ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنگ دھوکہ ہے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ said: War is deceit." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جنگ میں دھوکہ دھڑی جس طرح سے بھی ہو سکے مثلاً کافروں میں نااتفاقی ڈلوا دینا، ان کے سامنے سے بھاگنا تاکہ وہ پیچھا کریں پھر ان کو ہلاکت و بربادی کے مقام پر لے جانا، اسی طرح اور سب مکر و حیلہ درست اور جائز ہے، لیکن عہد کر کے اس کا توڑنا جائز نہیں (نووی)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٣٦١، ومصباح الزجاجة: ١٠٠٤) (صحیح) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح، بلکہ متواتر ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ٢٣٧٠ )
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر ؓ کو قسم کھا کر کہتے سنا کہ آیت کریمہ: هذان خصمان اختصموا في ربهم (سورۃ الحج: ١٩ ) یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں اپنے رب کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا سے إن الله يفعل ما يريد (سورۃ الحج: ٢٤ ) تک، ان چھ لوگوں کے بارے میں اتری جو بدر کے دن باہم لڑے، حمزہ بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب ؓ مسلمانوں کی طرف سے، اور عبیدہ بن حارث، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کافروں کی طرف سے۔
It was narrated that Qais bin "Ubad said: "I heard Abu Dharr (RA) swearing that these Verses were revealed concerning those six people on the Day of Badr: These two opponents (believers and disbelievers) dispute with each other about their Lord."! to the words "Verilf Allah does what He wills. I (that is) Hamzah bin Abdul-Muttalib, Ali Ibn Abi Talib (RA) , Ubaidah bin AIHarith, Utbah bin Rab iah, Shaibah bin Rabiah and AI-Walid bin Utbah. They argued with one another on the Day of Badr. (Sahih)
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو مقابلہ کے لیے للکارا، اور اسے قتل کر ڈالا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے چھینا ہوا سامان بطور انعام مجھے ہی دے دیا۔
It was narrated from Iyas bin Salamah bin Akwa that his father said: "I fought a man and killed him, and the Messenger of Allah ﷺ awarded me his spoils." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٢٩، ومصباح الزجاجة: ١٠٠٦) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ١٧٣ (٣٠٥١)، صحیح مسلم/الجہاد ١٣ (١٧٥٤)، مسند احمد (٤/٤٥، ٤٦)، سنن الدارمی/السیر ١٥ (٢٤٩٥) (صحیح )
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ حنین کے موقعہ پر ان کے ہاتھ سے قتل کیے گئے شخص کا سامان انہیں کو دے دیا۔
It was narrated from Abu Muhammad, the freed slave of Abu Qatadah (from Abu Qatadah) that the Messenger of AIlah awarded him the spoils of a man whom he killed on the Day of Hunain. (Sahih)
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص (کسی کافر) کو قتل کرے، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کو ملے گا ١ ؎۔
It was narrated from the On of Samurah bin Jundub that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever kills, the spoils are his. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے کپڑے ہتھیار سواری وغیرہ، امام کو اختیار ہے جب چاہے جنگ میں لوگوں کو رغبت دلانے کے لئے یہ کہہ دے کہ جو کوئی کسی کو مارے اس کا سامان وہی لے، یا کسی خاص ٹکڑی سے کہے تم کو مال غنیمت میں سے اس قدر زیادہ ملے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٦٢٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢) (صحیح )
صعب بن جثامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ مشرکین کی آبادی پر شبخون مارتے (رات میں حملہ کرتے) وقت عورتیں اور بچے بھی قتل ہوجائیں گے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ بھی انہیں میں سے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Sab bin Jaththamah said: The Prophet ﷺ ﷺ was asked about the polytheists who are attacked at night. and their women and children are killed. He said: They are from among them. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آمادئہ جنگ اور دشمنی پر اصرار کرنے والے اور اسلام کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگانے والوں پر رات کے حملہ کا مسئلہ ہے، جن تک اسلام کی دعوت سالہا سال تک اچھی طرح سے پہنچانے کا انتظام کیا گیا، اب آخری حربہ کے طور پر ان کے قلع قمع کا ہر دروازہ کھلا ہوا ہے، اور ان کے ساتھ رہنے والی آبادی میں موجود بچوں اور عورتوں کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو یہ بدرجہ مجبوری ہے اس لئے کوئی حرج نہیں ہے۔
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہم نے ابوبکر ؓ کے ہمراہ قبیلہ ہوازن سے جہاد کیا، چناچہ ہم بنی فزارہ کے چشمہ کے پاس آئے اور ہم نے وہیں پر پڑاؤ ڈالا، جب صبح کا وقت ہوا، تو ہم نے ان پر حملہ کردیا، پھر ہم چشمہ والوں کے پاس آئے ان پر بھی شبخون مارا، اور ان کے نو یا سات گھروں کے لوگوں کو قتل کیا۔
It was narrated from lyas bin Salamah bin Akwa, that his father said: "We attacked Hawazin, with Abu Bakr, during the time of the Prophet ﷺ , and we arrived at an oasis belonging to Bani Fazarah during the last part of the night. We attacked at dawn. raiding the people of the oasis, and killed them, nine or seven households." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ١٣٤ (٢٥٩٧)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجہاد ١٤ (١٧٥٥)، مسند احمد (٥/٣٧٧) (حسن )
حنظلہ الکاتب ؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ (جنگ) میں شریک تھے، ہمارا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا، وہاں لوگ اکٹھے ہوگئے تھے، (آپ کو دیکھ کر) لوگوں نے آپ کے لیے جگہ خالی کردی تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو لڑنے والوں میں نہ تھی (پھر اسے کیوں مار ڈالا گیا) اس کے بعد ایک شخص سے کہا: خالد بن ولید کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ عورتوں، بچوں، مزدوروں اور خادموں کو ہرگز قتل نہ کرنا ۔
It was narrated that Hanzalah Al-Katib said: "We went out to fight alongside the Messenger of Allah ﷺ and we passed by a slain woman whom the people had gathered around. They parted (to let the Prophet ﷺ through) and he said: This (woman) was not one of those who were fighting. Then he said to a man: Go to Khalid bin Walid :ann tell him that the Messenger of Allah ﷺ Commands you: "Do not ill any Women or any (farm) aborer." (Sahih) (Another chain) that was narrated from Rabah bin Rabi, from the Prophet ﷺ with similar wording. (Sahih) Abu Bakr (RA) bin Abu Shaibah said: "Thawri was mistaken in it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سفیان نے ابوالزناد سے اور انہوں نے مرقع بن عبداللہ سے اور مرقع نے حنظلہ سے روایت کی ہے، جب کہ اس کی دوسری سند میں مغیرہ بن شعبہ سے اور مرقع نے اپنے دادا رباح بن الربیع سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤٤٩، ومصباح الزجاجة: ١٠٠٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد ١٢١ (٢٦٦٩)، مسند احمد (٤/١٧٨) (حسن صحیح )
اس سند سے رباح بن ربیع سے بھی اسی طرح مروی ہے، ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں: سفیان ثوری اس میں غلطی کرتے تھے ١ ؎۔
سنن ابی داود/الجہاد ١٢١ (٢٦٦٩)، (تحفة الأشراف: ٣٦٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٨٨، ٤/١٧٨، ٣٤٦) (حسن صحیح )
اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ابنیٰ نامی بستی کی جانب بھیجا اور فرمایا: ابنیٰ میں صبح کے وقت جاؤ، اور اسے آگ لگا دو ١ ؎۔
It was narrated that Usamah bin Zaid said: "The Messenger of Allah ﷺ sent me to a village called Ubna, and said: Go to Ubna in the morning and burn it:"
Notes · وضاحت
١ ؎ اُبنی: فلسطین میں عسقلان اور رملہ کے درمیان ایک مقام ہے، صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہم کو ایک لشکر میں بھیجا، تو فرمایا: اگر تم فلاں فلاں دو شخصوں کو پاؤ تو آگ سے جلا دینا، پھر جب ہم نکلنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تم کو حکم دیا تھا فلانے فلانے کو جلانے کا، لیکن آگ سے اللہ ہی عذاب کرتا ہے تم اگر ان کو پاؤ تو قتل کر ڈالنا، لیکن درختوں کا اور بتوں کا اور سامان کا جلانا تو جائز ہے، اور کئی احادیث سے اس کی اجازت ثابت ہے جب اس میں مصلحت ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٩١ (٢٦١٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٠٥، ٢٠٩) (ضعیف) (صالح بن أبی الاخضر ضعیف ہیں جن کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ بنو نضیر کے کھجور کا باغ جلا دیا، اور کاٹ ڈالا، اس باغ کا نام بویرہ تھا، چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: ما قطعتم من لينة أو ترکتموها قائمة یعنی تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پہ باقی رہنے دیا یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا، اور اس لیے بھی کہ فاسقوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے (سورۃ الحشر: ٥ ) ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ burned the palm trees of Banu Nadir, and cut down Buwairah (the name of their garden). Then Allah revealed the words: "What you (O Muslims) cut down of the palm trees (of the enemy), or you left them standing . (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ بنو نضیر کے کھجور کے درخت جلا دئیے اور انہیں کاٹ دیا، اسی سے متعلق ایک شاعر کہتا ہے: فهان على سراة بني لؤي حريق بالبويرة مستطير بنی لؤی کے سرداروں کے لیے آسان ہوا، بویرہ میں آگ لگانا جو ہر طرف پھیلتی جا رہی تھی۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ burned palm trees of Banu Nadir an cut them down. Concerning that, their poet said: "It is easy for the elite of Banu Luai -To burn AI-Buwairah in a frightening manner." (Sahih)
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہم نے ابوبکر ؓ کے ساتھ قبیلہ ہوازن سے جنگ کی، تو ابوبکر ؓ نے قبیلہ بنی فزارہ سے حاصل کی ہوئی ایک لونڈی مجھے بطور نفل (انعام) دی، وہ عرب کے خوبصورت ترین لوگوں میں سے تھی، اور پوستین پہنے ہوئی تھی، میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا تھا کہ مدینہ آیا، بازار میں میری ملاقات نبی اکرم ﷺ سے ہوئی، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی شان، تمہارا باپ بھی کیا خوب آدمی تھا! یہ لونڈی مجھے دے دو، میں نے وہ آپ کو ہبہ کردی، چناچہ آپ ﷺ نے وہ لونڈی ان مسلمانوں کے عوض فدیہ میں دے دی جو مکہ میں تھے ١ ؎۔
It was narrated from Ayas bin Salamah bin Akwa that his father said: "We attacked,Hawaz in at the time of the Messenger of Allah ﷺ with Abu Bakr. He awarded me a slave girl from Banu Fazarah, among the most beautiful of the Arabs, who was wearing an animal skin of hers. I did not divest her of her clothing until I reached AI-Madinah. Then the Prophet ﷺ met me in the marketplace, and said: By Allah, give her to me. So I gave her to him, and he sent her as a ransom for some of the Muslim prisoners who were in Makkah." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ امام کسی کو کوئی چیز دے کر پھر اس کو واپس لے لے تو بھی جائز ہے جب اس میں کوئی مصلحت ہو، آپ ﷺ نے صفیہ ؓ کو پہلے دحیہ ؓ کو دیا تھا پھر ان سے واپس لے لیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المغازي ١٤ (١٧٥٥)، سنن ابی داود/الجہاد ١٣٤ (٢٦٩٧)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/ و ٤٧، ٥١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ان کا ایک گھوڑا چلا گیا، اور اسے دشمن نے پکڑ لیا، پھر مسلمان ان پر غالب آگئے، تو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں وہ انہیں لوٹایا گیا، ان کا ایک غلام بھی بھاگ گیا، اور روم (کے نصاریٰ ) سے جا ملا، پھر مسلمان ان پر غالب آگئے، تو خالد بن ولید ؓ نے اسے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ان کو واپس کردیا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said that a horse of his went au t and the enemy captured it. Then the Muslims defeated them and it was returned to him. (That was) during the time of the Messenger of Allah ﷺ . He said: "And a slave of his absconded and joined up with the Romans, then the Muslims defeated them, and Khalid bin Walid returned him to me, after the death of the Messenger of Allah." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اونٹنی عضباء کو کافر لے گئے، پھر ایک عورت اس پر چڑھ کر مسلمانوں کے پاس آگئی، تو اس اونٹنی کے نحر کرنے کی اس نے نذر کی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو نذر گناہ کی ہو، یا اپنی ملکیت میں نہ ہو وہ پوری نہ کی جائے، علماء کا یہی قول ہے کہ کافر غلبہ سے مسلمانوں کے کسی چیز کے مالک نہ ہوں گے اور جب وہ چیز پھر ہاتھ آئے تو اس کا مالک لے لے گا۔
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ اشبحع کے ایک شخص کا خیبر میں انتقال ہوگیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز (جنازہ) پڑھ لو، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا اور ان کے چہروں کے رنگ اڑ گئے، آپ ﷺ نے جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستے میں (حاصل شدہ مال غنیمت میں) خیانت کی ہے ۔ زید ؓ کہتے ہیں: پھر لوگوں نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو کیا دیکھتے ہیں کہ یہود کے مونگوں میں سے کچھ مونگے جو کہ دو درہم کے برابر تھے اس کے سامان میں موجود تھے۔
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-juhani said: "A man from (the tribe of) Ashja died in Khaibar, and the Prophet ﷺ if; said: Offer the funeral prayer for your companion. The people found that strange. When he saw that, he said: Your companion stole from the spoils of war (when fighting) in the cause of Allah. " Zaid said: "So they searched his belongings and found two pearls from the pearls of the Jews that were not even worth two Dirham." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ١٤٣ (٢٧١٠)، سنن النسائی/الجنائز ٦٦ (١٩٦١)، (تحفة الأشراف: ٣٧٦٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد ١٣ (٢٣)، مسند احمد (٤/١١٤، ٥/١٩٢) (ضعیف) (ابوعمرہ مجہول العین راوی ہے )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامان کی نگہبانی پر کر کرہ نامی ایک شخص تھا، اس کا انتقال ہوگیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ جہنم میں ہے ، لوگ اس کا سامان دیکھنے لگے تو اس میں ایک کملی یا عباء ملی جو اس نے مال غنیمت میں سے چرا لی تھی۔
It was narrated that Abdullah bin Amr said: "There was a man called Kirkirah in charge of the goods of the Prophet ﷺ , who clied. The Prophet ﷺ said: He is in Hell. They went and looked, and found him wearing a garment or a cloak that he had stolen from the spoil of war." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٩٠ (٣٠٧٤)، (تحفة الأشراف: ٨٦٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٠) (صحیح )
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جنگ حنین کے دن مال غنیمت کے ایک اونٹ کے پہلو میں نماز پڑھائی، نماز کے بعد آپ ﷺ نے اونٹ میں سے کوئی چیز لی جیسے اونٹ کا بال اور اسے اپنی انگلیوں سے پکڑا پھر فرمایا: لوگو! یہ بھی تمہارے مال غنیمت کا حصہ ہے، لہٰذا دھاگہ سوئی نیز اس سے چھوٹی اور بڑی چیز بھی جمع کر دو کیونکہ مال غنیمت میں خیانت (چوری) کرنے والے کے لیے قیامت کے دن باعث عار (ندامت) و شنار (عیب) اور باعث نار (عذاب) ہوگی ١ ؎۔
It was narrated that Ubadahh bin Samit said: "The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer on the Day of Hunain, beside a camel that was part of the spoils of war. Then he took something from the camel, and extracted from it a hair, which he placed between two of his fingers. Then he said: O people, this is part of your spoils of war. Hand over a needle and thread and anything greater than that or less than that. For stealing from the spoils of war will be a source of shame for those who do it, and ignominy and Fire, on the Day of Resurrection. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قیامت کے دن اس کی چوری ظاہر کی جائے گی تو لوگوں میں رسوائی ہوگی، عذاب الگ ہوگا اور جس قدر ذرہ سی چیز ہو اس کی چوری جب کھلے گی تو اور زیادہ رسوائی ہے، اس لئے مومن کو چاہیے کہ غنیمت کا کل مال حاکم کے سامنے پیش کر دے ایک سوئی یا دھاگہ بھی اپنے پاس نہ رکھ چھوڑے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٢١، ومصباح الزجاجة: ١٠٠٩) (حسن صحیح) (سند میں عیسیٰ بن سنان لین الحدیث راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
حبیب بن مسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مال غنیمت میں سے خمس (پانچواں حصہ جو اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے) نکال لینے کے بعد مال غنیمت کا ایک تہائی بطور نفل ہبہ اور عطیہ دیتے ١ ؎۔
It was narrated from Habib bin Maslamah that the Prophet ﷺ awarded one third (of the spoils of war) after the one fifth (had been taken) (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ اللہ اور رسول کا ہے، اور باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کئے جائیں، اور امام کو اختیار ہے کہ باقی ان چارحصوں ٤ /٥ میں جسے جتنا چاہے، عطیہ دے۔
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ شروع لڑائی میں ملنے والے مال غنیمت کا چوتھا حصہ بطور ہبہ دیتے، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیتے ١ ؎۔
It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Prophet ﷺ l awarded one quarter of the spoils to those who attacked the enemy at the beginning and one third to those who attacked at the end.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ لوٹتے وقت پھر لڑائی کرنا دشوار ہوتا ہے اس لئے اس میں زیادہ عطیہ مقرر کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ١٢ (١٥٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٠٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٩، ٣٢٢، ٣٢٣)، سنن الدارمی/السیر ٤٢ (٢٥٢٥) (صحیح) (سابقہ حدیث کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں عبد الرحمن بن الحارث اور سلمان بن موسیٰ کی وجہ سے ضعف ہے )