انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ٹڈیوں کو پلیٹوں میں رکھ کر بطور ہدیہ بھیجتی تھیں۔
It was narrated that Abu (Sa’eed) Baqqal heard Anas bin Malik (RA) say: “The wives of the Prophet ﷺ used to give each other gifts of locusts on trays.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٤، ومصباح الزجاجة: ١١٠٨) (ضعیف) (سند میں ابوسعید البقال ضعیف ہیں )
جابر اور انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ ٹڈیوں کے لیے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! بڑی ٹڈیوں کو ہلاک کر دے، چھوٹی ٹڈیوں کو مار ڈال، ان کے انڈے خراب کر دے، اور ان کی اصل (جڑ) کو کاٹ ڈال اور ان کے منہ کو ہماری روزیوں اور غلوں سے پکڑ لے (انہیں ان تک پہنچنے نہ دے) ، بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کیسے اللہ کی ایک فوج کی اصل اور جڑ کاٹنے کے لیے بد دعا فرما رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ٹڈی دریا کی مچھلی کی چھینک ہے ۔ ہاشم کہتے ہیں کہ زیاد (راوی حدیث) نے کہا: تو مجھ سے ایسے شخص نے بیان کیا جس نے مچھلی اسے (ٹڈی کو) چھینکتے دیکھا۔
It was narrated from Jabir and Anas bin Malik (RA) that whenever the Messenger of Allah ﷺ supplicated against the locusts, he said: "O Allah, destroy their large ones and kill their small ones, spoil their eggs and root them out. Take their mouths away from our livelihood and provision, for You are the One Who hears the prayers." A man said: "O Messenger of Allah, are you praying against one of the troops of Allah, that they may be rooted out?" He said: "Locusts were sneezed out by the fish in the sea.” Hashim (one of the narrators) said: “Ziyad (one of the narrators) said: ‘So it was narrated to me by one who saw a fish sneezing them out.’”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٥١، ٢٥٨٥)، ومصباح الزجاجة: ١١٠٩، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٢٣ (١٨٢٣) (موضوع) (سند میں موسیٰ بن محمد ضعیف اور منکر احادیث والے ہیں، ابن الجوز ی نے حدیث کو الموضوعات میں داخل کیا ہے، اور موسیٰ کو متہم قرار دیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١١٢ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے، تو ہمارے سامنے ٹڈیوں کا ایک گروہ آیا، یا ایک قسم کی ٹڈیاں آئیں، تو ہم انہیں اپنے کوڑوں اور جوتوں سے مارنے لگے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں کھاؤ یہ دریا کا شکار ہیں ۔
jiat the Messenger of Allah ﷺ w, jd: “Jibra’il came to me and told me to command my Companions to raise their voices when reciting the TaJbiYah” (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٤٢ (١٨٥٤)، سنن الترمذی/الحج ٢٧ (٨٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٦، ٣٦٤، ٣٧٤، ٤٠٧) (ضعیف) (سند میں ابوالمہزم متروک راوی ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لٹورا (ایک چھوٹا سا پرندہ) ، مینڈک، چیونٹی اور ہُد ہُد کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade killing shrikes, frogs, ants and hoopoes."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٤٤، ومصباح الزجاجة: ١١١٠) (صحیح) (ابراہیم بن الفضل ضعیف ہیں، لیکن حدیث آگے کی ابن عباس ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی کو چیونٹی نے کاٹ لیا، تو انہوں نے چیونٹیوں کے گھر جلا دینے کا حکم دیا، تو وہ جلا دیئے گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس وحی نازل کی کہ آپ نے ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے امتوں (مخلوقات) میں سے ایک امت (مخلوق) کو تباہ کردیا، جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی تھی ؟۔
It was narrated from ‘ Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ of Allah said: “One of the Prophets was bitten by an ant, so he ordered that the ant colony be burned. Then Allah revealed to him: ‘Because one ant bit you, you destroy one of the nations that glorify Allah?’” Another chain with similar wording, and he said (in the beginning): “(An ant) bit…”
اس سند سے بھی ابن شہاب نے سابقہ طریق سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے، اس میں قَرَصَتْه کی بجائے قَرَصَتْ کا لفظ وارد ہے۔
It was narrated from Saeed bin Jubair that a relative of Abdullah bin Mughaffal threw some small pebbles. He told him not to do that and said: "The Prophet ﷺ forbade throwing small pebbles and said: They do not kill any game nor hurt the enemy, but they can break a tooth or put out an eye. He did it again, and he (Abdullah) said: "I tell you that the Prophet ﷺ forbade that and then you go and do it again? I will never speak to you again."
سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل ؓ کے ایک رشتہ دار نے کنکری ماری، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے کنکری مارنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے: نہ اس (کنکری مارنے) سے شکار ہوتا ہے، اور نہ یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے، اور آنکھ پھوٹ جاتی ہے ، اس شخص نے پھر کنکری ماری تو عبداللہ بن مغفل ؓ نے کہا: میں تم سے حدیث بیان کر رہا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اور تم پھر وہی کام کر رہے ہو، اب میں تم سے کبھی بھی بات چیت نہیں کروں گا ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah bin Mughaffal said: "The Prophet ﷺ forbade throwing small pebbles and said: They do not kill any game or hurt the enemy, but they can break a tooth or put out an eye.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عبداللہ بن مغفل ؓ نے غصہ سے کہا، معلوم ہوا کہ جو کوئی حدیث کو سن کر یا جان کر بھی اس کے خلاف پر اصرار کرے اس سے ترک تعلق صحابہ کرام ؓ کا طریقہ ہے، اور ابن عمر ؓ نے حدیث کے خلاف ایک بات کہنے پر اپنے بیٹے کی سرزنش کی، اور ساری عمر اس سے بات نہ کرنے کی بات کہی۔
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کنکری مارنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: اس سے نہ تو شکار مرتا ہے، اور نہ ہی یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے آنکھ پھوٹ جاتی ہے، اور دانت ٹوٹ جاتا ہے ۔
It was narrated from Umm Sharik that the Prophet ﷺ told her to kill house lizards.
ام شریک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever kills a house lizard with one blow will have such and such a reward. Whoever kills it with two blows will have such and such reward," less than the first. "And whoever kills it with three blows will have such and such reward," less than that mentioned the second time.
Notes · وضاحت
١ ؎: ہرچند یہ جانور کسی کو کاٹتے نہیں نہ ایذا دیتے ہیں، لیکن ان سے دل کو نفرت پیدا ہوتی ہے، اور بعضوں نے کہا: یہ زہریلی ہوتی ہیں، بعضوں نے کہا: وہ عرب کے ملک میں اونٹنی کا تھن پکڑ کر دودھ چوس لیتی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص چھپکلی ایک ہی وار میں مار ڈالے تو اس کے لیے اتنی اور اتنی نیکیاں ہیں، اور جس نے دوسرے وار میں ماری تو اس کے لیے اتنی اور اتنی (پہلے سے کم) نیکیاں ہیں، اور جس نے تیسرے وار میں ماری تو اس کے لیے اتنی اور اتنی (دوسرے سے کم) ہیں۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said concerning house lizards: "Vermin."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفةالأشراف: ١٢٧٣١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ٣٨ (٢٢٤٠)، سنن ابی داود/الأدب ١٧٥ (٥٢٦٣)، سنن الترمذی/الأحکام ١ (١٤٨٢)، مسند احمد (٢/٣٥٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کو فویسقہ چھوٹا فاسق (یعنی موذی) کہا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Saibah, the freed slave woman of Fakih bin Mughirah, that she entered upon Aisha (RA) and saw a spear in her house. She said: "O Mother of the Believers, what do you do with this?" She said: "We kill these house lizards with it, for the Prophet ﷺ of Allah told us that when Ibrahim was thrown into the fire, there was no beast on earth that did not try to put it out, apart from the house lizard that blew on it. So the Messenger of Allah ﷺ commanded that they should be killed."
Notes · وضاحت
١ ؎: فویسقہ اس کی تحقیر اور تذلیل کے لئے کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٣١)، بدء الخلق ١٥ (٣٣٠٦)، صحیح مسلم/السلام ٣٨ (٢٢٤٠)، سنن النسائی/الحج ١١٥ (٢٨٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٧، ١٥٥، ٢٧١، ٢٧٩) (صحیح )
فاکہ بن مغیرہ کی لونڈی سائبہ کہتی ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آئیں تو انہوں نے آپ کے گھر ایک برچھا رکھا ہوا دیکھا، تو عرض کیا: ام المؤمنین! آپ اس برچھے سے کیا کرتی ہیں؟ کہا: ہم اس سے ان چھپکلیوں کو مارتے ہیں، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کے تمام جانوروں نے آگ بجھائی سوائے چھپکلی کے کہ یہ اسے (مزید) پھونک مارتی تھی، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Thalabah Al-Khushani that the Prophet ﷺ forbade eating any predatory animal that has fangs. Az-Zuhri said: "I did not hear about that until I entered Sham.”
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ چھپکلی کا قتل مذہبی عداوت کی وجہ سے ہے، چونکہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دشمن تھی، تو سارے مسلمانوں کو اس کا دشمن ہونا چاہیے، اور بعضوں نے کہا: شیطان چھپکلی کی شکل بن کر آگ پھونکتا تھا، اس لئے آپ ﷺ نے اس شکل کو برا جانا، اور اس کے ہلاک کرنے کا حکم دیا، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دشمن کے برے کام کرنے سے کبھی اس کی ساری قوم مطعون ہوجاتی ہے، اور وہ مکروہ سمجھی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤٣، ومصباح الزجاجة: ١١١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٣، ١٠٩) (صحیح )
ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر کچلی (نوک دار دانت) والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ زہری کہتے ہیں کہ شام جانے سے پہلے میں نے یہ حدیث نہیں سنی۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Eating any predatory animal that has fangs is unlawful."
Notes · وضاحت
١ ؎: ناب اس دانت کو کہتے ہیں جو رباعیہ کے پیچھے ہوتا ہے، اور رباعیہ ثنایا کے ساتھ ہوتے ہیں، ناب کو ہم کچلی (نوک دار اور کتا دانت) کہتے ہیں، کچلیوں والے جانور سے مراد وہ درندہ ہے جس کی کچلیاں ہوں جو شکار کرنے میں قوت کا باعث بنیں مثلاً شیر، بھیڑیا، چیتا اور تندوا وغیرہ۔
ابوہریرہ ؓ کہتے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر کچلی (نوک دار دانت) والے درندے کا کھانا حرام ہے ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "On the Day of Khaibar, the Messenger of Allah ﷺ forbade eating any predatory animal that has fangs and any bird that has talons."
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصید ٢٨ (٤٣٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٤١٣٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصید ٤ (١٤)، صحیح مسلم/الصید ٣ (١٩٣٣)، سنن الترمذی/الصید ٣ (١٤٦٧)، مسند احمد (٢/٤١٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن ہر کچلی (نوک دار دانت) والے درندے اور پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا ١ ؎۔
It was narrated that Khuzaimah bin Jaz’ said: “I said: ‘O Messenger of Allah ﷺ , I have come to ask you about the vermin of the earth. What do you say about foxes?’ He said: ‘Who eats foxes?’ I said: ‘O Messenger of Allah, what do you say about wolves?’ He said: ‘Does anyone in whom there is anything good eat wolves?” (Da`if)
Notes · وضاحت
١ ؎: پنجہ والے پرندے سے مراد وہ پرندے ہیں جو پنجہ سے شکار کرتے ہیں، جیسے باز بحری، شکرہ، عقاب، چیل، گدھ وغیرہ، اور الو بھی پنجہ سے شکار کرتا ہے پس وہ اس قاعدے کے موافق حرام ہوگا، لیکن افسوس ہے کہ بعض فقہا حنفیہ کو اس کی خبر نہیں ہوئی، اور انہوں نے اپنی کتابوں میں الو کو حلال لکھا ہے، چناچہ فتاویٰ عالم گیری میں ہے کہ الو کھایا جائے گا، روضہ ندیہ میں ہے کہ کبوتر بھی پنجہ رکھتا ہے لیکن وہ حلال ہے، اسی طرح چڑیا کیونکہ وہ پاک اور نفیس ہیں۔
خزیمہ بن جزء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کی خدمت میں زمین کے کیڑوں کے متعلق سوال کرنے آیا ہوں، آپ لومڑی کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: لومڑی کون کھاتا ہے ؟ پھر میں نے عرض کیا: آپ بھیڑئیے کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہیں کوئی آدمی جس میں خیر ہو بھیڑیا کھاتا ہے ؟ ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abu Ammar, who is ‘Abdur-Rahman, said: "I asked Jabir bin Abdullah about hyenas: ‘Are they game (that can be hunted)? He said: ‘Yes.’ I said: Can I eat them? He said: ‘Yes.’ I said: Is this something that you heard from the Messenger of Allah? ﷺ He said: Yes."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث تو ضعیف ہے لیکن لومڑی شکار کرتی ہے، تو وہ دانت والے درندوں میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٣٣، ومصباح الزجاجة: ١١١٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٤ (١٧٩٢)، مقتصراً علی الجملة الأخیرة) (ضعیف) (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز عبد الکریم ضعیف ہیں )
عبدالرحمٰن بن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے ضبع (لکڑبگھا) ١ ؎ کے متعلق سوال کیا، کیا وہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے عرض کیا: کیا میں اسے کھاؤں؟ کہا: ہاں، پھر میں نے عرض کیا: کیا آپ نے (اس سلسلے میں) رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔
It was narrated that Khuzaimah bin Jaz said: “I said: O Messenger of Allah, what do you say about hyenas? He said: ‘Who eats hyenas?’”Hyenas
Notes · وضاحت
ضبع: ایک درندہ ہے، جو کتے سے بڑا اور اس سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اس کا سر بڑا اور جبڑے مضبوط ہوتے ہیں، اس کی جمع اضبع ہے (المعجم الوسیط: ٥٣٣ -٥٣٤) ہندو پاک میں اس درندے کو لکڑبگھا کہتے ہیں، جو بھیڑیے کی قسم کا ایک جنگلی جانور ہے، اور جسامت میں اس سے بڑا ہوتا ہے، اور اس کے کیچلی کے دانت بڑے ہوتے ہیں، اس کے جسم کے بال کالے اور راکھ کے رنگ کے رنگ دھاری دار ہوتے ہیں، پیچھے بائیں پاؤں دوسرے پاؤں سے چھوٹا ہوتا ہے، اس کا سر چیتے کے سر کی طرح ہوتا ہے، لیکن اس سے چھوٹا ہوتا ہے، وہ اپنے چوڑے چکلے مضبوط جبڑوں سے شیر اور چیتوں کے سر کو توڑ سکتا ہے، اکثر رات میں نکلتا ہے، اور اپنے مجموعے کے ساتھ رہتا ہے، یہ جانور زمین میں سوراخ کر کے مختلف چھوٹے چھوٹے کمرے بناتے ہیں، اور بیچ میں ایک ہال ہوتا ہے، جس میں سارے کمروں کے دروازے ہوتے ہیں، اور ایک دروازہ اس ہال سے باہر کو جاتا ہے، نجد میں ان کی اس رہائش کو مضبعہ یا مجفرہ کہتے ہیں، ماں پورے خاندان کی نگران ہوتی ہے، اور سب کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے، اور نر سوراخ کے کنارے پر چھوٹوں کی نگرانی کرتا ہے، یہ جانور مردہ کھاتا ہے، لیکن شکار کبھی نہیں کرتا اور کسی پر حملہ بھی نہیں کرتا إلا یہ کہ کوئی اس پر حملہ آور ہو، یہ جانوروں کے پیچھے رہتا ہے، اس کی گردن سیدھی ہوتی ہے، اس لیے دائیں بائیں جسم موڑے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اہل نجد کے یہاں یہ جانور کھایا جاتا تھا اور لوگ اس کا شکار کرتے تھے، میں نے اس کے بارے میں اپنے ایک دوست ڈاکٹر محمد احمد المنیع پروفیسر کنگ سعود یونیورسٹی، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور بذات خود صحرائی جانور کا تجربہ رکھتے ہیں، سے پوچھا تو انہوں نے مذکورہ بالا تفصیلات سے مجھے آگاہ کیا اور اس کے زمین کے اندر کے گھر کا نقشہ بھی بنا کر دکھایا۔ اس کے گھر کو ماند اور کھوہ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ یہ تفصیل اس واسطے درج کی جاری ہے کہ مولانا وحیدالزماں نے ضبع کا ترجمہ بجو سے کیا ہے، فرماتے ہیں: فارسی زبان میں اسے کفتار اور ہندی میں بجو کہتے ہیں، یہ گوشت خور جانور ہے، جو بلوں میں رہتا ہے، مولانا محمد عبدہ الفلاح فیروز پوری کہتے ہیں کہ ضبع سے مراد بجو نہیں ہے بلکہ اس نوع کا ایک جانور ہے جسے شکار کیا جاتا ہے، اور اس کو لکڑبگڑکھا کہا جاتا ہے، جو سابقہ ریاست سندھ اور بہاولپور میں پایا جاتا ہے۔ اوپر کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث میں مذکور ضبع سے مراد لکڑبگھا ہے، بجو نہیں، شاید مولانا وحیدالزماں کے سامنے دمیری کی حیاۃ الحیوان تھی جس میں ضبع کی تعریف بجو سے کی گئی ہے، اور شیخ صالح الفوزان نے بھی حیاۃ الحیوان سے نقل کر کے یہی لکھا ہے، مولانا وحید الزماں بجو کے بارے میں فرماتے ہیں: ” اس سے صاف نکلتا ہے کہ بجو حلال ہے، امام شافعی کا یہی قول ہے، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ دانت والا درندہ ہے، تو اور درندوں کی طرح حرام ہوگا، اور جب حلت اور حرمت میں تعارض ہو تو اس سے باز رہنا بھی احتیاط ہے “ سابقہ تفصیلات کی روشنی میں ہمارے یہاں لکڑبگھا ہی ضبع کا صحیح مصداق ہے، اور اس کا شکار کرنا اور اس کو کھانا صحیح حدیث کی روشنی میں جائز ہے۔ واضح رہے کہ چیرپھاڑ کرنے والے حیوانات حرام ہے، یعنی جس کی کچلی ہوتی ہے، اور جس سے وہ چیر پھاڑ کرتا ہے، جیسے: کتا، بلی جن کا شمار گھریلو یا پالتو جانور میں ہے اور وحشی جانور جیسے: شیر، بھیڑیا، چیتا، تیندوا، لومڑی، جنگلی بلی، گلہری، بھالو، بندر، ہاتھی، سمور (نیولے کے مشابہ اور اس سے کچھ بڑا اور رنگ سرخ سیاہی مائل) گیدڑ وغیرہ وغیرہ۔ حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے یہاں یہ سارے جانور حرام ہیں، اور مالکیہ کا ایک قول بھی ایسے ہی ہے، لکڑبگھا اور لومڑی ابویوسف اور محمد بن حسن کے نزدیک حلال ہے، جمہور علماء ان حیوانات کی حرمت کے دلیل میں ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر کچلی والے درندے کا کھانا حرام ہے (صحیح مسلم و موطا امام مالک) لکڑبگھا حنابلہ کے یہاں صحیح حدیث کی بنا پر حلال ہے، کچلی والے درندے میں سے صرف لکڑبگھا کو حرمت کے حکم سے مستثنی کرنے والوں کی دلیل اس سلسلے میں وارد احادیث و آثار ہیں، جن میں سے زیر نظر جابر ؓ کی حدیث ہے، جو صحیح ہے بلکہ امام بخاری نے بھی اس کی تصحیح فرمائی ہے (کمافي التلخیص الحبیر ٤ /١٥٢)، نافع مولیٰ ابن عمر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر کو یہ بتایا کہ سعد بن ابی وقاص لکڑبگھا کھاتے ہیں تو ابن عمر نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ مالکیہ کے یہاں ان درندوں کا کھانا حلال ہے، ان کا استدلال اس آیت کریمہ سے ہے قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة أو دما مسفوحا أو لحم خنزير فإنه رجس أو فسقا أهل لغير الله به فمن اضطر غير باغ ولا عاد فإن ربک غفور رحيم (سورة الأنعام: 145) ان آیات میں درندوں کے گوشت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اس لیے یہ حلال ہوں گے اور ہر کچلی والے درندے کے گوشت کھانے سے ممانعت والی حدیث کراہت پر محمول کی جائے گی۔ خلاصہ یہ کہ مالکیہ کے علاوہ صرف حنبلی مذہب میں صحیح حدیث کی بنا پر لکڑبگھا حلال ہے (ملاحظہ ہو: الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ: ٥ /١٣٣-١٣٤ )
خزیمہ بن جزء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ لکڑبگھا کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: لکڑبگھا کون کھاتا ہے ؟۔
It was narrated that Thabit bin Yazid Al-Ansari said: "We were with the Prophet ﷺ and the people caught a mastigure. They grilled it and ate from it. Then I caught a mastigure so I grilled it and brought it to the Prophet ﷺ He took a palm stalk and started counting his fingers with it, and said: A nation from among the Children of Israel was turned into beasts of the earth, and I do not know if this is they. I said: The people have grilled them and eaten them. He did not eat it and he did not forbid it."
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأطعمة ٤ (١٧٩٢)، (تحفة الأشراف: ٣٥٣٣) (ضعیف) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز عبد الکریم بن ابی المخارق ضعیف راوی ہیں )
ثابت بن یزید انصاری ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، لوگوں نے ضب (گوہ) پکڑے اور انہیں بھونا، اور اس میں سے کھایا، میں نے بھی ایک گوہ پکڑی اور اسے بھون کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر کیا، آپ ﷺ نے ایک لکڑی لی، اور اس کے ذریعہ اس کی انگلیاں شمار کرنے لگے اور فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ ہو کر زمین میں کا ایک جانور بن گیا، اور میں نہیں جانتا شاید وہ یہی ہو ، میں نے عرض کیا: لوگ اسے بھون کر کھا بھی گئے، پھر آپ ﷺ نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی (اس کے کھانے سے) منع کیا۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah (RA) : "The Prophet ﷺ did not forbid (eating) mastigures, but he found that distasteful. It is the food of most shepherds, and Allah, the Mighty and Sublime, has benefited more than one person thereby. If I had some I would eat it."Another chain with similar wording.