مجوسی کے کتے کا شکار
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْسُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نُهِينَا عَنْ صَيْدِ كَلْبِهِمْ، وَطَائِرِهِمْ، يَعْنِي الْمَجُوسَ.
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے یعنی مجوسیوں کے کتے، یا ان کے پرندوں کے شکار (کھانے) سے منع کردیا گیا ہے۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "We were forbidden (to eat) the game caught by their dogs and birds - meaning the Zoroastrians."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٧١، ومصباح الزجاجة: ١١٠٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصید ٢ (١٤٦٦) (ضعیف الإسناد) (سند میں حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ترمذی میں، وطائر ھم کا لفظ نہیں ہے نیز ترمذی نے اسے ضعیف کہا ہے )