سرایا۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ مُحَمَّدٌ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْعَامِلِيُّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَكْثَمَ بْنِ الْجَوْنِ الْخُزَاعِيِّ: يَا أَكْثَمُ، اغْزُ مَعَ غَيْرِ قَوْمِكَ، يَحْسُنْ خُلُقُكَ وَتَكْرُمْ عَلَى رُفَقَائِكَ، يَا أَكْثَمُ، خَيْرُ الرُّفَقَاءِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ.
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اکثم بن جون خزاعی ؓ سے فرمایا: اکثم! اپنی قوم کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ جہاد کرو، تمہارے اخلاق اچھے ہوجائیں گے، اور تمہارے ساتھیوں میں تمہاری عزت ہوگی، اکثم! چار ساتھی بہتر ہیں، بہترین دستہ چار سو سپاہیوں کا ہے، اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے، نیز بارہ ہزار کا لشکر کبھی کم تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوگا ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said to Aktham bin Al-Jawn Al-Khuza i: "O Aktham! Ight alongside people other than youurown, it will improve your attitude and make you generous : your companions. a Aktham, e best number of companions is four, the best number of troops on an expedition is four hundred, the best number of an army is four thousand, and twelve thousand will never be overpowered because of their small number." (Daif)