حج کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 27 · 238 hadiths · Page 2 of 12

2902Sunan Ibne-Majah

حج کرناعورتوں کیلئے جہاد ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج ہر ناتواں اور ضعیف کا جہاد ہے ۔

It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Hajj is the Jihad of every weak person." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٢١١، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج ٤ (٢٦٢٩)، مسند احمد (٢/٢١، ٦/٢٩٤، ٣٠٣، ٣١٤) (حسن) (ابوجعفر الباقر کا سماع ام سلمہ ؓ سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد و متابعات سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٥١٩ )۔
2903Sunan Ibne-Majah

میت کی جانب سے حج کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شُبْرُمَةُ؟، قَالَ: قَرِيبٌ لِي، قَالَ: هَلْ حَجَجْتَ قَطُّ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ أحْجُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لبیک عن شبرمہ حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے کہتے ہوئے سنا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: شبرمہ کون ہے ؟ اس نے بتایا: وہ میرا رشتہ دار ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم نے کبھی حج کیا ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو اس حج کو اپنی طرف سے کرلو، پھر (آئندہ) شبرمہ کی طرف سے کرنا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ heard a man saying: "Labbaik an Shubrumah (Here I am (O Allah) on behalf of Shubrumah." The Messenger of Allah ﷺ said: "Who is Shubrumah?" He said: "A relative of mine." He said: "Have you ever performed Hajj?" He said: "No." He said: "Then make this for yourself, then perform Hajj on behalf of Shubrumah." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج دوسرے کی طرف سے نائب ہو کر کرنا جائز ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ اس سے پہلے خود اپنا فریضہ حج ادا کرچکا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٢٦ (١٨١١)، (تحفة الأشراف: ٥٥٦٤) (صحیح )
2904Sunan Ibne-Majah

میت کی جانب سے حج کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْيَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَحُجُّ عَنْ أَبِي؟، قَالَ: نَعَمْ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ، فَإِنْ لَمْ تَزِدْهُ خَيْرًا لَمْ تَزِدْهُ شَرًّا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا: کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اپنے والد کی طرف سے حج کرو، اگر تم ان کی نیکی نہ بڑھا سکے تو ان کی برائی میں اضافہ مت کرو ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: “A man came to the Prophet ﷺ and said: ‘Shall I Perform Hall on behalf of my father’ He said: ‘Yes, perform Ha Ofl behalf of your father, for if You cam-rot add any good to his record (at least) you will not add aWthing bad.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی باپ کے بڑے احسانات ہیں، آدمی کو چاہیے کہ اپنے والد کی طرف سے خیر خیرات اور اچھے کام کرے، جیسے صدقہ اور حج وغیرہ، اگر یہ نہ ہو سکے تو اتنا ضروری ہے کہ والد کے ساتھ برائی نہ کرے، وہ برائی یہ ہے دوسرے لوگوں سے لڑ کر والد کو گالیاں دلوائے یا برا کہلوائے یا ان کے والد کو برا کہہ کر، جیسے دوسری حدیث میں آیا ہے کہ بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کو گالی دے، لوگوں نے عرض کیا: اپنے والد کو کون گالی دے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس طرح سے کہ دوسرے کے والد کو گالی دے وہ اس کے والد کو گالی دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٥٥، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٤) (صحیح الإسناد )
2905Sunan Ibne-Majah

میت کی جانب سے حج کرنا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْغَوْثِ بْنِ حُصَيْنٍ، رَجُلٌ مِنَ الْفُرْعِ أَنَّهُ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَجَّةٍ كَانَتْ عَلَى أَبِيهِ مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُجَّ عَنْ أَبِيكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَكَذَلِكَ الصِّيَامُ فِي النَّذْرِ، يُقْضَى عَنْهُ.

مقام فرع کے ایک شخص ابوالغوث بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے ایسے حج کی ادائیگی کے بارے میں سوال کیا جو ان کے والد پر فرض تھا، اور وہ بغیر حج کیے مرگئے تھے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج کرو ، نیز آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: اسی طرح کا معاملہ نذر مانے ہوئے صیام کا بھی ہے کہ ان کی قضاء اس کی طرف سے کی جائے گی ۔

It was narrated from Abu Ghawth bin Husain - a man from Furu - that he consulted the Prophet ﷺ about a Hajj that his father owed, but he had died and had not gone for Hajj. The Prophet ﷺ said: "Perform Hajj on behalf of your father." And the Prophet ﷺ said: "The same applies to fasting in fulfillment of a vow - it should be made up for." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٧٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٥) (ضعیف الإسناد) (سند میں عثمان بن عطاء خراسانی ضعیف ہیں، بلکہ بعضوں کے نزدیک متروک، حدیث کے پہلے جملہ کے لئے آگے کی حدیث ( ٢٩٠٦ ) دیکھیں )
2906Sunan Ibne-Majah

زندہ کی طرف سے حج کرنا جب اس میں ہمت نہ رہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ، قَالَ: حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ.

ابورزین عقیلی ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی، اور نہ سواری پر سوار ہونے کی (فرمائیے! ان کے متعلق کیا حکم ہے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو ۔

It was narrated from Abu Razin AI-Uqaili that he came to the Prophet ﷺ and said: "O Messenger of Allah, my father is an old man and he cannot perform Hajj or Umrah, and he is not able to ride the mount (due to old age)." He said: "Perform Hajj and Umrah on behalf of your father." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٢٦ (١٨١٠)، سنن النسائی/الحج ٢ (٢٦٢٢)، ١٠ (٢٦٣٨)، (تحفة الأشراف: ١١١٧٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ٨٧ (٩٣٠)، مسند احمد (٤/١٠، ١١، ١٢) (صحیح )
2907Sunan Ibne-Majah

زندہ کی طرف سے حج کرنا جب اس میں ہمت نہ رہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ، جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ أَفْنَدَ، وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَدَاءَهَا فَهَلْ يُجْزِئُ عَنْهُ أَنْ أُؤَدِّيَهَا عَنْهُ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ بہت ناتواں اور ضعیف ہوگئے ہیں، اور اللہ کا بندوں پر عائد کردہ فرض حج ان پر لازم ہوگیا ہے، وہ اس کو ادا کرنے کی قوت نہیں رکھتے، اگر میں ان کی طرف سے حج ادا کروں تو کیا یہ ان کے لیے کافی ہوگا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں ۔

It was narrated from ‘Abdullâh bin ‘Abbâs that a woman from Khath’am came to the Prophet ﷺ and said: “O Messenger of Allah, my father is an old man who has become weak, and now the command of Allah has come for His slaves to perform Hajj, but he cannot do it. Will it discharge his duty if I perform it on his behalf?” The Messenger of Allah ﷺ said: “Yes.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ١ (١٥١٣)، جزاء الصید ٢٣ (١٨٥٤)، ٢٤ (١٨٥٥)، المغازي ٧٧ (٤٣٩٩)، الاستئذان ٢ (٦٢٢٨)، صحیح مسلم/الحج ٧١ (١٣٣٤)، سنن ابی داود/الحج ٢٦ (١٨٠٩)، سنن الترمذی/الحج ٨٥ (٩٢٨)، سنن النسائی/الحج ٨ (٢٦٣٤)، ٩ (٢٦٣٦)، موطا امام مالک/الحج ٣٠ (٩٧)، مسند احمد (١/٢١٩، ٢٥١، ٣٢٩، ٣٤٦، ٣٥٩)، سنن الدارمی/الحج ٢٣ (١٨٧٣) (حسن الإسناد )
2908Sunan Ibne-Majah

زندہ کی طرف سے حج کرنا جب اس میں ہمت نہ رہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَوْفٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُجَّ إِلَّا مُعْتَرِضًا، فَصَمَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: حُجَّ عَنْ أَبِيكَ.

حصین بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد پر حج فرض ہوگیا ہے لیکن وہ حج کرنے کی سکت نہیں رکھتے، مگر اس طرح کہ انہیں کجاوے کے ساتھ رسی سے باندھ دیا جائے؟ یہ سن کر آپ ﷺ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو ۔

It was narrated that Ibn ‘AbbaS said: Husain bin ‘Awf told me: I said: “O Messenger of Allah, the con-gnand for Hall has come but my father cannot perform Hajj Unless he is tied to a saddle.” Some time passed, then he said: Perform Hajj on behalf of your father.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٤١٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٦) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن کریب منکر الحدیث ہیں، لیکن صحیح و ثابت احادیث ہی ہمارے لئے کافی ہیں )
2909Sunan Ibne-Majah

زندہ کی طرف سے حج کرنا جب اس میں ہمت نہ رہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ النَّحْرِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَرْكَبَ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكِ دَيْنٌ قَضَيْتِهِ.

عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یوم النحر کی صبح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے آپ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کے بندوں پر عائد کیے ہوئے فریضہ حج نے میرے والد کو بڑھاپے میں پایا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اس لیے کہ اگر تمہارے باپ پر کوئی قرض ہوتا تو تم اسے چکاتیں نا ؟ ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that his brother Fadl was riding behind the Messenger of Allah ﷺ in the morning of the day of sacrifice (i.e., the 10the of Dhul-Hijjah), when a woman from Khatham came and said: "O Messenger of Allah, the command of Allah has come for His slaves to perform Hajj, but my father is an old man and cannot ride. May I perform Hajj on his behalf?" He said: "Yes, because if your father owed a debt you would pay it off." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جب والد نے قرض کی ادائیگی کے لیے مال نہ چھوڑا ہو، تو باپ کا قرض ادا کرنا بیٹے پر لازم نہیں ہے، لیکن اکثر نیک اور صالح اولاد اپنی کمائی سے ماں باپ کا قرض ادا کردیتے ہیں، ایسا ہی آپ ﷺ نے اس عورت سے بھی پوچھا کہ تم اپنے والد کا قرض ادا کرتی یا نہیں؟ جب اس نے کہا کہ میں ادا کرتی تو آپ ﷺ نے فرمایا: حج بھی اس کی طرف سے ادا کر دو، وہ اللہ کا قرض ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٢٣ (١٨٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٧١ (١٣٣٥)، سنن الترمذی/الحج ٨٥ (٩٢٨)، سنن النسائی/آداب القضاة ٩ (٥٣٩١)، (تحفة الأشراف: ١١٠٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٢، ٣١٣، ٣٥٩)، سنن الدارمی/المناسک ٢٣ (١٨٧٥) (صحیح )
2910Sunan Ibne-Majah

نابالغ کا حج کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ؟، قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو حج کے دوران نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کرتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: ہاں اور اجر و ثواب تمہارے لیے ہے ١ ؎۔

it was narrated that Jabir bin Abdullah said: "A woman held up a child of hers to the Prophet ﷺ i during Hajj and said: O Messenger of Allah, is there Hajj for this one? He said: Yes, and you will be rewarded. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ لڑکے کا حج صحیح ہے، چونکہ اس کا ولی اس کی جانب سے کم عمری کی وجہ سے حج کے ارکان ادا کرتا ہے اس لیے وہ ثواب کا مستحق ہوگا، البتہ یہ حج اس بچے سے حج کی فرضیت کو ساقط نہیں کرے گا، بلوغت کے بعد استطاعت کی صورت میں اسے حج کے فریضے کی ادائیگی کرنی ہوگی، اور بچپن کا حج نفل قرار پائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ٨٣ (٩٢٤)، (تحفة الأشراف: ٣٠٧٦) (صحیح )
2911Sunan Ibne-Majah

حیض ونفاس والی عورت حج کا احرام باندھ سکتی ہے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِالشَّجَرَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ، أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اسماء بنت عمیس ؓ کو مقام شجرہ میں نفاس آگیا، رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ وہ غسل کر کے تلبیہ پکاریں ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "Asma bint Umais gave birth at Shajarah, and the Messenger of Allah ﷺ told Abu Bakr (RA) to tell her to take a bath and begin the Talbiyah." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: شجرہ: ذوالحلیفہ میں ایک درخت تھا جس کی مناسبت سے اس جگہ کا نام شجرہ پڑگیا۔ اس وقت عوام میں یہ مقام بئر علی کے نام سے مشہور ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب انہیں حیض آیا تو نبی کریم ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ ہر ایک کام کرو جو حاجی کرتے ہیں، فقط بیت اللہ (خانہ کعبہ) کا طواف نہ کرو جب تک کہ غسل نہ کرلو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٦ (١٢٠٩)، سنن ابی داود/الحج ١٠ (١٧٤٣)، سنن النسائی/الحیض ٢٤ (٢١٥)، الحج ٥٧ (٢٧٦١)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٠٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٤١ (١٢٧، ١٢٨)، سنن الدارمی/المناسک ١١ (١٨٤٥)، ٣٤ (١٨٩٢) (صحیح )
2912Sunan Ibne-Majah

حیض ونفاس والی عورت حج کا احرام باندھ سکتی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، فَوَلَدَتْ بِالشَّجَرَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، ثُمَّ تُهِلَّ بِالْحَجِّ، وَتَصْنَعَ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ، إِلَّا أَنَّهَا لَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ.

ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کے لیے نکلے، ان کے ساتھ (ان کی بیوی) اسماء بنت عمیس ؓ تھیں، ان سے مقام شجرہ (ذوالحلیفہ) میں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، ابوبکر ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور آپ کو اس کی اطلاع دی، رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ وہ غسل کریں، پھر تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اور وہ تمام کام انجام دیں، جو دوسرے لوگ کریں البتہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Bakr (RA) that he went out for Hajj with the Messenger of Allah ﷺ and Asma bint "Umais was with him. She gave birth, at Shajarah, to Muhammad bin Abu Bakr. Abu Bakr (RA) came to the Prophet ﷺ and told him about that, and the Messenger of Allah ﷺ told him to tell her to take a bath, then begin the Talbiyah for Hajj, and to do everything that the people did,apart from circumambulating the House (Tawaf). (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: طواف ایک ایسی عبادت ہے جس میں طہارت شرط ہے، اسی وجہ سے رسول اکرم ﷺ نے اسماء ؓ کو طواف سے روک دیا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٢٦ (٢٦٦٥)، (تحفة الأشراف: ٦٦١٧) (صحیح )
2913Sunan Ibne-Majah

حیض ونفاس والی عورت حج کا احرام باندھ سکتی ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا، أَنْ تَغْتَسِلَ، وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبٍ وتُهِلَّ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس ؓ کو محمد بن ابی بکر کی (ولادت کی) وجہ سے نفاس (کا خون) آیا، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو کہلا بھیجا، تو آپ ﷺ نے انہیں غسل کرنے، اور کپڑے کا لنگوٹ کس کر احرام باندھ لینے کا حکم دیا۔

It was narrated that Jabir said: Asma bint "Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr and sent word to the Prophet ﷺ . He told her to take a bath, fasten a cloth around her private part and begin the Talbiyah." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٦ (١٢١٠)، سنن ابی داود/الحج ١٠ (١٧٤٣)، سنن النسائی/الحیض ٢٤ (٢١٥)، الحج ٥٧ (٢٧٦٢، ٢٧٦٣)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٤١ (١٢٧، ١٢٨)، سنن الدارمی/المناسک ١١ (١٨٤٥) (صحیح )
2914Sunan Ibne-Majah

آفاقی کی میقات کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَّا هَذِهِ الثَّلَاثَةُ، فَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہل مدینہ ذو الحلیفہ سے تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اہل شام جحفہ سے، اور اہل نجد قرن سے، عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رہیں یہ تینوں (میقاتیں) تو انہیں میں نے (براہ راست) رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، اور مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہل یمن یلملم سے تلبیہ پکاریں، (اور احرام باندھیں) ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "The people of AI-Madinah should begin the Talbiyah from Dhul-Hulaifah, the people of Sham from Juhfah, and the people of Najd from Qarn." Abdullah said: As for these three, I heard them from the Messenger of Allah ﷺ . And it reached me that the Messenger of Allah ﷺ said: And the people of Yemen should enter lhram from Yalamlam.

Notes · وضاحت
١ ؎: میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر کو احرام باندھنا اور تلبیہ پکارنا ضروری ہوتا ہے، البتہ حاجی یا معتمر مکہ میں یا میقات کے اندر رہ رہا ہو تو اس کے لیے گھر سے نکلتے وقت احرام باندھ لینا ہی کافی ہے میقات پر جانا ضروری نہیں۔ اور یلملم ایک پہاڑی ہے جو مکہ سے دو منزل پر ہے، برصغیر (ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش) سے بحری جہاز سے آنے والے لوگ اس کے محاذا ۃ سے احرام باندھتے اور تلبیہ پکارتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٥٣ (١٣٣)، الحج ٥ (١٥٢٢)، ٨ (١٥٢٥، ١٠ (١٥٢٨)، صحیح مسلم/الحج ٢ (١١٨٢)، سنن ابی داود/الحج ٩ (١٧٣٧)، سنن النسائی/الحج ١٧ (٢٦٥٢)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٨ (٢٢)، مسند احمد (٢/٤٨، ٥٥، ٦٥)، سنن الدارمی/المناسک ٥ (١٨٣١) (صحیح )
2915Sunan Ibne-Majah

آفاقی کی میقات کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْمَشْرِقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ لِلْأُفُقِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: اہل مدینہ کے تلبیہ پکارنے (اور احرام باندھنے) کا مقام ذو الحلیفہ ہے، اہل شام کا جحفہ، اہل یمن کا یلملم اور اہل نجد کا قرن ہے، اور مشرق سے آنے والوں کے احرام کا مقام ذات عرق ہے، پھر آپ ﷺ نے اپنا رخ آسمان کی طرف کیا اور فرمایا: اے اللہ! ان کے دل ایمان کی طرف لگا دے ١ ؎۔

It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah ﷺ addressed us and said: ‘The Talbiyah of the people of Al-Madinah begins at Dhul-Hulaifah. The Talbiyah of the people of Sham begins at Juhfah. The Talbiyah of the people of Yemen begins at Yalamlam. The Talbiyah of the people of Najd begins at Qarn. The Talbiyah of the people of the east begins at Dhàt ‘Irq.’ Then he turned to face the (eastern) horizon and and said: `O Allah, make their steadfast.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کے وقت میں مشرق کی طرف کفر کا غلبہ تھا، اس وجہ سے وہاں کے لوگوں کے لیے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے مشرق والوں کو مسلمان کردیا، کروڑوں مسلمان ہندوستان میں گزرے جو مکہ سے مشرق کی جانب ہے، بعض کہتے ہیں کہ دوسری حدیث میں ہے کہ مشرق سے فتنہ نمودار ہوگا، اس لیے آپ ﷺ نے ان لوگوں کے لیے ہدایت کی دعا کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٦٥٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٧)، وقد أخر جہ: صحیح مسلم/الحج ٢ (١١٨٣)، مسند احمد (٢/١٨١، ٣/٣٣٣، ٣٣٦) (صحیح) (اس سند میں ابراہیم الہجری ضعیف ہے، لیکن متن صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤؍ ١٧٦ ، تراجع الألبانی: رقم: ٥٢٦ )
2916Sunan Ibne-Majah

احرام کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے اور اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوجاتی، تو آپ ذو الحلیفہ کی مسجد کے پاس سے لبیک پکارتے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that when the Messenger of Allah ﷺ , put his foot in the stirrup and his riding beast rose.up with him, he would say the Talbiyah from the Masjid of Dhul-Hulaifah. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تلبیہ پکارنے کے سلسلے میں صحیح اور درست بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ذی الحلیفہ میں نماز ظہر کے بعد تلبیہ پکارا، اور اونٹنی پر سوار ہوئے تو دوبارہ تلبیہ پکارا، اسی طرح جب آپ مقام بیدا میں پہنچے تو وہاں بھی تلبیہ پکارا، آپ کے ساتھ حج کرنے والے صحابہ کرام ؓ کی ایک بڑی جماعت تھی ہر صحابی ہر جگہ موجود نہیں رہا، اس لیے جس نے جیسا سنا روایت کردیا لیکن دوسرے کی نفی نہیں کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٠٣٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٢ (١٥١٤)، ٢٨ (١٥٥٢)، ٢٩ (١٥٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٧)، سنن النسائی/الحج ٥٦ (٢٧٥٩)، موطا امام مالک/الحج ٨ (٢٣)، مسند احمد (٢/١٧، ١٨، ٢٩، ٣٦، ٣٧)، سنن الدارمی/المناسک ٨٢ (١٩٧٠) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤ ؍ ٢٩٥ )
2917Sunan Ibne-Majah

احرام کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَا: حَدَّثَنَاالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنِّي عِنْدَ ثَفِنَاتِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ قَائِمَةً، قَالَ: لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحِجَّةٍ مَعًا، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں مقام شجرہ (ذو الحلیفہ) میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے پاؤں کے پاس تھا، جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوگئی تو آپ نے کہا: لبيك بعمرة وحجة معا میں عمرہ و حج دونوں کی ایک ساتھ نیت کرتے ہوئے حاضر ہوں ، یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔

It was narrated that Anas bin Málik said: “I was by the knees of the she-camel of the Messenger of Allah ﷺ at Shajarah. When it rose up with him, he said: ‘Labbaika hi ‘llinrah zva Hajjah ma’an [Here I am (O Allah) for ‘Umrah and Hajj together.’ That was during the Farewell Pilgrimage.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٨٣، ٢٢٥) (صحیح الإسناد )
2918Sunan Ibne-Majah

تلبیہ کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَأَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، وَالْعَمَلُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے تلبیہ رسول اللہ ﷺ سے سیکھا، آپ فرماتے تھے: لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ثنا، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، تیرا (ان میں) کوئی شریک نہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ اس میں یہ اضافہ کرتے: لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل حاضر ہوں، اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر (بھلائی) تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف تمام رغبت اور عمل ہے ۔

It was narrated from Nafi that Ibn ‘Umar said: “I learned the Talbiyah from the Messenger of Allah ﷺ who said: (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).” He said: “And Ibn ‘Umar used to add: (Here I am, here I am, here I am, and at Your service; all good is in Your Hands, here I am, seeking Your pleasure and striving for Your sake).” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٨٧٣، ٨٠١٣، ١٨١٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٢٦ (١٥٤٩)، اللباس ٦٩ (٥٩٥١)، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٤)، سنن ابی داود/الحج ٢٧ (١٨١٢)، سنن الترمذی/الحج ١٣ (٨٢٥)، سنن النسائی/الحج ٥٤ (٢٧٥٠)، موطا امام مالک/الحج ٩ (٢٨)، حم ٢/٣، ٢٨، ٣٤، ٤١، ٤٣، ٤٧، ٤٨، ٥٣، ٧٦، ٧٧، ٧٩، ١٣١، سنن الدارمی/المناسک ١٣ (١٨٤٩) (صحیح )
2919Sunan Ibne-Majah

تلبیہ کا بیان۔

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا: لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك حاضر ہوں اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، حمد وثناء، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، ان میں کوئی شریک نہیں ۔

It was narrated that Jabir said: "The Talbiyah of the Messenger of Allah ﷺ was: Labbaika Allahumma labbaik, (labbaika) Ia sharika laka labbaik. lnnal-hamd. wan-nimata laka, walmulk La sharika Iaka (Here I am, a Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no Partner)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٢٧ (١٨١٣)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠٤) (صحیح )
2920Sunan Ibne-Majah

تلبیہ کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي تَلْبِيَتِهِ: لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ لَبَّيْكَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے تلبیہ میں یوں کہا: لبيك إله الحق لبيك حاضر ہوں، اے معبود برحق، حاضر ہوں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to say in his Talbiyah: (Here I am, O God of Truth, here I am)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ١٣٩٤١، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج ٥٤ (٢٧٥٣)، مسند احمد (٢/٣٤١، ٣٥٢، ٤٧٦) (صحیح )
2921Sunan Ibne-Majah

تلبیہ کا بیان۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مُلَبٍّ يُلَبِّي، إِلَّا لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ، مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ، حَتَّى تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ مِنْ هَهُنَا، وَهَهُنَا.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے، تو اس کے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے درخت، پتھر اور ڈھیلے سبھی تلبیہ کہتے ہیں، دونوں جانب کی زمین کے آخری سروں تک ۔

It was narrated from Sahl bin Sad As-Saadi that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no (pilgrim) who recites the Talbiyah but that which is to his right and left also recites it, rocks and trees and hills, to the farthest ends of the earth in each direction, from here and from there." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٤ (٨٢٨)، (تحفة الأشراف: ٤٧٣٥) (صحیح )