Sunan Ibne-Majah 2819

جہاد کا بیان

2819Sunan Ibne-Majah

جنگ میں دیباج وحریر (ریشمی لباس) پہننا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا أَخْرَجَتْ جُبَّةً مُزَرَّرَةً بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ هَذِهِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ.

اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ریشم کی گھنڈیاں لگا ہوا جبہ نکالا اور کہنے لگیں: دشمن سے مقابلہ کے وقت نبی اکرم ﷺ اسے پہنتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Umar, the freed slave of Asma, from Asma bint Abi Bakr, that she brought out a cloak edged with brocade and said: "The Prophet ﷺ used to wear this when he met the enemy." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اکثر اہل علم کے نزدیک لڑائی میں ریشمی کپڑا پہننا جائز ہے کیونکہ تلوار ریشم کو مشکل سے کاٹتی ہے، حریر اور دیباج میں یہ فرق ہے کہ دیباج خالص ریشم ہوتا ہے اور حریر میں ریشم ملا ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس و الزینة ٢ (٢٠٦٩)، سنن ابی داود/اللباس ١٢ (٤٠٥٤)، سنن النسائی/الکبری الزینة (٩٦١٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٧، ٣٤٨، ٣٥٣)، الأدب المفرد (٣٤٨) (صحیح) (اس کی سند میں حجاج بن ارطاہ ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، کما فی التخریج )