Sunan Ibne-Majah 2912

حج کا بیان

2912Sunan Ibne-Majah

حیض ونفاس والی عورت حج کا احرام باندھ سکتی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، فَوَلَدَتْ بِالشَّجَرَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، ثُمَّ تُهِلَّ بِالْحَجِّ، وَتَصْنَعَ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ، إِلَّا أَنَّهَا لَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ.

ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کے لیے نکلے، ان کے ساتھ (ان کی بیوی) اسماء بنت عمیس ؓ تھیں، ان سے مقام شجرہ (ذوالحلیفہ) میں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، ابوبکر ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور آپ کو اس کی اطلاع دی، رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ وہ غسل کریں، پھر تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اور وہ تمام کام انجام دیں، جو دوسرے لوگ کریں البتہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Bakr (RA) that he went out for Hajj with the Messenger of Allah ﷺ and Asma bint "Umais was with him. She gave birth, at Shajarah, to Muhammad bin Abu Bakr. Abu Bakr (RA) came to the Prophet ﷺ and told him about that, and the Messenger of Allah ﷺ told him to tell her to take a bath, then begin the Talbiyah for Hajj, and to do everything that the people did,apart from circumambulating the House (Tawaf). (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: طواف ایک ایسی عبادت ہے جس میں طہارت شرط ہے، اسی وجہ سے رسول اکرم ﷺ نے اسماء ؓ کو طواف سے روک دیا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٢٦ (٢٦٦٥)، (تحفة الأشراف: ٦٦١٧) (صحیح )