Sunan Ibne-Majah 2916

حج کا بیان

2916Sunan Ibne-Majah

احرام کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے اور اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوجاتی، تو آپ ذو الحلیفہ کی مسجد کے پاس سے لبیک پکارتے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that when the Messenger of Allah ﷺ , put his foot in the stirrup and his riding beast rose.up with him, he would say the Talbiyah from the Masjid of Dhul-Hulaifah. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تلبیہ پکارنے کے سلسلے میں صحیح اور درست بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ذی الحلیفہ میں نماز ظہر کے بعد تلبیہ پکارا، اور اونٹنی پر سوار ہوئے تو دوبارہ تلبیہ پکارا، اسی طرح جب آپ مقام بیدا میں پہنچے تو وہاں بھی تلبیہ پکارا، آپ کے ساتھ حج کرنے والے صحابہ کرام ؓ کی ایک بڑی جماعت تھی ہر صحابی ہر جگہ موجود نہیں رہا، اس لیے جس نے جیسا سنا روایت کردیا لیکن دوسرے کی نفی نہیں کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٠٣٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٢ (١٥١٤)، ٢٨ (١٥٥٢)، ٢٩ (١٥٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٧)، سنن النسائی/الحج ٥٦ (٢٧٥٩)، موطا امام مالک/الحج ٨ (٢٣)، مسند احمد (٢/١٧، ١٨، ٢٩، ٣٦، ٣٧)، سنن الدارمی/المناسک ٨٢ (١٩٧٠) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤ ؍ ٢٩٥ )