Sunan Ibne-Majah 2815

جہاد کا بیان

2815Sunan Ibne-Majah

راہ اللہ میں تیراندازی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ، فَقَالَ: رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيل، فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسماعیل کی اولاد! تیر اندازی کرو، تمہارے والد (اسماعیل) بڑے تیر انداز تھے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “The Prophet ﷺ passed by some people who were shooting (arrows) and said: ‘Shoot, Banu Ismâ’il, for your father was an archer.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اسماعیل (علیہ السلام) کو ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) فاران کے میدان یعنی مکہ کی چٹیل زمین میں چھوڑ کر چلے آئے تھے وہ وہیں بڑے ہوئے، اور ان کو شکار کا بہت شوق تھا، اور بڑے تیر انداز اور بہادر تھے، تو نبی کریم ﷺ نے عربوں کو بھی تیر اندازی کی اس طرح سے ترغیب دی کہ یہ تمہارا آبائی پیشہ ہے اس کو خوب بڑھاؤ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٢٨، ومصباح الزجاجة: ٩٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٤) (صحیح )