انعام دینا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّرَقِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَفَّلَ فِي الْبَدْأَةِ الرُّبُعَ، وَفِي الرَّجْعَةِ الثُّلُثَ.
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ شروع لڑائی میں ملنے والے مال غنیمت کا چوتھا حصہ بطور ہبہ دیتے، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیتے ١ ؎۔
It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Prophet ﷺ l awarded one quarter of the spoils to those who attacked the enemy at the beginning and one third to those who attacked at the end.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ لوٹتے وقت پھر لڑائی کرنا دشوار ہوتا ہے اس لئے اس میں زیادہ عطیہ مقرر کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ١٢ (١٥٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٠٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٩، ٣٢٢، ٣٢٣)، سنن الدارمی/السیر ٤٢ (٢٥٢٥) (صحیح) (سابقہ حدیث کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں عبد الرحمن بن الحارث اور سلمان بن موسیٰ کی وجہ سے ضعف ہے )