انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک لڑائی میں حاضر ہوا، تو عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا: اے میرے نفس! میرا خیال ہے کہ تجھے جنت میں جانا ناپسند ہے، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تجھے جنت میں خوشی یا ناخوشی سے جانا ہی پڑے گا ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Mâlik said: “I was present in war, and ‘Abdullâh bin Rawâhah said: ‘O soul of mine! I see that you do not want to go to Paradise. I swear by Allah that you surely will enter it, willingly or unwillingly.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی راہ میں شہید ہوگا اور شہادت جنت میں جانے کا سبب بنے گی، مگر نفس کو ناپسند ہے اس لئے کہ دنیا کی لذتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے، عبداللہ بن رواحہ ؓ نے جیسے قسم کھائی تھی ویسا ہی ہوا وہ جنگ موتہ میں شہید ہوئے جہاں جعفر بن ابی طالب اور زید بن حارثہ ؓ بھی شہید ہوئے اور اوپر ایک حدیث میں گزرا کہ اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کو سچا کرے، عبد اللہ بن رواحہ بھی ایسے ہی بندوں میں تھے، ؓ وارضاہ۔
عمرو بن عبسہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور میں نے آپ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے، اور جس کے گھوڑے کو بھی زخمی کردیا جائے ١ ؎۔
It was narrated that Amr bin Abasah said: "I came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, which Jihad is best? He said: (That of a man) whose blood is shed and his horse is wounded. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پوری شہادت ہو خود بھی مارا جائے، اور گھوڑا بھی، یا اللہ تو ہمیں بھی راہ حق، اور خدمت دین میں شہادت نصیب فرما، اور موت کی تکالیف سے اور ہر ایک بیماری اور درد کے صدمہ سے بچا۔ آمین۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥٧، ومصباح الزجاجة: ٩٩٠)، وقد أخرحہ: مسند احمد (٤/١١٤) (صحیح) (سند میں محمد بن ذکوان اور شہر بن حوشب ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہونے والا شخص (اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہو رہا ہے) قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم بالکل اسی دن کی طرح تازہ ہوگا جس دن وہ زخمی ہوا تھا، رنگ تو خون ہی کا ہوگا، لیکن خوشبو مشک کی سی ہوگی۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no one who is wounded in the cause of Allah - and Allah knows best who is wounded in His cause - but he will come on the Day of Resurrection with his wounds looking as they did on the day he was wounded; their color will be the color of blood but their smell will be the fragrance of musk." (Sahih)
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (کفار کے) گروہوں پر بد دعا کی، اور یوں فرمایا: اے اللہ! کتاب کے نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے، گروہوں کو شکست دے، اے اللہ! انہیں شکست دے، اور جھنجوڑ کر رکھ دے (کہ وہ پریشان و بےقرار ہو کر بھاگ کھڑے ہوں) ١ ؎۔
Ismail bin Abu Khalid said: "I heard Abdullah bin Abu Awfa say: The Messenger of Allah ﷺ supplicated to Allah against the Confederates (AI-Ahzab) and said: O Allah, Who has sent down the Book and is Swift in bringing to account, destroy the Confederates. O Allah, destroy them and shake them. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جب جنگ میں کافروں کی فوجیں بہت ہوں تو یہی دعا پڑھنی چاہیے، نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا جنگ احزاب میں کی تھی، یعنی غزوہ خندق میں جب کفار و مشرکین کے گروہ دس ہزار کی تعداد میں مدینہ منورہ پر چڑھ آئے تھے اور مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مرتبے پر پہنچا دے گا، گرچہ وہ اپنے بستر ہی پر فوت ہوا ہو ١ ؎۔
Sahl bin Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif narrated from his father, from his grandfather that the Prophet ﷺ said: "Whoever asks Allah for martyrdom, sincerely from his heart, Allah will cause him to reach the status of the martyrs even if he dies in his bed." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس کی نیت شہادت کی تھی اور نی ۃ المومن خیر من عملہ مشہور ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے شہیدوں کا ذکر آیا، تو آپ نے فرمایا: زمین شہید کا خون خشک بھی نہیں کر پاتی کہ اس کی دونوں بیویاں ان دائیوں کی طرح اس پر جھپٹتی ہیں، جنہوں نے غیر آباد مقام میں اپنے بچے کھو دئیے ہوں، ہر بیوی کے ہاتھ میں ایسا جوڑا ہوتا ہے جو دنیا اور دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) : "Mention of the martyrs was made in the presence of the Prophet ﷺ and he said:The earth does not dry of the blood of the martyr until his two wives rush to him like two wet nurses who lost their young ones in a stretch of barren land, and in the hand of each one of them will be a Hullah that is better than this world and everything in it. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٥٠٠، ومصباح الزجاجة: ٩٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩٧، ٤٢٧) (ضعیف جدا) (ہلال بن أبی زینب مجہول اور شہر بن حوشب ضعیف ہیں، شعبہ نے شہر سے روایت ترک کردی تھی )
مقدام بن معد یکرب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے یہاں شہید کے لیے چھ بھلائیاں ہیں: ١ ۔ خون کی پہلی ہی پھوار پر اس کی مغفرت ہوجاتی ہے، اور جنت میں اس کو اپنا ٹھکانا نظر آجاتا ہے ٢ ۔ عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے، ٣ ۔ حشر کی بڑی گھبراہٹ سے مامون و بےخوف رہے گا، ٤ ۔ ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے، ٥ ۔ حورعین سے نکاح کردیا جاتا ہے، ٦ ۔ اس کے اعزہ و اقرباء میں سے ستر آدمیوں کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے ۔
It was narrated from Miqdam bin Madikarib that the Messenger of Allah ﷺ said: "The martyr has six things (in store) with Allah: He is forgiven from the first drop of his blood that is shed; he is shown his place in Paradise; he is spared the torment of the grave; he is kept safe from the Great Fright; he is adorned with a garment of faith; he is married to (wives) from among the wide-eyed houris ; and he is permitted to intercede for seventy of his relatives."(Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ٢٥ (١٦٦٣)، (تحفة الأشراف: ١١٥٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣١) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ جب جنگ احد میں (ان کے والد) عبداللہ بن عمرو بن حرام ؓ قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جابر! اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے جو فرمایا ہے کیا میں تمہیں وہ نہ بتاؤں ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! ضرور بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی سے بات کی تو پردہ کے پیچھے سے لیکن تمہارے والد سے آمنے سامنے بات کی، اور کہا: اے میرے بندے! مجھ سے اپنی خواہش کا اظہار کرو، میں تجھے عطا کروں گا، انہوں نے کہا: اے میرے رب! تو مجھے دوبارہ زندہ کر دے کہ میں دوبارہ تیرے راستے میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بات کا پہلے ہی فیصلہ ہوچکا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا، انہوں نے کہا: اے میرے رب! میرے پسماندگان کو (میرا حال) پہنچا دے، تو یہ آیت نازل ہوئی: ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا (سورۃ آل عمران: ١٦٩ ) جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں تم مردہ مت سمجھو ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin " Abdullah (RA) : "When Abdullah bin Amr bin Haram was killed, on the Day of Uhud, the Messenger of Allah ﷺ said: 0) Jabir, shall I not tell you what Allah said to your father? I said: Yes. He said: Allah does not speak to anyone except from behind a screen, but He spoke to your father face to face and said: "O My slave, ask Me and I shall give you." He said: "O my Lord, bring me back to life so that I may be killed for Your sake a second time." He said: I have already decreed that they will not return (to the world after death)." He said: "O Lord, convey (the good news about my state) to those whom I have left behind." So Allah revealed this Verse: Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے بدھ مت والوں اور ہندؤں کا مذہب باطل ہوتا ہے، ان کے نزدیک سب آدمی اپنے اپنے اعمال کے موافق سزا اور جزا پا کر پھر دنیا میں جنم لیتے ہیں، مگر جو پرم ہنس یعنی کامل فقیر اللہ کی ذات میں غرق ہوجاتا ہے اس کا جنم نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٥٧ (ألف)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن (٣٠١٠)، تقدم برقم: ١٩٠ (حسن )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون کے بارے میں (رسول اللہ ﷺ سے) سوال کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں جنت میں جہاں چاہیں چلتی پھرتی ہیں، پھر شام کو عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، ایک بار کیا ہوا کہ روحیں اسی حال میں تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جھانکا پھر فرمانے لگا: تمہیں جو چاہیئے مانگو، روحوں نے کہا: ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں چلتی پھرتی ہیں، اس سے بڑھ کر کیا مانگیں؟ جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر مانگے خلاصی نہیں تو کہنے لگیں: ہمارا سوال یہ ہے کہ تو ہماری روحوں کو دنیاوی جسموں میں لوٹا دے کہ ہم پھر تیرے راستے میں قتل کئے جائیں، اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگ رہی ہیں تو چھوڑ دیا ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah concerning the Verse: "Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision that he said: "We asked about that and (the Prophet ﷺ ) said: Their souls are like green birds that fly wherever they wish in Paradise, then they corne back to lamps suspended from the Throne. While they were like that, your Lord looked at them and said, "Ask me for whatever you want." They said: "O Lord, what should we ask You for when we can fly wherever we wish in Paradise?" When they saw that they would not be left alone until they had asked for something, they said: "We ask You to return our souls to our bodies in the world so that we may fight for Your sake (again)." When He saw that they would not ask for anything but that, they were left alone. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل کئے جائیں ان کو مردہ مت سمجھو بلکہ وہ اپنے مالک کے پاس زندہ ہیں، ان کو روزی ملتی ہے، اس آیت سے شہیدوں کی زندگی اور ان کی روزی ثابت ہوئی، اور دوسری آیتوں اور حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حقیقت میں بدن سے روح کے نکلنے کا نام موت ہے، نہ یہ کہ روح کا فنا ہوجانا پس جب روح باقی ہے اور فنا نہیں ہوئی، تو زندگی بھی باقی ہے، البتہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ دنیا کی سی زندگی ہے، بلکہ شاید دنیاوی زندگی سے زیادہ قوی اور طاقتور ہو، اگر کوئی اعتراض کرے کہ جب سب لوگ زندہ ہیں تو پھر شہداء کی کیا خصوصیت ہے؟ حالانکہ اس آیت سے ان کی خصوصیت نکلتی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ شہداء کی خصوصیت اور ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ زندہ بھی ہیں اور اللہ کے پاس معظم و مکرم بھی، ان کو جنت کے پھل روز کھانے کو ملتے ہیں، یہ سب باتیں اوروں کے لئے نہ ہوں گی، مگر دوسری حدیث میں ہے کہ مومنوں کی روحیں چڑیوں کے لباس میں جنت میں چلتی پھرتی ہیں، اس میں سارے مومن داخل ہوگئے، اور ایک حدیث میں ہے کہ قبر میں جنت کی طرف ایک راستہ مومن کے لئے کھول دیا جائے گا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت تک مومن کی روح وہیں رہے گی، غرض روح کے مسکن کے باب میں علماء کے بہت اقوال ہیں جن کو امام ابن القیم (رح) نے تفصیل سے حادی الأرواح إلی بلاد الأفراح میں ذکر کیا ہے، اور سب سے زیادہ راجح قول یہی ہے کہ مومنوں کی روحیں جنت میں ہیں، اور کافروں کی جہنم میں، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٣ (١٨٨٧) سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤ (٣٠١١)، (تحفة الأشراف: ٩٥٧٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجہاد ١٩ (٢٤٥٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہید کو قتل سے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی کہ تمہیں چیونٹی کاٹنے سے ہوتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The martyr does not feel anything more when he is killed than one of you feels if he is pmched (by a bug)," (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بہت ہلکا اور خفیف صدمہ ہوتا ہے جس کا احساس نہیں ہوتا اور یہ ہلکا صدمہ بھی مرتے ہی جاتا رہتا ہے، پھر تو طرح طرح کے عیش اور آرام نصیب ہوتے ہیں، یہاں تک کہ دوبارہ مارے جانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے، یا اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے موت کو ہم پر آسان کر دے کہ چیونٹی کے کاٹنے کی طرح بھی معلوم نہ ہو۔
جابر بن عتیک ؓ سے روایت ہے کہ وہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم ﷺ بیمار پرسی (عیادت) کے لیے تشریف لائے، ان کے اہل خانہ میں سے کسی نے کہا: ہمیں تو یہ امید تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں شہادت کی موت مریں گے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تب تو میری امت کے شہداء کی تعداد بہت کم ہے! (نہیں ایسی بات نہیں بلکہ) اللہ کے راستے میں قتل ہونا شہادت ہے، مرض طاعون میں مرجانا شہادت ہے، عورت کا زچگی (جننے کی حالت) میں مرجانا شہادت ہے، ڈوب کر یا جل کر مرجانا شہادت ہے، نیز پسلی کے ورم میں مرجانا شہادت ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Abdullah bin Jabir bin Atik, from his father, that his grandfather fell sick and the Prophet ﷺ came to visit him. One of his family members said: "We hoped that when he died it would be as a martyr in the cause of Allah." The Messenger of Allah ﷺ said: "In that case the martyrs of my nation would be few. Being killed in the cause of Allah is martyrdom; dying of the plague is martyrdom; when a pregnant woman dies in childbirth that is martyrdom; and dying by drowning, or burning, or of pleurisy, is martyrdom." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ ان سب کو شہیدوں کا ثواب اور درجہ ملے گا گرچہ ان کے احکام شہید کے سے نہیں ہیں، اس لئے ان کو غسل دیا جائے گا، ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اس پر بھی بڑا شہید وہی ہے جو اللہ کی راہ یعنی جہاد میں مارا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ١٥ (٣١١١)، سنن النسائی/الجنائز ١٤ (١٨٤٧)، الجہاد ٣٩ (٣١٩٦)، (تحفة الأشراف: ٣١٧٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١٢ (٣٦)، مسند احمد (٥/٤٤٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: تم شہید کسے سمجھتے ہو ؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کے راستے میں مارا جانا (شہادت ہے) فرمایا: تب تو میری امت میں بہت کم شہید ہوں گے ! (پھر آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ایسی بات نہیں بلکہ) جو اللہ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ کے راستے میں مرجائے وہ بھی شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے، طاعون کے مرض میں مرنے والا شہید ہے ۔ سہیل کہتے ہیں: مجھے عبیداللہ بن مقسم نے خبر دی وہ ابوصالح سے روایت کرتے ہیں، اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: اور ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “What do you say among yourselves about the martyr?” They said: “The one who is killed in the cause of Allah.” He said: “In that case the martyrs among my nation would be few. Whoever is killed in the cause of Allah is a marty whoever dies in the cause of Allah is a martyr; whoever dies of a stomach disease is a martyr and whoever dies of the plague is a martyr.” (One of the narrators) Suhail said: “Ubaidullâh bin Miqsam said: ‘It was also narrated from Abu Sâhh, who added: And the one who dies by drowning is a martyr.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٣٢ (٦٥٢)، صحیح مسلم/الإمارة ٥١ (١٩١٤) (صحیح )
سلیمان بن حبیب کہتے ہیں کہ ہم ابوامامہ ؓ کے پاس گئے، تو وہ ہماری تلواروں میں چاندی کا کچھ زیور دیکھ کر غصہ ہوگئے، اور کہنے لگے: لوگوں (صحابہ کرام) نے بہت ساری فتوحات کیں، لیکن ان کی تلواروں کا زیور سونا چاندی نہ تھا، بلکہ سیسہ، لوہا اور علابی تھا۔ ابوالحسن قطان کہتے ہیں: علابی: اونٹ کا پٹھا (چمڑا) ہے۔
Sulaiman bin Habib said: "We entered upon Abu Umamah and he saw some silver ornaments on our swords. He got angry and said: People conquered lands and their swords were not adorned with gold and silver, but with lead and iron and Azabi. Abul-Hasan Al-Qattan said: Alabi means a nerve. (Sahih)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر کے دن اپنی ذوالفقار نامی تلوار (علی ؓ کو) انعام میں دی ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ acquired his sword DhuIfiqa:, from the spoils of war on the Day of Badr. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ انعام بطور نفل تھا اور نفل اس انعام کو کہتے ہیں جو کسی مجاہد کو اس کی کارکردگی اور بہادری کے صلہ میں حصہ سے زیادہ دیا جاتا ہے، یہ تلوار پہلے عاص بن امیہ کی تھی جو بدر کے دن کام آیا، پھر یہ رسول اکرم ﷺ کے پاس آئی، آپ نے اسے علی ؓ کو دے دیا، اور ان کے پاس یہ تلوار ان کے فوت ہونے تک رہی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ١٢ (١٥١٦)، (تحفة الأشراف: ٥٨٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٦١، ٢٧١) (صحیح )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ ؓ جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کے لیے جاتے تو اپنے ساتھ برچھا لے جاتے، اور لوٹتے وقت اسے پھینک دیتے، انہیں دینے کے لیے کوئی اسے اٹھا لاتا، اس پر علی ؓ نے کہا: آپ کی یہ حرکت میں رسول اللہ ﷺ کو ضرور بتاؤں گا، تو مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کہا: ایسا نہ کریں، کیونکہ اگر آپ نے ایسا کیا تو گمشدہ چیز اٹھائی نہیں جائے گی ۔
It was narrated that Ali Ibn Abi Talib (RA) said: "When Mughirah bin Shubah fought alongside the Prophet ﷺ he would carry a spear, and when he would come back he would throw his spear down so that someone would pick it up and give it back to him." Ali said to him: "I will tell the Messenger of Allah ﷺ about that." He (the Prophet ﷺ ) said: "Do not do that, for if you do that it will not be picked up as a lost item to be returned. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بن ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٢، ومصباح الزجاجة: ٩٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٤٨) (ضعیف الإسناد) (ابواسحاق مدلس اور مختلط ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ابو خلیل عبد اللہ بن أبی الخلیل مقبول عند المتابعہ ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں ہے، تو وہ لین الحدیث ہوئے، امام بخاری نے فرمایا کہ ان کی متابعت نہیں کی جائے گی )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں ایک عربی کمان تھی، اور ایک شخص کے ہاتھ میں آپ نے فارسی کمان دیکھی تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ اسے پھینک دو، اور اس طرح کی رکھو، اور نیزے رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ان دونوں کے ذریعہ سے دین کو ترقی دے گا، اور تمہیں دوسرے ملکوں کو فتح کرنے پر قادر بنا دے گا ۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ had an arabian bow his hand, and he saw a man who had a Persian bow in his hand. He said: What is this? Throw it away. You should use this and others like it, and Qanal spears. Perhaps Allah will support His religion thereby and enable you to conquer lands. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٣٢٦، ومصباح الزجاجة: ٩٩٥) (ضعیف الاسناد) (عبداللہ بن بشر الحبرانی ضعیف راوی ہیں )
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایک تیر کے سبب اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: ثواب کی نیت سے اس کے بنانے والے کو، چلانے والے کو، اور ترکش سے نکال نکال کردینے والے کو ، نیز آپ ﷺ نے فرمایا: تیر اندازی کرو، اور سواری کا فن سیکھو، میرے نزدیک تیر اندازی سیکھنا سواری کا فن سیکھنے سے بہتر ہے، مسلمان آدمی کا ہر کھیل باطل ہے سوائے تیر اندازی، گھوڑے کے سدھانے، اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے کے، کیونکہ یہ تینوں کھیل سچے ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Uqbah bin Amir Al-Juhani that the Prophet ﷺ said. "Allah will admit three people to Paradise by virtue of one arrow: The one who makes it, seeking reward by making it well; the one who shoots it; and the one who hands it to him." And the Messenger of Allah ﷺ said. "Shoot and ride, and if you shoot that is dearer to me than if you ride. All things that a Muslim man does for entertainment are in vain except for shooting arrows, training his horse and playing with his wife, for these are things that bring reward." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ کھیل بےکار اور لغو نہیں ہیں، پہلے دونوں کھیلوں میں آدمی جہاد کے لئے مستعد اور تیار ہوتا ہے اور اخیر کے کھیل میں اپنی بیوی سے الفت ہوتی ہے، اولاد کی امید ہوتی ہے جو انسان کی نسل قائم رکھنے اور بڑھانے کے لئے ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١١ (١٦٣٧، ١٦٣٨)، (تحفة الأشراف: ٩٩٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٤، ١٤٨، سنن الدارمی/الجہاد ١٤ (٢٤٤٩) (ضعیف) (وكل ما يلهو به کا لفظ صحیح ہے، اور آخری جملہ فإنهن من الحق ثابت نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحة: ٣١٥ )
عمرو بن عبسہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو دشمن کو تیر مارے، اور اس کا تیر دشمن تک پہنچے، ٹھیک لگے یا چوک جائے، تو اس کا ثواب ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔
It was narrated that Amr bin Abasah said. "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever shoots an arrow at the enemy and his arrow reaches the enemy, whether it hits him or not, that is equivalent to him freeing a slave. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٧٦٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١١ (١٦٣٨) (صحیح )