معجزے مذکور ہیں: ایک تو اس بات کی پیش گوئی کہ اسلام کی ترقی ہوگی، دوسرے مسلمان سمندر میں جا کر جہاد کریں گے، تیسرے ام حرام ؓ بھی ان مسلمانوں کے ساتھ ہوں گی اور اس وقت تک زندہ رہیں گی، چوتھے پھر ام حرام ؓ کا انتقال ہوجائے گا اور دوسرے لشکر میں شریک نہیں ہو سکیں گی، یہ سب باتیں جو آپ ﷺ نے فرمائی تھیں پوری ہوئیں، اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی کھلی دلیلیں ہیں جو شخص نبی نہ ہو وہ ایسی صحیح پیشین گوئیاں نہیں کرسکتا، سب قوموں سے پہلے عرب کے مسلمانوں نے ہی سمندر میں بڑے بڑے سفر شروع کئے اور علم جہاز رانی میں وہ ساری قوموں کے استاد بن گئے، مگر افسوس ہے کہ گردش زمانہ سے اب یہ حال ہوگیا کہ عرب تمام علوم میں دوسری قوموں سے پیچھے رہ گئے ہیں، اور جو لوگ جاہل اور کم علم تھے یعنی یورپ کے لوگ وہ تمام جہاں کے لوگوں سے دنیاوی علوم و فنون میں سبقت لے گئے ہیں: وتلک الأيام نداولها بين الناس (سورة آل عمران: 140) اب بھی اگر مسلمانوں کی ترقی منظور ہے تو عربوں میں علوم اور فنون پھیلانے کی کوشش کرنی چاہیے، اور ان کو تمام جنگی علوم و فنون کی تعلیم دینا چاہیے، جب عرب پھر علوم میں ماہر ہوجائیں گے تو دنیا کی تمام اقوام کو ہلاکر رکھ دیں گے، یہ شرف اللہ تعالیٰ نے صرف عربوں ہی کو دیا ہے۔ واضح رہے کہ ام حرام بنت ملحان انصاریہ ؓ انس بن مالک کی خالہ ہیں، ان کی شادی عبادہ بن صامت ؓ سے ہوئی تھی جن کے ساتھ وہ اس جہاد میں شریک ہوئیں اور سمندر کا سفر کیا بعد میں ایک جانور کی سواری سے گر کر انتقال ہوا اور قبرص میں دفن ہوئیں، یہ جنگ عثمان ؓ کے عہد میں معاویہ ؓ کی قیادت میں سن ٢٧ ہجری میں واقع ہوئی، ابوذر اور ابوالدرداء وغیرہ صحابہ کرام ؓ اس جنگ میں شریک تھے، معاویہ ؓ کی اہلیہ فاختہ بنت قرظہ ؓ بھی اس جنگ میں شریک تھیں۔
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک بحری (سمندری) جہاد دس بری جہادوں کے برابر ہے، اور سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے خون میں لوٹ رہا ہو ۔
It was narrated from Abu Darda that the Messenger of Allah ﷺ said: "A military expedition by sea is like ten expeditions by land. The one who suffers from seasickness is like one who gets drenched in his own blood in the cause of Allah." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٠١، ومصباح الزجاجة: ٩٨٤) (ضعیف) (سند میں معاویہ بن یحییٰ اور ان کے شیخ لیث بن ابی سلیم دونوں ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٢٣٠ )
ابواسامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: سمندر کا شہید خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے، سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ خشکی میں اپنے خون میں لوٹنے والے کی مانند ہے، اور ایک موج سے دوسری موج تک جانے والا اللہ کی اطاعت میں پوری دنیا کا سفر کرنے والے کی طرح ہے، اللہ تعالیٰ نے روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت (عزرائیل) کو مقرر کیا ہے، لیکن سمندر کے شہید کی جان اللہ تعالیٰ خود قبض کرتا ہے، خشکی میں شہید ہونے والے کے قرض کے علاوہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں، لیکن سمندر کے شہید کے قرض سمیت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔
It was narrated that Sulaim bin Amir said: I heard Abu Umamah saying: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "The martyr at sea is like two martyrs on land, and the one who suffers seasickness is like one who gets drenched in his own blood on land. The time spent between one wave and the next is like a lifetime spent in obedience to Allah. Allah has appointed the Angel of death to seize souls, except for the martyr at sea, for Allah Himself seizes their souls. He forgives the martyrs on land for all sins except debt, but (He forgIves) the martyr at sea all his sins and his debt." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٧٢، ومصباح الزجاجة: ٩٨٥) (ضعیف جدا) (سند میں عفیر بن معدان شامی سخت ضعیف روای ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١١٥ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن باقی رہا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ میرے خاندان کے ایک فرد کی حکومت قائم ہو، اور پھر وہ دیلم پہاڑ اور شہر قسطنطنیہ پر قابض ہوجائے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Even if there was only one day left of this world, Allah would make it last until a man from my household took possession of (the mountain of) Dailam and Constantinople."(Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٨٤١، ومصباح الزجاجة: ٩٨٦) (ضعیف) (سند میں قیس بن الربیع ضعیف راوی ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب تم ملکوں کو فتح کرو گے اور عنقریب تم ایک ایسا شہر فتح کرو گے جسے قزوین کہا جاتا ہے جو اس میں چالیس دن یا چالیس رات سرحد کی نگرانی کرے گا، اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک ستون ہوگا، جس پر سبز زمرد لگا ہوگا، پھر اس ستون پر سرخ یا قوت کا قبہ ہوگا جس کے ستر ہزار سونے کے چوکھٹے (دروازے) ہوں گے، اور ہر چوکھٹے پر بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے ایک بیوی ہوگی ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever goes out in the cause of Allah will have the equivalent of the dust that got on him, in musk, on the Day of Resurrection." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٨٦، ومصباح الزجاجة: ٩٨٧) (موضوع) (سند میں یزید بن ابان، ربیع بن صبیح اور داود بن المحبر ضعیف راوی ہیں، یزید وضع حدیث کرتا تھا، ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور یزید بن ابان کو اس سلسلے میں متہم کیا ہے، اور ابن ماجہ پر اس حدیث کی تخریج پر اظہار تعجب کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٨١ )
معاویہ بن جاہمہ سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا: میں اللہ کی رضا اور دار آخرت کی بھلائی کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: افسوس، کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: واپس جاؤ، اور اپنی ماں کی خدمت کرو پھر میں دوسری جانب سے آیا، اور میں نے عرض کیا: میں اللہ کی رضا جوئی اور دار آخرت کی خاطر آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے ؟ میں نے پھر کہا: ہاں! اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے پاس واپس چلے جاؤ اور اس کی خدمت کرو ، پھر میں آپ ﷺ کے سامنے سے آیا اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ کی رضا اور دار آخرت کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: افسوس، کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ میں نے جواب دیا: ہاں! اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: افسوس! اس کے پیر کے پاس رہو، وہیں جنت ہے ۔
It was narrated that Muawiyah bin Jahimah As-Sulami said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, I want to go for Jihad with you, seeking thereby the Face of Allah and the Hereafter: He said: Woe to you! Is your mother still alive? r said: Yes: He said: Go back and honor her: Then I approached him from the other side and said: O Messenger of Allah, I want to go for Jihad with you, seeking thereby the Face of Allah and the Hereafter: He said: Woe to you! Is your mother still alive? I said: Yes. He said: Go back and honor her: Then I approached him from in front and said: O Messenger of Allah, I want to go for Jihad with you, seeking thereby the Face of Allah and the Hereafter: He said: Woe to you! Is your mother still alive? I said: Yes: He said: Go back and serve her, for there is Paradise. (Sahih) Another chain with similar wording. (Sahih) Abu Abdullah Ibn Majah said: "This person Jahimah bin Abbas bin Mirdas As-Sulami is the one who rebuked the Prophet ﷺ on the Day of Hunain.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجہاد ٦ (٣١٠٦)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٩) (حسن صحیح )
اس سند سے بھی معاویہ بن جاھمہ ؓ نے اسی جیسی حدیث ذکر کی ہے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ جاھمہ بن عباس بن مرداس سلمی ہیں، جو رسول اللہ ﷺ سے جنگ حنین کے موقعہ پر (مال غنیمت کی تقسیم کے وقت) ناراض ہوگئے تھے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ جہاد کے ارادے سے آیا ہوں، جس سے میرا مقصد رضائے الٰہی اور آخرت کا ثواب ہے، لیکن میں اپنے والدین کو روتے ہوئے چھوڑ کر آیا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے پاس واپس لوٹ جاؤ اور جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Amr said: "A man came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, I have come seeking to go out in Jihad with you, seeking thereby the Face of Allah and the Hereafter. I have come even though my parents are weeping. He said: Go back to them and make: them smile as you have made them weep. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: ماں کا حق اس حدیث سے معلوم کرنا چاہیے کہ اس کے پاؤں کے پاس جنت ہے، ماں کی خدمت کو آپ ﷺ نے جہاد پر مقدم رکھا، ماں باپ جہاد کی اجازت دیں تو آدمی جہاد کرسکتا ہے ورنہ جب تک وہ زندہ ہیں ان کی خدمت کو جہاد پر مقدم رکھے، ان کے مرنے کے بعد پھر اختیار ہے، ماں کا حق اتنا بڑا ہے کہ جہاد جیسا فریضہ اور اسلام کا رکن بغیر اس کی اجازت کے ناجائز ہے۔ جلیل القدر محترم بزرگ اویس قرنی (رح) اپنی بوڑھی ماں کی خدمت میں مصروف رہے اور نبی کریم ﷺ کی زیارت کے لئے نہ آسکے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے وفات پائی۔ جو لوگ اپنے ماں باپ کو ستاتے، ان کو ناراض کرتے ہیں وہ ان حدیثوں پر غور کریں، اگر ماں باپ ناراض رہیں گے تو جنت کا ملنا دشوار ہے، جو اپنے ماں باپ کو ناراض کرتا ہے، ایسے شخص کی دنیاوی زندگی بھی بڑی خراب گزرتی ہے، یہ امر تجربہ اور مشاہدہ سے معلوم ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بہادری کی شہرت کے لیے لڑتا ہے، اور جو خاندانی عزت کی خاطر لڑتا ہے، اور جس کا مقصد ریا و نمود ہوتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے کلمے کی بلندی کے مقصد سے جو لڑتا ہے وہی مجاہد فی سبیل اللہ ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Musa said: "The Prophet ﷺ l was asked about a man who fights to prove his courage, or out of pride and honor for his close relatives, or to show off. The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever fights so that the Word of Allah may be supreme is the one who (is fighting) in the cause of Allah. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بہادری کے اظہار کے لیے اور خاندانی شہرت و جاہ کے لیے یا ریاکاری اور دکھاوے کے لیے یا دنیا اور مال و ملک کے لئے جس میں کوئی دینی مصلحت نہ ہو لڑنا جہاد نہیں ہے، اسلام کے بول بالا کے لیے اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے اللہ کو راضی کرنے کے لیے جو جہاد ہوگا وہ اسلامی جہاد ہوگا، اور وہی اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہوگا، اگلے لوگوں میں اگر کبھی جہاد کے دوران اللہ کے سوا کسی اور کا خیال بھی آجاتا تو لڑائی چھوڑ دیتے تھے۔
ابوعقبہ ؓ جو کہ اہل فارس کے غلام تھے کہتے ہیں کہ میں جنگ احد میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حاضر تھا، میں نے ایک مشرک پر یہ کہتے ہوئے حملہ کیا کہ لے میرا یہ وار، میں فارسی جوان ہوں، اس کی خبر جب نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ لے میرا یہ وار اور میں انصاری نوجوان ہوں ۔
It was narrated that Abu Uqbah, who was the freed slave of Some Persian people, said: "I was present with the Prophet ﷺ on the Day of Uhud. I struck a rnan from among the idolators and said: Take that! And I am a Persian slave! News of that reached the Prophet ﷺ and he said: Why did you not say: "Take that! And I am an Ansari slave!?" (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٢١ (٥١٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٠٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٩٥) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن أبی عقبہ ضعیف اور محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوے سنا: لشکر کی جو ٹکڑی اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور مال غنیمت پالے، تو سمجھو اس نے ثواب کا دو تہائی حصہ تو دنیا ہی میں حاصل کرلیا، لیکن اگر مال غنیمت نہیں ملتا تو ان کے لیے پورا ثواب ہوگا ۔
‘Abdullâh bin ‘Aim said: “I heard the Prophet ﷺ say: ‘There is no band of warriors that fights in the cause of Allah and acquires war spoils, but they have been given two thirds of their reward, but if they do not get any spoils of war, then they will have their reward in full (in the Hereafter).’” (Sahih)
عروہ بارقی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی پر قیامت تک خیر و برکت بندھی ہوئی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Urwah Al-Bariqi that the Messenger of Allah ﷺ said: "Goodness is tied to the forelocks of horses until the Day of Resurrection." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جو گھوڑا جہاد کی نیت سے رکھا جائے، اس کا کھلانا پلانا چرانا سب اجر ہی اجر ہے، اور ہر ایک میں گھوڑے کے مالک کو ثواب ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر و برکت بندھی ہوئی ہے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “There is goodness in the forelocks of horses until the Day of Resurrection.” (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی میں بھلائی ہے یا فرمایا: گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر اور بھلائی بندھی ہوئی ہے، گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں، ایک شخص کے لیے وہ اجر و ثواب ہیں، ایک کے لیے ستر (پردہ) ہیں، اور ایک کے واسطے عذاب ہیں، (پھر آپ نے تفصیل بیان کی) اس شخص کے لیے تو باعث اجر و ثواب ہیں جو انہیں اللہ کی راہ میں جہاد کی غرض سے رکھے، اور انہیں تیار کرے، چناچہ ان کے پیٹ میں جو چیز بھی جائے گی وہ اس شخص کے لیے نیکی شمار ہوگی، اگر وہ انہیں گھاس والی زمین میں بھی چرائے گا تو جو وہ کھائیں گے اس کا ثواب اسے ملے گا، اگر وہ انہیں بہتی نہر سے پانی پلائے گا تو پیٹ میں جانے والے ہر قطرے کے بدلے اسے ثواب ملے گا، حتیٰ کہ آپ نے ان کے پیشاب اور لید (گوبر) میں بھی ثواب بتایا، اگر وہ ایک یا دو میل دوڑیں تو بھی ہر قدم کے بدلے جسے وہ اٹھائیں گے ثواب ملے گا، اور جس شخص کے لیے گھوڑے ستر (پردہ) ہیں وہ ہے جو انہیں عزت اور زینت کی غرض سے رکھتا ہے، لیکن ان کی پیٹھ اور پیٹ کے حق سے تنگی اور آسانی کسی حال میں غافل نہیں رہتا، لیکن جس شخص کے حق میں یہ گھوڑے گناہ ہیں وہ شخص ہے جو غرور، تکبر، فخر اور ریا و نمود کی خاطر انہیں رکھتا ہے، تو یہی وہ گھوڑے ہیں جو اس کے حق میں گناہ ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is goodness in the forelocks of horses" - or he said: "There is goodness tied in the forelocks of horses." Suhail (one of the narrators) said: "I am not certain of - "until the Day of Resurrection. And horses are of three types: those that bring reward to a man, those that are a means of protection for a man, and those that are a burden (of sin) for a man. As for those that bring reward, a man keeps them in the cause of Allah and keeps them constantly ready (for lihiitf), so they do not take any fodder into their stomachs but a reward will be written for him, and if he puts them out to pasture, they do not eat anything but reward will be written for him. If he gives them to drink from a flowing river, for every drop that enters their stomachs there will be reward," (continuing) until he mentioned reward in conjunction with their ruine and droppings, and even when they run here and there by themselves, for each step they take reward will be written for him - As for those that are a means of protection, a man keeps them because they are a source of dignity and adornment, but he does not forget the rights of their backs and stomachs (i.e., their right not to be overworked and their right to be fed) whether at times of their difficulty or ease. As for those that bring a burden (of sin), the one who keeps them for purposes of wrongdoing or for pomp and show before people, is the one for whom they bring a burden of sin." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: سواری کا حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان اس کو ضرورت کی وجہ سے مانگے تو اسے دے یا کوئی پریشان مسلمان راہ میں ملے تو اس کو سوار کرلے، اور بعضوں نے کہا: ان کی زکاۃ ادا کرے، لیکن جمہور علماء کے نزدیک گھوڑوں میں زکاۃ نہیں ہے اور پیٹ کا حق یہ ہے کہ ان کے پانی چارے کی خبر اچھی طرح رکھے اگر ہمیشہ ممکن نہ ہو تو کبھی کبھی خود اس کی دیکھ بھال کرے۔
ابوقتادہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کالا گھوڑا جس کی پیشانی، ہاتھ، پیر، ناک اور اوپر کا ہونٹ سفید ہوں، اور دایاں ہاتھ باقی جسم کی طرح ہو، سب سے عمدہ ہے، اگر وہ کالا نہ ہو تو انہیں صفات والا سرخ سیاہی مائل گھوڑا عمدہ ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Qatadah Al-Ansari that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best of horses are those that are deep black, with a blaze on the forehead, white marks on the legs and white nose and upper lip, and with no whiteness on the right foreleg. If not deep-black, then reddish- brown, with these markings." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کمیت ہو سفید پیشانی یا کمیت سفید ہاتھ پاؤں یا کمیت سفید لب اور بینی یا کمیت صرف جس کا دایاں ہاتھ سفید ہو، یہ سب عمدہ قسمیں ہیں، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مشکی رنگ گھوڑوں کے سب رنگوں میں عمدہ ہے، اور حقیقت میں اس رنگ والا گھوڑا نہایت مضبوط اور محنتی ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجہاد ٢٠ (١٦٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٠٠)، سنن الدارمی/الجہاد ٣٥ (٢٤٧٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کے تین پیر سفید اور ایک پیر کا رنگ باقی جسم کا ہو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Huairah said: "The Prophet ﷺ used to dislike horses that had three legs with white markings on them, and one leg the same color as the rest of the body." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: شکال: وہ یہ ہے کہ تین پاؤں سفید ہوں ایک سارے بدن کے رنگ پر ہو، اس کو ارجل بھی کہتے ہیں، اب تک گھوڑے والے ایسے رنگ کو مکروہ اور نامبارک سمجھتے ہیں، مگر عوام میں یہ مشہور ہے کہ اگر پیشانی پر بھی سفیدی ہو تو شکال ضرر نہیں کرتا، لیکن حدیث مطلق ہے اور بعضوں نے کہا کہ شکال یہ ہے کہ داہنا ہاتھ سفید ہو تو بایاں پاؤں سفید ہو یا بایاں ہاتھ سفید نہ ہو تو داہنا پاؤں سفید ہو واللہ اعلم
تمیم داری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے گھوڑا باندھا، پھر دانہ چارہ اپنے ہاتھ سے کھلایا، تو اس کے لیے ہر دانے کے بدلے ایک نیکی ہوگی ۔
It was narrated that Tamim Ad-Dari said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever ties a horse in the cause of Allah, then feeds it with his OWnhand, he will have one merit for every grain. (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٥٩، ومصباح الزجاجة: ٩٨٨) (صحیح) (سند میں محمد بن عقبہ بیٹے، باپ اور دادا سب مجہول ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے )
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوے سنا: جو مسلمان شخص اللہ کے راستے میں اونٹنی کا دودھ دوھنے کے درمیانی وقفہ کے برابر لڑا، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ١ ؎۔
Muadh bin Jabal narrated that he heard the Prophet ﷺ say: "Any Muslim who fights in the cause of Allah for the time between two milkings of a shecamel, he will be guaranteed Paradise." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اونٹنی کا دددھ دوھنے کے درمیانی وقفہ سے مراد یا تو وہ ٹھہرنا ہے جو ایک وقت سے دوسرے وقت تک ہوتا ہے مثلاً صبح کو دودھ دوہ کر پھر شام کو دوہتے ہیں تو صبح سے شام تک لڑے یہ مطلب ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ ٹھہرنا مراد ہے جو دودھ دوہنے میں تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ہیں تاکہ اور دودھ تھن میں اتر آئے، پھر دوہتے ہیں یہ چار پانچ منٹ ہوتے ہیں، تو مطلب یہ ہوگا کہ جو کوئی اتنی دیر تک بھی اللہ کی راہ میں کافروں سے لڑا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ سبحان اللہ جہاد کی فضیلت کا کیا کہنا۔