سائب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ سے کہوں کہ تلبیہ بلند آواز سے پکاریں ١ ؎۔
It was narrated from Khallad bin Sa`ib from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: Jibrail came to me and told me to command my Companions to raise their voices when reciting the Talbiyah.(sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم مردوں کے لیے ہے، عورت بھی تلبیہ پکارے گی لیکن دھیمی آواز سے، حدیث کے مطابق طریقہ یہ ہے کہ حاجی غسل کرے، پھر خوشبو لگائے اور احرام کی چادریں اوڑھے، اور لبیک پکار کر کہے، اگر صرف حج کی نیت ہو تو لبیک بحج ۃ کہے، اور اگر عمرے کی نیت ہو تو لبیک عمر ۃ کہے، اگر دونوں کی ایک ساتھ نیت ہو یعنی حج قران کی تو یوں کہے لبیک بحج ۃ وعمر ۃ ۔
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور بولے: اے محمد! اپنے صحابہ سے کہو کہ وہ تلبیہ باآواز بلند پکاریں، اس لیے کہ یہ حج کا شعار ہے ١ ؎۔
It was narrated from Zaid bi Khalid AI-Juhani that the Messenger of Allah ﷺ said: "jibril came to me and said: O Muhammad ﷺ ! Tell your Companions to raise their voices when reciting the Talbiyah, for It is one of the symbols of Hajj. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے لبیک پکارنے کا وجوب نکلتا ہے، شعار کے لفظ سے واجب ہونا ضروری نہیں، بہت سی چیزیں سنت ہیں، پر شعائر میں سے ہیں جیسے اذان وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٥٠، و مصباح الزجاجة: ١٠٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٢) (صحیح )
ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عج اور ثج ، یعنی باآواز بلند تلبیہ پکارنا، اور خون بہانا (یعنی قربانی کرنا) ۔
It was narrated from Abu Bakr (RA) As-Siddiq that the Messenger of Allah ﷺ was asked: "Which actions are best?" He said: "Raising ones voice and slaughtering the sacrificial animal. (Daif)
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: محرم (احرام باندھنے والا) جو چاشت کے وقت سے سورج ڈوبنے تک سارے دن اللہ کے لیے (دھوپ میں) لبیک کہتا رہے، تو سورج اس کے گناہوں کو ساتھ لے کر ڈوبے گا، اور وہ ایسا (بےگناہ) ہوجائے گا گویا اس کی ماں نے جنم دیا ہو ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no Muhrim (pilgrim in fllrdm) who exposes himself to the sun all day for the sake of Allah, reciting the Talbiyah until the sun goes down, but his sins will disappear and he will go back like on the day his mother bore him." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٦٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٧٣) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبید اللہ اور عاصم بن عمر بن حفص ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٠١٨ )۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو احرام کے وقت احرام باندھنے سے قبل خوشبو لگائی، اور احرام کھولنے کے وقت بھی طواف افاضہ کرنے سے پہلے۔ سفیان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ عائشہ ؓ نے کہا: خوشبو میں نے اپنے انہی دونوں ہاتھوں سے لگائی۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ for his Ihram before he entered into it, and when he exited Ihram before he returned." (Sahih) (One of the narrators) Sufyan said (in his narration, she said): "With these two hands of mine."
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: گویا میں رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک کہہ رہے ہیں۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "It is as if I can see the traces of perfume in the parting (of hair) of the Messenger of Allah ﷺ , while he is reciting the Talbiyah." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠٩، ٢٠٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ گویا میں تین دن بعد تک خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ احرام کی حالت میں ہیں۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "It is as if I can see the traces of perfume in the parting (of hair) of the Messenger of Allah ﷺ after three days, and he was a Muhrim." (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا: قمیص، عمامے (پگڑیاں) ، پاجامے، ٹوپیاں، اور موزے نہ پہنے، البتہ اگر جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے، اور کوئی ایسا لباس بھی نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگی ہو ١ ؎۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Umar that a man the Messenger of Allah ﷺ what clothes may the Muhrim wear? The Messenger of Allah ﷺ said: "He should not wear a shirt, or turbans (or head cover), pants or pajamas, hooded cloaks and no leather socks, unless he cannot find sandals, in which case he may wear the leather socks but should cut them to below the ankles. And he should not wear any clothes that have been touched (dyed) with saffron or Wars.(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: امام احمد کے نزدیک موزوں کا کاٹنا ضروری نہیں، دیگر ائمہ کے نزدیک کاٹنا ضروری ہے، دلیل ان کی یہی حدیث ہے، اور امام احمد کی دلیل ابن عباس ؓ کی وہ حدیث ہے جس میں کاٹنے کا ذکر نہیں ہے، جب کہ وہ میدان عرفات کے موقع کی حدیث ہے، یعنی ابن عمر ؓ کی اس حدیث کی ناسخ ہے، اور ورس اور زعفران سے منع اس لیے کیا گیا کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے، یہی حکم ہر اس رنگ کا ہے جس میں خوشبو ہو۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا (ہشام نے اپنی روایت میں منبر پر کا اضافہ کیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: جسے تہ بند میسر نہ ہو تو وہ پاجامہ پہن لے، اور جسے جوتے نہ مل سکیں وہ موزے پہن لے ، ہشام اپنی روایت میں کہتے ہیں: وہ پاجامے پہنے جب تہ بند نہ ہو ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "I heard the Prophet ﷺ delivering a sermon - (one of the narrators) Hisham said: On the pulpit - and he said: Whoever does not have a waist wrap, let him wear pants or pajamas, and whoever does not have sandals, let him wear leather socks. II In his narration, Hisham said: "If he does not find any, then let him wear pants or pajamas." (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever does not have sandals Jet him wear leather socks, and let him cut them to below the ankle." (Sahih)
Takhrij · تخریج
حدیث نافع تقدم تخریجہ، (٢٩٢٩)، وحدیث عبد اللہ بن دینار تقدم تخریجہ، (٢٩٣٠)، (تحفة الأشراف: ٢٩٣٠) (صحیح )
اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے، جب مقام عرج میں پہنچے تو ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، رسول اللہ ﷺ بیٹھے اور ام المؤمنین عائشہ ؓ آپ کے پاس بیٹھ گئیں، اور میں (اپنے والد) ابوبکر ؓ کے پاس، اس سفر میں میرا اور ابوبکر ؓ کا سامان اٹھانے والا اونٹ ایک تھا جو ابوبکر کے غلام کے ساتھ تھا، اتنے میں غلام آیا، اس کے ساتھ اونٹ نہیں تھا تو انہوں نے اس سے پوچھا: تمہارا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: کل رات کہیں غائب ہوگیا، ابوبکر ؓ نے اس سے کہا: تمہارے ساتھ ایک ہی اونٹ تھا، اور وہ بھی تم نے گم کردیا، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے ؟ ١ ؎۔
It was narrated that Asma bint Abu Bakr (RA) said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ until, when we were in Arj, we stopped to camp. The Messenger of Allah ﷺ sat, with Aisha (RA) by his side, and I was sitting beside Abu Bakr. Our mount! and the mount of Abu Bakr (RA) was one, under the care of the slave of Abu Bakr, The slave looked and his camel was not with hirn, so he said to him: Where is your camel? He said: I lost it yesterday. He said: You have one camel with you and you lost it? He started to beat him, and the Messenger of Allah ﷺ said: Look at what this Muhrim is doing! " (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مار پیٹ، لڑائی جھگڑا احرام کی حالت میں یہ باتیں منع ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٣٠ (١٧٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٧١٥) (حسن) (سند میں محمد اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٥٩٥ )
عبداللہ بن حنین ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ ؓ کے درمیان مقام ابواء میں اختلاف ہوا تو عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا: محرم اپنا سر دھو سکتا ہے، اور مسور ؓ نے کہا: نہیں دھو سکتا، چناچہ عبداللہ بن عباس ؓ نے مجھے ابوایوب انصاری ؓ کے پاس بھیجا، تاکہ میں ان سے اس سلسلے میں معلوم کروں، میں نے انہیں کنویں کے کنارے دو لکڑیوں کے درمیان ایک کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، میں نے سلام عرض کیا، تو انہوں نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے عبداللہ بن عباس ؓ نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے معلوم کروں کہ حالت احرام میں رسول اللہ ﷺ اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے، ابوایوب ؓ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے جھکایا یہاں تک کہ مجھے ان کا سر دکھائی دینے لگا، پھر ایک شخص سے جو پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو، تو اس نے آپ کے سر پر پانی ڈالا، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھ سر کے آگے سے لے گئے، اور پیچھے سے لائے، پھر بولے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibrahim bin Abdullah bin Hunain, from his father, that Abdullah bin Abbas and Miswar bin Makhramah disagreed at Abwa. Abdullah bin Abbas said that the Muhrim may wash his head, and Miswar said that the Muhrim may not wash his head. Ibn Abbas sent me to Abu Ayyub Al-Ansari to ask him about that, and I found him taking a bath near the well, screened with a piece of cloth. I greeted him with Salam, and he said: "Who is this?" I said: "I am Abdullah bin Hunain. Abdullah bin Abbas sent me to you to ask you how the Messenger of Allah ﷺ used to wash his head when he was in Ihram. He said: Abu Ayyub put his hand on the cloth and lowered it until his head appeared, then he said to someone who was pouring water for him, Pour water. So he poured water on his head. Then he rubbed his head with his hands, forwards and backwards, and said: This is what I saw him ﷺ doing. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: حالت احرام میں سر کا دھونا صرف پانی سے جائز ہے کسی بھی ایسی چیز سے پرہیز ضروری ہے جس سے جوؤں کے مرنے کا خوف ہو اسی طرح سر دھوتے وقت اتنا زور سے سے نہ رگڑیں کہ بال گریں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، جب ہمیں کوئی سوار ملتا تو ہم اپنا کپڑا اپنے سروں کے اوپر سے لٹکا لیتے، اور جب سوار آگے بڑھ جاتا تو ہم اسے اٹھا لیتے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "We were with the Prophet ﷺ , and we were in Ihram, When a rider met us we would lower our garments from the top of our heads, and when he has gone, we would lift them up again." (Daif) Another chain with similar wording.
Notes · وضاحت
١ ؎: احرام کی حالت میں عورتوں کو اپنے چہرے پر نقاب لگانا منع ہے، مگر حدیث میں جس نقاب کا ذکر ہے وہ اس وقت ایسا ہوتا تھا جو چہرے پر باندھا جاتا تھا، برصغیر ہند و پاک کے موجودہ برقعوں کا نقاب چادر کے آنچل کی طرح ہے جس کو ازواج مطہرات مردوں کے گزرنے کے وقت چہرے پر لٹکا لیا کرتی تھیں، (دیکھئے حدیث رقم ١٨٣٣ ) اس لیے اس نقاب کو بوقت ضرورت عورتیں چہرے پر لٹکا سکتی ہیں۔
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٣٤ (١٨٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٠) (حسن) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں، لیکن اسماء ؓ سے یہ ثابت ہے، اس لیے اس سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٤٣٣ )
ابوبکر بن عبداللہ بن زبیر اپنی جدّہ (دادی یا نانی) سے روایت کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اسماء بنت ابی بکر ہیں یا سعدیٰ بنت عوف) کہ رسول اللہ ﷺ ضباعہ بنت عبدالمطلب ؓ کے پاس گئے اور فرمایا: پھوپھی جان! حج کرنے میں آپ کے لیے کون سی چیز رکاوٹ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: میں ایک بیمار عورت ہوں اور مجھے اندیشہ ہے کہ میں پہنچ نہیں سکوں گی، آپ ﷺ نے فرمایا: آپ احرام باندھ لیں اور شرط کرلیں کہ جس جگہ بہ سبب بیماری آگے نہیں جا سکوں گی، وہیں حلال ہوجاؤں گی۔
It was narrated from Abu Bakr (RA) bin Abdullah bin Zubair from his grandmother - he (the narrator) said: "I do not know if it was Asma bint Abu Bakr (RA) or Suda bint Awf - that the Messenger of Allah ﷺ entered upon Dub"-ah bint Abdul-Muttalib and said: "What is keeping you, O my aunt, from performing Hajj?" She said: "I am a sick woman, and I am afraid of being prevented (from completing Hajj)." He said: "Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤٩) (صحیح) (سند میں ابوبکر بن عبد اللہ مستور ہیں، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤ / ١٨٧ )
ضباعہ ؓ کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، میں اس وقت بیمار تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا امسال آپ کا ارادہ حج کرنے کا نہیں ہے ؟ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: حج کرو اور یوں (نیت میں) کہو: اے اللہ جہاں تو مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہوجاؤں گی ۔
It was narrated that Dubaah said: "The Messenger of Allah ﷺ entered upon me when I was unwell. He said: Do you intend to perform Hajj this year? I said: I am sick, O Messenger of Allah. He said: Go for Hajj and say: "I will exit lhram from the point where I am prevented.": (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٤، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٠) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں، اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں، تو میں تلبیہ کیسے پکاروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم تلبیہ پکارو اور (اللہ سے) شرط کرلو کہ جہاں تو مجھے روکے گا، میں وہیں حلال ہوجاؤں گی ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: Dubaah bint Zubair bin Abdul-Muttalib came to the Messenger of Allah ﷺ and said: "I am a heavy woman and I want to go for Hajj. How should I enter Ihram?" He said: "Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ مرض احصار (رکاوٹ) کا سبب بن سکتا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) حرم میں پیدل اور ننگے پاؤں داخل ہوتے تھے، اور بیت اللہ کا طواف کرتے تھے، اور حج کے سارے ارکان ننگے پاؤں اور پیدل چل کر ادا کرتے تھے۔
It was narrated that Abdullah bin Abbas said: "The Prophets used to enter the Haram walking barefoot. They would circumambulate the House and complete all the rituals barefoot and walking." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٩٥٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٥) (ضعیف) (سند میں مبارک بن حسان منکر الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ثنية العليا بلند گھاٹی سے داخل ہوتے، اور جب نکلتے تو ثنية السفلى نشیبی گھاٹی سے نکلتے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ used to enter Makkah from the upper mountain pass and when he left, he would left from the lower mountain pass. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ثنية العليا اور ثنية السفلى یہ دونوں مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں۔