جب دو جتنے مل جائیں تو غسل واجب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ، قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنْبَأَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَال: إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أُمِرْنَا بِالْغُسْلِ بَعْدُ.
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ یہ اجازت ابتداء اسلام میں تھی، پھر ہمیں بعد میں غسل کا حکم دیا گیا ١ ؎۔
Ubayy bin Kab said: "That was a concession that was granted in the early days of Islam, then we were commanded to have a bathe after that.
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ کہ اب چاہے انزال ہو یا نہ ہو غسل واجب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨٤ (٢١٤، ٢١٥)، سنن الترمذی/الطہارة ٨١ (١١١)، (تحفة الأشراف: ٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/ ١١٥، ١١٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٧٤ (٧٨٧) (صحیح )