ہتھیار باندھنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الصَّلْتِ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَنَفَّلَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر کے دن اپنی ذوالفقار نامی تلوار (علی ؓ کو) انعام میں دی ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ acquired his sword DhuIfiqa:, from the spoils of war on the Day of Badr. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ انعام بطور نفل تھا اور نفل اس انعام کو کہتے ہیں جو کسی مجاہد کو اس کی کارکردگی اور بہادری کے صلہ میں حصہ سے زیادہ دیا جاتا ہے، یہ تلوار پہلے عاص بن امیہ کی تھی جو بدر کے دن کام آیا، پھر یہ رسول اکرم ﷺ کے پاس آئی، آپ نے اسے علی ؓ کو دے دیا، اور ان کے پاس یہ تلوار ان کے فوت ہونے تک رہی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ١٢ (١٥١٦)، (تحفة الأشراف: ٥٨٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٦١، ٢٧١) (صحیح )