عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر آیت کریمہ: وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة (سورۃ الانفال: ٦٠ ) دشمن کے لیے طاقت بھر تیاری کرو کو پڑھتے ہوئے سنا: (اس کے بعد آپ ﷺ فرما رہے تھے:) آگاہ رہو! طاقت کا مطلب تیر اندازی ہی ہے یہ جملہ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا۔
Itwas narrated that Uqbah bin Amir Al-Juhani said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ i reciting On the pulpit And make ready Another name for spear. or a type of spear. against them all you can of power. (And saying that) three times-Power means shooting." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جنگجو کفار و مشرکین اور اعداء اسلام کے مقابلہ کے لئے ہمیشہ اپنی طاقت کو بڑھاتے رہو، اور ہر وقت جنگ کے لئے مستعد رہو گو جنگ نہ ہو، اس لئے کہ معلوم نہیں دشمن کس وقت حملہ کر بیٹھے، ایسا نہ ہو کہ دشمن تمہاری طاقت کم ہونے کے وقت غفلت میں حملہ کر بیٹھے اور تم پر غالب ہوجائے، افسوس ہے کہ مسلمانوں نے قرآن شریف کو مدت سے بالائے طاق رکھ دیا، ہزاروں میں سے ایک بھی مسلمان ایسا نظر نہیں آتا جو قرآن کو اس پر عمل کرنے کے لئے سمجھ کر پڑھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٥٢ (١٩١٧)، سنن ابی داود/الجہاد ٢٤ (٢٥١٤)، (تحفة الأشراف: ٩٩١١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٩ (٣٠٨٣)، مسند احمد (٤/١٥٧)، سنن الدارمی/الجہاد ١٤ (٢٤٤٨) (صحیح )
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے تیر اندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا، تو اس نے میری نافرمانی کی ١ ؎۔
It was narrated that Uqbah bin Amir Al-Juhani said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever learns how to shoot (arrows) then abandons it, has disobeyed me." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ جب کوئی ہتھیار چلانے کا علم سیکھے تو کبھی کبھی اس کی مشق کرتا رہے چھوڑ نہ دے تاکہ ضرورت کے وقت کام آئے اب تیر کے عوض بندوق اور توپ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٧١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد ٢٤ (٢٥١٣)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١١ (١٦٣٧)، سنن النسائی/الجہاد ٢٦ (٣١٤٨)، الخیل ٨ (٣٦٠٨)، مسند احمد (٤/١٤٤، ١٤٦، ١٤٨، ١٥٤، سنن الدارمی/الجہاد ١٤ (٢٤٤٩) (ضعیف) (فقد عصانی کے لفظ سے ضعیف ہے، اور فلیس منّا کے لفظ سے صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسماعیل کی اولاد! تیر اندازی کرو، تمہارے والد (اسماعیل) بڑے تیر انداز تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “The Prophet ﷺ passed by some people who were shooting (arrows) and said: ‘Shoot, Banu Ismâ’il, for your father was an archer.’” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اسماعیل (علیہ السلام) کو ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) فاران کے میدان یعنی مکہ کی چٹیل زمین میں چھوڑ کر چلے آئے تھے وہ وہیں بڑے ہوئے، اور ان کو شکار کا بہت شوق تھا، اور بڑے تیر انداز اور بہادر تھے، تو نبی کریم ﷺ نے عربوں کو بھی تیر اندازی کی اس طرح سے ترغیب دی کہ یہ تمہارا آبائی پیشہ ہے اس کو خوب بڑھاؤ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٢٨، ومصباح الزجاجة: ٩٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٤) (صحیح )
حارث بن حسان ؓ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو نبی اکرم ﷺ کو منبر پر کھڑے دیکھا، اور بلال ؓ آپ کے سامنے گلے میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے، پھر اچانک ایک کالا بڑا جھنڈا دکھائی دیا، میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عمرو بن العاص ؓ ہیں جو ایک غزوہ سے واپس آئے ہیں۔
It was narrated that Harith bin Hassan said: "I came to AIMadinah and saw the Prophet ﷺ standing on the pulpit, and Bilal (RA) standing in front of him, with his sword by his side, and (I saw) a black flag. I said: Who is this? He said: This is Amr bin As, who has just come back from a campaign." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٥١ (٢) (٣٢٧٣، ٣٢٧٤)، (تحفة الأشراف: ٣٢٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٨٢) (حسن )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا بڑا جھنڈا کالا اور چھوٹا جھنڈا سفید تھا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the flag of the Messenger of Allah ﷺ was black, and his standard was white. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں رایہ اور لواء کا لفظ ہے، رایہ یعنی بڑا جھنڈا کالا تھا، اور لواء چھوٹا جھنڈا سفید تھا، اس سے معلوم ہوا کہ امام کو لشکروں کو ترتیب دینا اور جھنڈے اور نشان بنانا مستحب ہے۔
اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ریشم کی گھنڈیاں لگا ہوا جبہ نکالا اور کہنے لگیں: دشمن سے مقابلہ کے وقت نبی اکرم ﷺ اسے پہنتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Umar, the freed slave of Asma, from Asma bint Abi Bakr, that she brought out a cloak edged with brocade and said: "The Prophet ﷺ used to wear this when he met the enemy." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر اہل علم کے نزدیک لڑائی میں ریشمی کپڑا پہننا جائز ہے کیونکہ تلوار ریشم کو مشکل سے کاٹتی ہے، حریر اور دیباج میں یہ فرق ہے کہ دیباج خالص ریشم ہوتا ہے اور حریر میں ریشم ملا ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس و الزینة ٢ (٢٠٦٩)، سنن ابی داود/اللباس ١٢ (٤٠٥٤)، سنن النسائی/الکبری الزینة (٩٦١٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٧، ٣٤٨، ٣٥٣)، الأدب المفرد (٣٤٨) (صحیح) (اس کی سند میں حجاج بن ارطاہ ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، کما فی التخریج )
عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ حریر اور دیباج (ریشمی کپڑوں کے استعمال) سے منع کرتے تھے مگر جو اتنا ہو، پھر انہوں نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا، پھر دوسری سے پھر تیسری سے پھر چوتھی سے، اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ اس سے ہمیں منع فرمایا کرتے تھے۔
It was narrated from Umar that he used to forbid silk and brocade except that which was like that, then he gestured with his finger, then his second finger then his third, then his fourth, and said: "The Messenger of Allah ﷺ used to forbid that to us." (Sahih)
عمرو بن حریث ؓ کہتے ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ کے سر پر سیاہ عمامہ (کالی پگڑی) ہے جس کے دونوں کنارے آپ اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں ١ ؎۔
Jafar bin Amr bin Huraith narrated that his father said: "It is as if I can see the Messenger of Allah ﷺ , wearing a black turban, with its two ends hanging between his shoulders." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عمامہ باندھنا سنت ہے اور کئی حدیثوں میں اس کی فضیلت آئی ہے، اور عمامہ میں شملہ لٹکانا بہتر ہے لیکن ہمیشہ نہیں، نبی کریم ﷺ نے کبھی شملہ لٹکایا ہے کبھی نہیں، اور بہتر یہ ہے کہ شملہ پیٹھ کی طرف لٹکائے اور کبھی داہنے ہاتھ کی طرف، لیکن بائیں ہاتھ کی طرف لٹکانا سنت کے خلاف ہے اور شملہ کی مقدار چار انگل سے لے کر ایک ہاتھ تک ہے اور آدھی پیٹھ سے زیادہ لٹکانا اسراف اور فضول خرچی اور خلاف سنت ہے، اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کالے رنگ کا عمامہ باندھنا مسنون ہے۔
خارجہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو اپنے والد سے اس شخص کے بارے میں سوال کرتے دیکھا، جو جہاد کرنے جائے اور وہاں خریدو فروخت کرے اور تجارت کرے، تو میرے والد نے اسے جواب دیا: ہم جنگ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے آپ ہمیں خریدو فروخت کرتے دیکھتے لیکن منع نہ فرماتے ١ ؎۔
It was narrated that Kharijah bin Zaid said: "I saw a man asking my father about a man who goes out to fight and buys and sells and trades during his campaign. My father said to him: We were with the Messenger of Allah ﷺ in Tabuk, and we bought and sold, and he saw us and did not forbid us (to do that)." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: پس معلوم ہوا کہ جہاد کے سفر میں خریدو فروخت اور تجارتی لین دین منع نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٧١٣، ومصباح الزجاجة: ٩٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٠) (ضعیف جدا) (علی بن عروہ البارقی متروک اور سنید بن داود ضعیف راوی ہے) ۔
معاذ بن انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کو صبح یا شام رخصت کروں، اور اسے سواری پر بٹھاؤں، یہ میرے نزدیک دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے ۔
It was narrated from Sahl bin Mu adh bin Anas, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: "For me to give a good send-off to a warrior who is going to fight in the cause of Allah, and to guard his goods when he goes out in the morning or evening, is dearer to me than this world and everything in it." (Da if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢٩٦، ومصباح الزجاجة: ٩٩٨) (ضعیف) (ابن لہیعہ اور زبان بن فائد دونوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١١٨٩ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے رخصت کیا تو یہ دعا فرمائی: أستودعک الله الذي لا تضيع ودائعه میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ gave me a send-off and said: I commend you to Allahs keeping, Whose trust is never lost." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٦٢٦، ومصباح الزجاجة: ٩٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٨، ٤٠٣) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٦ و ٢٥٤٧ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو جانے والے کے لیے اس طرح دعا کرتے، أستودع الله دينک وأمانتک وخواتيم عملک میں تیرے دین، تیری امانت، اور تیرے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "When the Messenger of Allah ﷺ would dispatch troops, he would say to the leader: I commend to Allahs keeping your religious commitment, your dignity and the end of your deeds. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٢٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٠٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد ٨٠ (٢٦٠٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٤٤ (٣٤٣٨) (صحیح) (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٦ )
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اکثم بن جون خزاعی ؓ سے فرمایا: اکثم! اپنی قوم کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ جہاد کرو، تمہارے اخلاق اچھے ہوجائیں گے، اور تمہارے ساتھیوں میں تمہاری عزت ہوگی، اکثم! چار ساتھی بہتر ہیں، بہترین دستہ چار سو سپاہیوں کا ہے، اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے، نیز بارہ ہزار کا لشکر کبھی کم تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوگا ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said to Aktham bin Al-Jawn Al-Khuza i: "O Aktham! Ight alongside people other than youurown, it will improve your attitude and make you generous : your companions. a Aktham, e best number of companions is four, the best number of troops on an expedition is four hundred, the best number of an army is four thousand, and twelve thousand will never be overpowered because of their small number." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٧١، ومصباح الزجاجة: ١٠٠١) (ضعیف جداً ) (عبدالملک بن محمد الصنعانی لین الحدیث اور ابو سلمہ العاملی متروک ہے، بلکہ ابو حاتم نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے، آخری فقرہ: خير الرفقاء دوسرے طریق سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٩٨٦ )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم برابر گفتگو کرتے رہتے تھے کہ غزوہ بدر میں صحابہ کی تعداد تین سو دس سے کچھ اوپر تھی، اور یہی تعداد طالوت کے ان ساتھیوں کی بھی تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر پار کی (یاد رہے کہ) ان کے ساتھ صرف اسی شخص نے نہر پار کی تھی جو ایمان والا تھا۔
It was narrated that Bara bin Azib (RA) said: "We were talking about how, on the Day of Badr, the Companions of the Messenger of Allah ﷺ numbered three hundred ten and something, the same number as the Companions of (Talut) who crossed the river with him, and no one crossed the river with him but a believer." (Sahih)
نبی اکرم ﷺ کے صحابی ابوالورد ؓ کہتے ہیں کہ اس فوجی دستے میں شرکت سے بچو جس کی دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو وہ بھاگ کھڑا ہو، اور اگر مال غنیمت حاصل ہو تو اس میں خیانت کرے۔
It was narrated that Lahi’ah bin ‘Uqbah said: “I heard Abul-Ward, the Companion of the Messenger of Allah ﷺ say:‘Beware of the troop which, when it meets (the enemy) it flees, and when it takes spoils of war, it steals from it.’” (Da‘if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٥١٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٠٢) (ضعیف الإسناد) (سند میں لہیعہ بن عقبہ ضعیف راوی ہے )
ہلب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نصاریٰ کے کھانے کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کسی کھانے سے متعلق تمہارے دل میں وسوسہ نہ آنا چاہیئے، ورنہ یہ نصاریٰ کی مشابہت ہوجائے گی ۔
It was narrated from Qabisah bin Hulb that his father said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ about the food of the Christians and he said: Do not have any doubts about food, (thereby) following the way of the ChrIStians in that. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ اپنے مذہب والوں کے سوا دوسرے لوگوں کا کھانا نہیں کھاتے، یہ حال نصاریٰ کا شاید نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں ہوگا اب تو نصاریٰ ہر مذہب والے کا کھانا یہاں تک کہ مشرکین کا بھی کھالیتے ہیں، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب کا پکایا ہوا کھانا مسلمان کو کھانا جائز ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے: وطعام الذين أوتوا الکتاب حل لكم (سورة المائدة: 5) اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور نبی کریم ﷺ نے یہود کا کھانا خیبر میں کھایا، لیکن یہ شرط ہے کہ اس کھانے میں شراب اور سور نہ ہو، اور نہ وہ جانور ہو جو مردار ہو مثلاً گلا گھونٹا ہوا یا اللہ کے سوا اور کسی کے نام پر ذبح کیا ہوا، ورنہ وہ کھانا بالاجماع حرام ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٢٤ (٣٧٨٤)، سنن الترمذی/السیر ١٦ (١٥٦٥)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٤)، وقد مسند احمد (٥/٢٢٦) (حسن) (سند میں قبیصہ بن ہلب مجہول العین ہیں، ان سے صرف سماک نے روایت کی ہے، لیکن حدیث کے شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: جلباب المرأة المسلة: ١٨٢ )
ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم مشرکین کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ان میں نہ پکاؤ میں نے کہا: اگر اس کی ضرورت پیش آجائے اور ہمارے لیے کوئی چارہ کار ہی نہ ہو؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تب تم انہیں اچھی طرح دھو لو، پھر پکاؤ اور کھاؤ ١ ؎۔
Urwah bin Ruwaim Al-Lakhmi narrated that Abu Thalabah Al-Khushani - whom he said he met and spoke with - said: "I came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him: O Messenger of Allah ﷺ Can we cook in the vessels of the idolators? He said: Do not cook in them. I said: What if we need them and cannot find anything else? He said: Wash them well, then cook and eat. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنے برتنوں میں نجاستوں کا استعمال کرتے ہیں جیسے مردار کھانے والے اور شراب پینے والے، اگرچہ مسلمان ہی ہوں تو ان کے برتنوں کا استعمال بغیر دھوئے جائز نہیں، اور جو کھانا ان کے برتنوں میں پکا ہو اس کا بھی کھانا درست نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨٦٩، ومصباح الزجاجة: ١٠٠٣) (صحیح) (سند میں ابو فروہ یزید بن سنان ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد و متابعات کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٣٧ - ٣٢٠٧، نیز یہ حدیث آگے آرہی ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے ۔ علی بن محمد نے اپنی روایت میں عبداللہ بن یزید یا زید کہا ہے ١ ؎۔
It was narrated from , Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: We do not seek the help of the polytheist."(Sahih) (One of the nam;,tors) Ali.said in his narratiOn: Abdullah bin Yazid, or, Zarid.
Notes · وضاحت
١ ؎: کافر و مشرک سے جہاد میں بلاضرورت مدد لینا جائز نہیں، صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مشرک نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ جہاد کا قصد کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: لوٹ جاؤ، میں مشرک سے مدد نہیں چاہتا، جب وہ اسلام لایا تو اس سے مدد لی۔