عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد مال غنیمت سے ہبہ اور عطیہ کا سلسلہ ختم ہوگیا، اب طاقتور مسلمان کمزور مسلمانوں کو مال لوٹائیں گے ١ ؎۔
"Amr bin Shuaib narrated from his father that his grandfather said: "There is no awarding of the spoils after the Messenger of Allah ﷺ , rather whatever the army acquires (of spoils of war) will be distributed among strong and weak alike."(Hasan) Raja said: "I heard Sulaiman bin Musa say to him, Makhul narrated to me from Habib bin Maslamah that the Prophet ﷺ awarded the spoils of war, one quarter at the beginning and one third after his return." ,Amr said: "I narrate to you from my grandfather, and you narrated to me from Makhul?" (Hasan)
حبیب بن مسلمہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے شروع لڑائی میں ملنے والے کو مال غنیمت کا چوتھائی حصہ بطور ہبہ اور عطیہ دیا، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیا ٢ ؎۔ تو عمرو بن شعیب نے سلیمان بن موسیٰ سے کہا کہ میں تمہیں اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ) سے روایت کر رہا ہوں اور تم مجھ سے مکحول کے حوالے سے بیان کر رہے ہو؟
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی طاقتور لوگوں کے ذریعہ حاصل شدہ مال میں کمزوروں کا بھی حصہ ہوگا۔ ٢ ؎: یعنی مال غنیمت میں سب مسلمان برابر کے شریک ہوں گے اور برابر حصہ پائیں گے۔
Takhrij · تخریج
حدیث عبد اللہ بن عمرو تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٠٥، ومصباح الزجاجة: ١٠١٠)، وحدیث حبیب بن مسلمة تقدم تخریجہ، (٢٨٥١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جنگ خیبر میں گھوڑ سوار کے لیے تین حصے متعین فرمائے، دو حصے گھوڑے کے، اور ایک حصہ آدمی کا۔
It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ distributed the war spoils on the Day of Khaibar, giving three shares to the horseman, two shares for the horse, and one share for the man.
محمد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے آبی اللحم (وکیع کہتے ہیں کہ وہ گوشت نہیں کھاتے تھے) کے غلام عمیر ؓ سے سنا: وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے مالک کے ہمراہ خیبر کے دن جہاد کیا، چونکہ میں غلام تھا لہٰذا مجھے مال غنیمت میں حصہ نہیں ملا، صرف ردی چیزوں میں سے ایک تلوار ملی، جب اسے میں لٹکا کر چلتا تو (وہ اتنی لمبی تھی) کہ وہ گھسٹتی رہتی تھی ١ ؎۔
Umair, the freed slave of Aabi Lahm - Waki said;- "He used to not eat meat" - said: "I fought alongside my master on the Day of Khaibar, and I was a slave. I was not given anything from the spoils of war but I was given from the least of the utensils (goods) a sword, which I dragged when I put it around my waist."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس وجہ سے کہ تلوار لمبی ہوگی یا ان کا قد چھوٹا ہوگا لیکن امام جو مناسب سمجھے انعام کے طور پر ان کو دے، صحیح مسلم میں عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: غلام اور عورت کا کوئی حصہ معین تھا، جب وہ لوگوں کے ساتھ حاضر ہوں، تو انہوں نے جواب دیا کہ ان دونوں کا کوئی حصہ متعین نہ تھا مگر یہ کہ مال غنیمت میں سے کچھ ان کو دیا جائے، اور ایک روایت میں یوں ہے کہ نبی اکرم ﷺ جہاد میں عورتوں کو رکھتے تھے، وہ دو زخمیوں کا علاج کرتیں اور مال غنیمت میں سے کچھ انعام ان کو دیا جاتا لیکن ان کا حصہ مقرر نہیں کیا گیا۔
ام عطیہ انصاریہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی تھی، مردوں کی غیر موجودگی میں ان کے ڈیروں میں رہتی، ان کے لیے کھانا بناتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور بیماروں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔
It was narrated that Umrn Atiyyah Al-Ansaariyyah said the Messenger of Allah ﷺ in seven campaigns , looking after their goods, making food for them, tending the wounded and looking after the sick." (Sahih)
صفوان بن عسال ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک فوجی دستے میں بھیجا تو فرمایا: اللہ کے نام پر، اللہ کے راستے میں جاؤ، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑو، لیکن مثلہ نہ کرنا، (ناک کان مت کاٹنا) عہد شکنی نہ کرنا، مال غنیمت میں چوری نہ کرنا، اور بچے کو قتل نہ کرنا ١ ؎۔
It was narrated that Safwan bin Assal said: "The Messenger of Allah ﷺ sent us in a military detachment and said: Go in the Name of Allah, and in the cause of Allah. Fight those who disbelieve in Allah. Do not mutilate, do not be treacherous, do not steal from the spoils of war, and do not kill children." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے: اور نہ عورت کو نہ شیخ فانی کو قتل کرنا یعنی ایسے بوڑھے کو جو لڑائی کے قابل نہ رہا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٥٣، ومصباح الزجاجة: ١٠١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٠) (حسن صحیح )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی فوجی دستے پر کسی شخص کو امیر متعین فرماتے تو اسے ذاتی طور پر اللہ سے ڈرتے رہنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتے، اور فرماتے: اللہ کے راستے میں اللہ کا نام لے کر لڑنا، جو اللہ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑنا، اور بدعہدی نہ کرنا، (مال غنیمت میں) خیانت نہ کرنا، مثلہ نہ کرنا، اور کسی بچے کو قتل نہ کرنا، جب مشرکوں میں سے اپنے دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو انہیں تین باتوں میں سے ایک کی دعوت دینا، ان میں سے جس بات پر وہ راضی ہوجائیں اسے قبول کرنا، اور ان سے جنگ سے رک جانا (سب سے پہلے) انہیں اسلام کی دعوت دینا، اگر وہ قبول کرلیں تو ان کا اسلام قبول کرنا، اور ان کے قتل سے باز رہنا، پھر انہیں گھربار چھوڑ کر مہاجرین کے ساتھ رہنے کی دعوت دینا، اور انہیں بتانا کہ اگر وہ ایسا گریں گے تو انہیں مہاجرین جیسے حقوق حاصل ہوں گے، اور جرم و سزا کا جو قانون مہاجرین کے لیے ہے وہی ان کے لیے بھی ہوگا، اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو انہیں بتانا کہ ان کا حکم اعرابی (دیہاتی) مسلمانوں جیسا ہوگا، اللہ تعالیٰ کے جو احکام مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں ان پر بھی جاری ہوں گے، لیکن مال غنیمت میں اور اس مال میں جو کافروں سے جنگ کے بغیر ہاتھ آجائے، ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا، مگر اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اگر وہ اسلام میں داخل ہونے سے انکار کریں، تو ان سے جزیہ دینے کا مطالبہ کرنا، اگر وہ جزیہ دیں تو ان سے قبول کرنا، اور ان سے اپنا ہاتھ روک لینا، اور اگر وہ انکار کریں تو (کامیابی کے لیے) اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا، اور ان سے جنگ کرنا، اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرلو اور قلعہ والے تم سے اللہ اور نبی کا عہد کرانا چاہیں تو اللہ اور نبی کا عہد مت دینا، بلکہ اپنا، اپنے باپ کا، اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دینا، کیونکہ تم اپنا اور اپنے باپ کا ذمہ اللہ اور رسول کے ذمہ کے مقابلے میں آسانی سے توڑ سکتے ہو، اگر تم نے کسی قلعے کا محاصرہ کرلیا، اور وہ اللہ کے حکم پر اترنا چاہیں تو انہیں اللہ کے حکم پہ مت اتارنا، بلکہ اپنے حکم پہ اتارنا کیونکہ تمہیں کیا معلوم کہ ان کے بارے میں تم اللہ کے حکم پر چل رہے ہو یا نہیں ١ ؎۔ علقمہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے بیان کی، انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم بن ہیضم نے بیان کی، مسلم نے نعمان بن مقرن ؓ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کی۔
It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: "Whenever he appointed a man to lead a military detachment, the Messenger of Allah ﷺ would advise him especially to fear Allah and treat the Muslims with him well. He said: Fight in the Name of Allah and in the cause of Allah. Fight those who disbelieve in Allah. Fight but do not be treacherous, do not steal from the spoiIs of war, do not mutilate and do not kill children. When you meet your enemy from among the polytheists, call them to one of things. Whichever of them they respond to, accept it from them and refrain from fighting them. Invite them to accept Islam, and if they respond then accept it from them and refrain from fighting them. Then invite them to leave their land and move to the land of the polytheists. Tell them that if they do that, then they will have the same rights and duties as the polytheists. If they refuse, then tell them that they will be like the Muslim Bedouins (who live in the desert), subject to the same rulings of Allah as the believers. But they will have no share of Fay or war spoils, unless they fight alongside the Muslims. If they refuse to enter Islam, then ask them to pay the Poll tax. If they do that, then accept it from them and refrain from fighting them. But if they refuse, then seek the help of Allah against them and fight them. If you lay siege to them and they want you to give them the protection of Allah and your Prophet, do not give them the protection of Allah and your Prophet, rather give them your protection and the protection of your father and of your Companions, for if you violate your protection and the protection of your fathers, that is easier for you than violating the protection of Allah and the protection of His Messenger. If you lay siege to them and they want you to let them come out with a promise of the judgement of Allah and His Messenger ﷺ do not offer them a promise of the judgement of Allah and His Messenger ﷺ , rather offer them your judgement, because you do not know if you will actually pass (the same as) Allahs judgment regarding them or not. (Sahih) Another chain with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: امام نووی کہتے ہیں: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ فئی اور غنیمت میں دیہات کے مسلمانوں کا حصہ نہیں جو اسلام لانے کے بعد اپنے ہی وطن میں رہے، بشرطیکہ وہ جہاد میں شریک نہ ہوں، دوسرے یہ کہ ہر ایک کافر سے جزیہ لینا جائز ہے عربی ہو یا عجمی، کتابی ہو یا غیر کتابی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری بات مانی اس نے اللہ کی بات مانی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، (اسی طرح) جس نے امام کی بات مانی اس نے میری بات مانی، اور جس نے امام کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever obeys me, obeys Allah , and whoever disobeys me ,disobeys Allah. Whover obeys the ruler, obeys me, and whoever disobeys the ruler , disobeys me. " (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام کی اطاعت فرض ہے اور اس کی نافرمانی رسول کی نافرمانی ہے مگر یہ جب تک ہے کہ امام کا حکم شریعت کے خلاف نہ ہو، اگر مسئلہ اختلافی ہو اور امام ایک قول پر چلنے کا حکم دے تو اس کی اطاعت کرنی چاہیے، لیکن جو بات صریح اور بالاتفاق شریعت کے خلاف ہو اس میں اطاعت نہ کرنی چاہیے، دوسری حدیث میں ہے کہ خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو، گرچہ تم پر حبشی غلام ہی امیر (حاکم) کیوں نہ بنادیا جائے، جس کا سر منقی (کشمش) کی طرح ہو ١ ؎۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Listen and obey, even if the one appointed over you is an Ethiopian slave wi th a head like a raisin." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حبشی چھوٹے سر والا امامت کبری (خلافت) کے لائق ہے کیونکہ امامت کبری کے لئے قریشی ہونا شرط ہے، بلکہ حدیث کا یہ مطلب ہے کہ امام کے حکم سے اگر کسی لشکر یا ٹکڑی کا سردار معمولی حیثیت کا بھی بنادیا جائے تو بھی امام کے حکم کی اطاعت کرنی چاہیے اور اس کے بنائے ہوئے امیر اور سردار کی اطاعت پر اعتراض اور اس کی مخالفت نہ کرنا چاہیے، اور بعضوں نے کہا: یہ مبالغہ کے طور پر فرمایا ہے، یعنی اگر بالفرض حبشی بھی تمہارا امام ہو تو اس کی اطاعت بھی لازم ہے، اور اس حدیث میں امام اور حاکم کی اطاعت کی بھرپور ترغیب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٩٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٥٤ (٦٩٣)، مسند احمد (٣/١١٤، ١٧١) (صحیح )
ام الحصین ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم پر کوئی نک کٹا حبشی غلام امیر (حاکم) بنادیا جائے تو بھی اس کی بات سنو اور مانو، جب تک کہ وہ اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق تمہاری سربراہی کرتا رہے ۔
It was narrated from Umm Husain that She heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Even if the one appointed over you is a mutilated Ethiopian slave whose nose and ears have been cut off, listen to him and obey, so long as he leads you according to the Book of Allah." (Sahih)
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ وہ مقام ربذہ میں پہنچے تو نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکی تھی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غلام لوگوں کی امامت کر رہا ہے، اس سے کہا گیا: یہ ابوذر ؓ ہیں، یہ سن کر وہ پیچھے ہٹنے لگا تو ابوذر ؓ نے فرمایا: میرے خلیل (جگری دوست) محمد ﷺ نے مجھے یہ وصیت کی کہ امام گرچہ اعضاء کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو میں اس کی بات سنوں اور مانوں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Dharr (RA) that he reached Rabadhah when the Iqiimah for the prayer had already been given, and there was a slave leading them in prayer. It was said: "This is Abu Dharr," so he (the slave) started to move back. But Abu Dharr (RA) said: "My close friend [i.e., the Prophet ﷺ ) told me to listen and obey, even if (the leader was) an Ethiopian slave with amputated limbs." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر حال میں مسلمانوں کی جماعت سے اتفاق کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اگر کسی مستحب یا مسنون امر کی وجہ سے اتفاق ختم ہوجانے کا اندیشہ ہو تو جب تک یہ اندیشہ باقی رہے، اس امر مستحب یا مسنون سے باز رہ سکتے ہیں، لیکن جہاں تک ہو سکے حکمت عملی سے لوگوں کو سمجھا دینا چاہیے کہ یہ فعل مستحب اور سنت رسول ہے، اور اس کے لئے فتنہ و فساد کرنا صریح غیر ایمانی بات ہے۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علقمہ بن مجزر ؓ کو ایک لشکر کا سردار بنا کر بھیجا، میں بھی اس لشکر میں تھا، جب وہ لشکر کے آخری پڑاؤ پر پہنچے یا درمیان راستے ہی میں تھے تو لشکر کی ایک جماعت نے (آگے جانے کی) اجازت مانگی، علقمہ ؓ نے اجازت دے دی، اور عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی ؓ کو ان پر امیر مقرر کردیا، میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان کے ساتھ غزوہ کیا، ابھی وہ راستہ ہی میں تھے کہ ان لوگوں نے تاپنے یا کچھ پکانے کے لیے آگ جلائی، تو عبداللہ بن حذافہ ؓ (جن کے مزاج میں خوش طبعی پائی جاتی تھی) نے کہا: کیا تم پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں؟ کہا: میں کسی کام کے کرنے کا تمہیں حکم دوں تو تم حکم بجا لاؤ گے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، کہا: میں لازمی حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں چھلانگ لگا دو، کچھ لوگ کھڑے ہوگئے اور کودنے کے لیے کمر کس لی، عبداللہ بن حذافہ ؓ کو جب یہ گمان ہوا کہ واقعی یہ تو کود ہی جائیں گے، تو بولے: ٹھہرو، میں تم سے یونہی مذاق کر رہا تھا ١ ؎۔ جب ہم لوگ واپس مدینہ آئے، لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو سارا ماجرا سنایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حکام میں جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی بات نہ ما نو ۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ sent Alqamah bin Mujazziz at the head of a detachment, and I was among them. When he reached the battle site, or when he was partway there, a group of the army asked permission to take a different route, and he gave them permission .
Notes · وضاحت
١ ؎: اس واقعہ سے پتہ چلا کہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی بات ہرگز مت مانو اگرچہ وہ امام ہو یا حاکم یا خلیفہ یا بادشاہ یا رئیس یا سردار، اللہ کی اطاعت سب پر مقدم ہے، پھر جب خلاف شریعت باتوں میں امام کی اطاعت منع ہوئی تو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف کسی مجتہد یا عالم کی اطاعت کیوں کر جائز ہوگی، اس حدیث سے تقلید کی جڑ کٹ گئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو بادشاہ یا امام شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی بات نہ ماننی چاہیے بلکہ اس کو شریعت کی اطاعت کے لئے مجبور کرنا چاہیے، اگر شریعت کی اطاعت قبول نہ کرے تو اگر قدرت اور طاقت ہو تو اس کو فوراً معزول کر کے دوسرے کسی پرہیزگار دین دار کو اپنا امام یا بادشاہ بنانا چاہیے، یہی اسلام کا شیوہ ہے اور یہی حکم الٰہی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٦٦، ومصباح الزجاجة: ١٠١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦٧) (حسن )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان آدمی پر (امیر اور حاکم کی) بات ماننا لازم ہے، چاہے وہ اسے پسند ہو یا ناپسند، ہاں اگر اللہ اور رسول کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اس کو سننا ماننا نہیں ہے ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ : said: "The Muslim is obliged to obey (the ruler) Whether he likes it or not, unless he is commanded to commit an act of disobedience. If he is Commanded to commit a sin then he should neither listen nor obey." (Sahih)
Takhrij · تخریج
حدیث عبد اللہ بن رجاء المکی تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٩٢٧)، وحدیث اللیث بن سعد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٣٩)، سنن الترمذی/الجہاد ٢٩ (١٧٠٧)، (تحفة الأشراف: ٨٠٨٨) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ١٠٨ (٢٩٥٥)، الأحکام ٤ (٧١٤٤)، سنن ابی داود/الجہاد ٩٦ (٢٦٢٦)، سنن النسائی/البیعة ٣٤ (٤٢١١)، مسند احمد (٢/١٧، ٤٢) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ زمانہ قریب ہے کہ میرے بعد تمہارے معاملات کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آئے گی جو سنت کو مٹائیں گے، بدعت پر عمل پیرا ہوں گے، اور نماز کی وقت پر ادائیگی میں تاخیر کریں گے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں ان کا زمانہ پاؤں تو کیا کروں؟ فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ کیا کروں؟ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی بات نہیں مانی جائے گی ۔
It was narrated from Abdullah bin Masud that the Prophet ﷺ said: "Among those in charge of you, after I am gone, will be men who extinguish the Sunnah. and follow innovation. They will delay the prayer from its proper time." I said: "O Messenger of Allah, if I live to see them, what should I do?" He said: "You ask me, a Ibn Umm Abd, what you should do? There is no obedience to one who disobeys Allah." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٣٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٠١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٩٩، ٥/٣٢٥، ٣٢٩) (صحیح) (صحیح أبی داود: ٤٥٨، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢/ ١٣٩ )
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی اور فراخی، خوشی و ناخوشی، اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کی حالت میں بھی رسول اللہ ﷺ سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی، نیز اس بات پر بیعت کی کہ حکمرانوں سے نہ جھگڑیں، اور جہاں بھی ہوں حق بات کہیں، اور اللہ کے سلسلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں ١ ؎۔
It was narrated that Ubadahh bin Samit said: "We gave our pledge to the Messenger of Allah ﷺ , pledging to listen and obey in times of hardship and times of ease, willingly or reluctantly, and when others are shown preference over us, and that we would not dispute the order of those in charge, that we would speak the truth wherever we are, and that we would not fear the blame of anyone when acting or speaking for the sake of Allah." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس بات میں اللہ کی خوشی ہو یعنی ثواب اور عبادت کے کام میں کسی کی بدگوئی سے ہم کو ڈر نہ ہو، یہ مومنین کاملین کی شان ہے کہ وہ سنت پر چلنے میں کسی سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی جاہلوں اور اہل بدعت کے غلط پروپگنڈہ سے متاثر ہوتے ہیں، جاہل اور بدعتی حدیث سے محبت رکھنے اور ان پر عمل کرنے والوں کو برے القاب اور خطابات سے پکارتے اور انہیں طرح طرح سے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب یہ محبان رسول نماز میں زور سے آمین، رفع یدین اور امام کے پیچھے سورة فاتحہ کی قرأت کرتے ہیں، تو جاہل مقلد اور بدعتی ان کو لا مذہب کہتے ہیں اور جب شرک کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، اور غیر اللہ کے پکارنے یا ماسوا اللہ کی عبادت کرنے یا مدد مانگنے سے خود رکتے ہیں اور دوسروں کو روکتے ہیں، تو یہ لوگ انہیں وہابی کے نام سے بدنام کرتے ہیں، اور جب یہ محبان رسول، اللہ تعالیٰ کی صفات جیسے استواء علی العرش، ضحک، (ہنسنا) نزول (آسمان دنیا پر اترنا) وغیرہ وغیرہ ثابت کرتے ہیں تو یہ انہیں مشبہہ کہتے ہیں، اور جب ید (ہاتھ)، وجہ (چہرہ)، عین (آنکھ)، قدم، صوت (آواز) جیسی صفات کا اثبات کرتے ہیں تو وہ انہیں مجسمہ کا لقب دیتے ہیں، لیکن ان سب تہمتوں سے حق پرستوں کو کوئی ڈر نہیں، اور وہ جاہلوں اور بدعتیوں کی عیب جوئی، اور گالی گلوج اور غلط پروپگنڈے سے ڈرتے اور گھبراتے نہیں بلکہ بلا کھٹکے احادیث صحیحہ پر عمل کرتے ہیں، اس حدیث میں آپ ﷺ نے صبر و ثبات پر اور شرع کی اطاعت اور حاکم کی اطاعت پر بیعت لی۔
عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ہم سات یا آٹھ یا نو آدمی تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے ؟ ہم نے بیعت کے لیے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے (بیعت کرنے کے بعد) ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت تو کرچکے لیکن یہ کس بات پر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کرو، حکم سنو اور مانو ، پھر ایک بات چپکے سے فرمائی: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو ، راوی کا بیان ہے کہ (اس بات کا ان لوگوں پر اتنا اثر ہوا کہ) میں نے ان میں سے بعض کو دیکھا کہ اس کا کوڑا بھی گر جاتا تو کسی سے یہ نہ کہتا کہ کوڑا اٹھا کر مجھے دو ١ ؎۔
Awf bin Malik Al-AsbjaI said: "We were with the Prophet ﷺ seven or eight or nine of us - and he said: Will you not give pledge to the Messenger of AlIah? So we strgetched forth our hands and someone said: O Messenger of Allah, we have already given you our pledge. On what basis shall we give this pledge? He said: (On the basis that) you will worship Allah and not associate anything with Him, you will establish the five daily prayers, you will listen and obey - then he spoke some words under his breath - and you will not ask the people for anything: He said: I saw some of that group. If he dropped his whip he would not ask anyone to pick it up for him." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بات عادت میں داخل ہے کہ جب آدمی گھوڑے یا کسی دوسری سواری پر ہو اور اس کا کوڑا گرپڑے تو کسی سے بھی کہتا ہے کہ بھائی ذرا میرا کوڑا اٹھا دو، اور ہر ایک راہ چلتا یہ کام کردیتا ہے، بلکہ اگر کوئی نہ کرے تو لوگ اس کو برا کہیں گے، مگر ان لوگوں نے جن کو آپ ﷺ نے بیعت میں یہ فرمایا تھا کہ کسی سے کچھ مت مانگنا، اتنا کام بھی اپنا کسی اور سے کرانا گوارا نہ کیا، یہ بہت بڑا مرتبہ ہے کہ آدمی سوا اپنے مالک کے کسی سے درخواست نہ کرے، نہ کسی سے کچھ مانگے اور چونکہ یہ کام بہت مشکل تھا اور ہر ایک شخص اس کو نہیں کرسکتا تھا، لہذا آپ ﷺ نے آہستہ سے اس کو فرمایا۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی، تو آپ نے فرمایا: جہاں تک تم سے ہو سکے ١ ؎۔
It was narrated that Attab the freed slave of Hurmuz, said: "I heard Anas bin Malik (RA) say: We gave our pledge to the Messenger of Allah ﷺ on the basis that we would listen and obey. He said: As much as you can." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ، آپ ﷺ ماں باپ سے زیادہ اپنی امت پر مہربان تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: جہاں تک تم سے ہو سکے تاکہ وہ لوگ جھوٹے نہ ہوں جب کسی ایسی بات کا ان کو حکم دیا جائے جو ان کی طاقت سے خارج ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٩، ١٧٢، ١٨٥) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اور نبی اکرم ﷺ سے ہجرت پر بیعت کرلی، اور آپ ﷺ کو اس کے غلام ہونے کا معلوم ہی نہ ہوا، چناچہ اس کا مالک جب اسے لینے کے مقصد سے آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ غلام مجھے بیچ دو ، آپ ﷺ نے اسے دو کالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد کسی سے بھی یہ معلوم کئے بغیر بیعت نہیں کرتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے؟۔
It was narrated that Jabir said: A slave came and gave his pledge to the Prophet ﷺ pledging to emIgrate,. and the Prophet ﷺ did not realize that he was a slave. Then his master came looking for him, and the Prophet ﷺ said: Sell him to me: and he bought him in exchange for two black slaves. Then after that he did not accept the pledge from anyone until he had asked whether he was a slave: (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک وہ آدمی جس کے پاس چٹیل میدان میں فالتو پانی ہو اور مسافر کو پانی لینے سے منع کرے، دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی کے ہاتھ سامان بیچا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ چیز اتنے اتنے میں لی ہے، پھر خریدار نے اس کی بات کا یقین کرلیا، حالانکہ اس نے غلط بیانی سے کام لیا تھا، تیسرا وہ آدمی جس نے کسی امام کے ہاتھ پر بیعت کی، اور مقصد محض دنیاوی فائدہ تھا، چناچہ اگر اس نے اسے کچھ دیا تو بیعت کو پورا کیا، اور اگر نہیں دیا تو پورا نہیں کیا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection, nor will He look at them nor purify them, and theirs will be a painful torment: A man who has surplus water in the desert and withholds it from a wayfarer; a man who sells a man his product after Asr, swearing by Allah that he bought it for Such and such a price, and the other believes him, but that is not the case; and a man who gives his fledge to a ruler, only doing so Or the purpose of worldly gain, and if he is given something he fills it, but if he is not given anything he does not fulfill it." (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل کی حکومت ان کے انبیاء چلایا کرتے تھے، ایک نبی چلا جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا، لیکن میرے بعد تم میں کوئی نبی ہونے والا نہیں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خلیفہ ہوں گے اور بہت ہوں گے ، لوگوں نے کہا: پھر کیسے کریں گے؟ فرمایا: پہلے کی بیعت پوری کرو، پھر اس کے بعد والے کی، اور اپنا حق ادا کرو، اللہ تعالیٰ ان سے ان کے حق کے بارے میں سوال کرے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The affairs of the Children of Israel were administered by their Prophets. Every time a Prophet ﷺ left, he was followed by another, but there will be no Prophet ﷺ among you after I am gone." They said: "What will happen, a Messenger of Allah? ﷺ " He said: "There will be caliphs and there will be many of them." They said: "What should we do?" He said: "Fulfill your pledge to the first one, then the one who comes after him, and do the duties required of you, for Allah will question them about the duties upon them." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٥٠ (٣٤٥٥)، صحیح مسلم/الإمارة ١٠ (١٨٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٤١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩٧) (صحیح )