حج کرناعورتوں کیلئے جہاد ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ، الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، لیکن ان پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں ہے اور وہ حج اور عمرہ ہے ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: O Messenger of Allah, is Jihad obligatory for women? He said: "Yes: Upon them is a Jihad in which there is no fighting: AI-Hajj and AI-Umrah." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤ (١٥٢٠)، الجہاد ٦٢ (٢٧٨٤، ٢٨٧٦) سنن النسائی/الحج ٤ (٢٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧١، ٧٦، ٧٩ ١٦٥) (صحیح )