زندہ کی طرف سے حج کرنا جب اس میں ہمت نہ رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ النَّحْرِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَرْكَبَ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكِ دَيْنٌ قَضَيْتِهِ.
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یوم النحر کی صبح رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے آپ ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کے بندوں پر عائد کیے ہوئے فریضہ حج نے میرے والد کو بڑھاپے میں پایا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اس لیے کہ اگر تمہارے باپ پر کوئی قرض ہوتا تو تم اسے چکاتیں نا ؟ ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that his brother Fadl was riding behind the Messenger of Allah ﷺ in the morning of the day of sacrifice (i.e., the 10the of Dhul-Hijjah), when a woman from Khatham came and said: "O Messenger of Allah, the command of Allah has come for His slaves to perform Hajj, but my father is an old man and cannot ride. May I perform Hajj on his behalf?" He said: "Yes, because if your father owed a debt you would pay it off." (Sahih)