Sunan Ibne-Majah 2499

شفعہ کا بیان

2499Sunan Ibne-Majah

جب حد مقرر ہوجائے تو شفعہ نہیں ہوسکتا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ، وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شفعہ ہر اس جائیداد میں ٹھہرایا ہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو، اور جب حد بندی ہوجائے اور راستے جدا ہوجائیں تو اب شفعہ نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ ruled that preemption takes effect in all cases where land has not been divided. But if the boundaries have been set and the roads laid out, then there is no preemption."

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ وہ جائیداد جو تقسیم کے قابل نہ ہو، اس میں بھی شفعہ نہیں ہے، جیسے حمام اور کنواں وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٩٦ (٢٢١٣)، ٩٧ (٢٢١٤)، الشفعة ٢ (٢٢٥٧)، الحیل ١٤ (٧٦ ٦٩)، الشرکة ٨ (٩٥ ٢٤)، سنن ابی داود/البیوع ٧٥ (٣٥١٤)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٣ (١٣٧٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٥٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/البیوع ١٠٧ (٤٧٠٨)، موطا امام مالک/الشفعة ١ (١)، مسند احمد (٣/٣٧٢، ٣٩٩)، سنن الدارمی/البیوع ٨٣ (٢٦٧٠) (صحیح )