حج کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 27 · 238 hadiths · Page 4 of 12

2942Sunan Ibne-Majah

علی بن محمد، عمری، نافع، حضرت ابن عمر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا؟ وَذَلِكَ فِي حَجَّتِهِ، قَالَ: وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا؟، ثُمَّ قَالَ: نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، يَعْنِي الْمُحَصَّبَ، حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ، وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ، أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ، قَالَ مَعْمَرٌ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي.

اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل (مکہ میں) کہاں اتریں گے؟ یہ بات آپ کے حج کے دوران کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر باقی چھوڑا ہے ؟ ١ ؎ پھر فرمایا: ہم کل خیف بنی کنانہ یعنی محصب میں اتریں گے، جہاں قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی، اور وہ یہ تھی کہ بنی کنانہ نے قریش سے عہد کیا تھا کہ وہ بنی ہاشم سے نہ تو شادی بیاہ کریں گے اور نہ ان سے تجارتی لین دین ٢ ؎۔ زہری کہتے ہیں کہ خیف وادی کو کہتے ہیں۔

It was narrated that Usamah bin Zaid said: "I said: O Messenger of Allah, where will you stay tomorrow? That was during his Hajj. He said: Has Aqil left us any house? Then he said: Tomorrow we will stay in the valley of Banu Kinanah, Muhassab where the Quraish swore an oath of disbelief. That was where Banu Kinanah had sworn an oath with the Quraish against Banu Hashim, that they would not intermarry with them or engage in trade with them. Mamar said: "Zuhri said: Khaif means a valley. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ابوطالب کی ساری جائداد اور مکان عقیل نے بیچ کھائی، ایک مکان بھی باقی نہ رکھا کہ ہم اس میں اتریں جب علی اور جعفر ؓ اور ابوطالب کے بیٹے مسلمان ہوگئے اور انہوں نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی تو عقیل اور طالب دو بھائی جو ابھی تک کافر تھے مکہ میں رہ گئے، اور ابوطالب کی کل جائداد انہوں نے لے لی، اور جعفر ؓ کو اس میں سے کچھ حصہ نہ ملا کیونکہ وہ دونوں مسلمان ہوگئے اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ ٢ ؎: یہ جگہ سیرت کی کتابوں میں شعب أبی طالب سے مشہور ہے، جہاں پر ابو طالب بنی ہاشم اور بنی مطلب کو لے کر چھپ گئے تھے، اور رسول اکرم ﷺ کو اپنی پناہ میں لے لیا تھا، اور قریش کے کافروں نے عہد نامہ لکھا تھا کہ ہم بنی ہاشم اور بنی مطلب سے نہ شادی بیاہ کریں گے نہ اور کوئی معاملہ، اور اس کا قصہ طویل ہے اور سیرت کی کتابوں میں بالتفصیل مذکور ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤٤ (١٥٨٨)، الجہاد ١٨٠ (٣٠٥٨)، مناقب الأنصار ٣٩ (٤٢٨٢)، المغازي ٤٨ (٤٢٨٢)، التوحید ٣١ (٧٤٧٩)، صحیح مسلم/الحج ٨٠ (١٣٥١)، سنن ابی داود/الفرائض ١٠ (٢٩٠٩، ١٠ ٢٩)، (تحفة الأشراف: ١١٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفرائض ١٥ (٢١٠٧)، موطا امام مالک/الفرائض ١٣ (١٠)، مسند احمد (٢/٢٣٧، سنن الدارمی/الفرائض ٢٩ (٣٠٢٦) (صحیح )
2943Sunan Ibne-Majah

حجر اسود کا استلام۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ، مَا قَبَّلْتُكَ.

عبداللہ بن سرجس کہتے ہیں کہ میں نے اصیلع یعنی عمر بن خطاب ؓ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو چوم رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: میں تجھے چوم رہا ہوں حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، جو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ فائدہ، اور میں نے اگر رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Sarjis said: I saw the bald forehead of Umar bin Khattab when he kissed the Black Stone and said: I am kissing you, although I know that you are only a stone and you can neither cause harm nor bring benefit Had I not seen the Messenger of Allah ﷺ kissing you, I would not have kissed you:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اصیلع: اصلع کی تصغیر ہے جس کے سر کے اگلے حصے کے بال جھڑ گئے ہوں اس کو اصلع کہتے ہیں۔ ٢ ؎: کیونکہ پتھر کا چومنا اسلامی شریعت میں جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اس میں کفار کی مشابہت ہے، کیونکہ وہ بتوں تصویروں اور پتھروں کو چومتے ہیں، اور رسول اکرم ﷺ کے فعل کے سبب سے حجر اسود کا چومنا خاص کیا گیا ہے، عمر ؓ نے یہ کہا کہ اگر میں نے رسول اکرم ﷺ کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تم کو نہ چومتا، تو پھر دوسری قبروں اور مزاروں کا چومنا کیوں کر جائز ہوگا، عمر ؓ نے یہ اس لیے فرمایا کہ جاہلیت اور شرک کا زمانہ قریب گزرا تھا، ایسا نہ ہو کہ بعض کچے مسلمان حجر اسود کے چومنے سے دھوکہ کھائیں، اور حجر اسود کو یہ سمجھیں کہ اس میں کچھ قدرت یا اختیار ہے جیسے مشرک بتوں کے بارے میں خیال کرتے تھے، آپ نے بیان کردیا کہ حجر اسود ایک پتھر ہے اس میں کچھ اختیار اور قدرت نہیں اور اس کا چومنا محض رسول اکرم ﷺ کی اقتدار اور پیروی کے لئے ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤١ (١٢٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٨٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٥٠ (١٥٩٧)، ٥٧ (١٦٠٥)، ٦٠ (١٦١٠)، سنن ابی داود/الحج ٤٧ (١٨٧٣)، سنن الترمذی/الحج ٣٧ (٨٦٠)، سنن النسائی/الحج ١٤٧ (٢٩٤٠)، موطا امام مالک/الحج ٣٦ (١١٥)، مسند احمد (١/٢١، ٢٦، ٣٤، ٣٥، ٣٩، ٤٦، ٥١، ٥٣، ٥٤)، سنن الدارمی/المناسک ٤٢ (١٩٠٦) (صحیح )
2944Sunan Ibne-Majah

حجر اسود کا استلام۔

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيَأْتِيَنَّ هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ عَلَى مَنْ يَسْتَلِمُهُ بِحَقٍّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ پتھر قیامت کے دن آئے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھ رہا ہوگا، ایک زبان ہوگی جس سے وہ بول رہا ہوگا، اور گواہی دے گا اس شخص کے حق میں جس نے حق کے ساتھ اسے چھوا ہوگا ١ ؎۔

It was narrated that Sa’eed bin Jubair said: I heard Ibn ‘Abbâs say: The Messenger of Allah ﷺ said: “This Stone will be brought on the Day of Resurrection, and it will be given two eyes with which to see, and a tongue with which to speak, and it will bear witness for those who touched it in sincerity.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایمان کے ساتھ، اس سے وہ مشرک نکل گئے جنہوں نے شرک کی حالت میں حجر اسود کو چوما ان کے لیے اس کا چومنا کچھ مفید نہ ہوگا اس لیے کہ کفر کے ساتھ کوئی بھی عبادت نفع بخش اور مفید نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١١٣ (٩٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٥٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٧، ٢٦٦، ٢٩١، ٣٠٧، ٣٧١)، سنن الدارمی/المناسک ٢٦ (١٨٨١) (صحیح )
2945Sunan Ibne-Majah

حجر اسود کا استلام۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ وَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ يَبْكِي طَوِيلًا، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَإِذَا هُوَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَبْكِي، فَقَالَ يَا عُمَرُ: هَاهُنَا تُسْكَبُ الْعَبَرَاتُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجر اسود کی طرف رخ کیا، پھر اپنے دونوں ہونٹ اس پر رکھ دئیے، اور دیر تک روتے رہے، پھر ایک طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ عمر بن خطاب ؓ بھی رو رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: عمر! اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ turned to face the Stone, then he put his lips on it and wept for a long time. Then he turned and saw Umar bin Khattab weeping. He said: Umar, this is the place where tears should be shed:" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٤١، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٦) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن عون خراسانی ضعیف الحدیث و منکر الحدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١١١١ )
2946Sunan Ibne-Majah

حجر اسود کا استلام۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ، إِلَّا الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بجز حجر اسود اور اس کے جو اس سے قریب ہے یعنی رکن یمانی جو بنی جمح کے محلے کی طرف ہے بیت اللہ کے کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Salim bin Abdullah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ did not touch the corners of the Ka’bahh apart from the Black Corner (i.e., the corner where the Black Stone is) and the one that is next to it facing the houses of Banu [urnah (i.e., the Yemenite Corner): (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: طواف کرنے والے کو اختیار ہے کہ تین باتوں میں سے جو ممکن ہو سکے کرے ہر ایک کافی ہے، حجر اسود کا چومنا، یا اس پر ہاتھ رکھ کر ہاتھ کو چومنا، یا لکڑی اور چھڑی سے اس کی طرف اشارہ کرنا، اور اگر بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے چومنا یا چھونا مشکل ہو تو صرف ہاتھ سے اشارہ کرنا ہی کافی ہے، اور ہر صورت میں لوگوں کو ایذاء دینا اور دھکیلنا منع ہے جیسے کہ اس زمانے میں قوی اور طاقتور لوگ کرتے ہیں، یا عورتوں کے درمیان گھسنا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٠ (١٢٦٨)، سنن النسائی/الحج ١٥٧ (٢٩٥٢)، (تحفة الأشراف: ٦٩٨٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٥٩ (١٦١١)، سنن ابی داود/الحج ٤٨ (١٨٧٤)، مسند احمد (٢/٨٦، ١١٤، ١١٥)، سنن الدارمی/المناسک ٢٥ (١٨٨٠) (صحیح )
2947Sunan Ibne-Majah

حجراسود کا استلام چھڑی سے کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، طَافَ عَلَى بَعِيرهُ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ بِيَدِهِ، ثُمَّ دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَوَجَدَ فِيهَا حَمَامَةَ عَيْدَانٍ فَكَسَرَهَا، ثُمَّ قَامَ عَلَى بَاب: الْكَعْبَةِ فَرَمَى بِهَا، وَأَنَا أَنْظُرُهُ.

صفیہ بنت شیبہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب فتح مکہ کے سال اطمینان ہوا تو آپ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ حجر اسود کا استلام ایک لکڑی سے کر رہے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی، پھر کعبہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ اس میں لکڑی کی بنی ہوئی کبوتر کی مورت ہے، آپ ﷺ نے اسے توڑ دیا، پھر کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اسے پھینک دیا، اس وقت میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔

It was narrated that Safiyyah bint Shaibah said: "When the Messenger of Allah ﷺ saw that things had settled down,in the year of the Conquest (of Makkah), he performed Tawaaf on his camel, touching the corner with a staff in his hand. Then he entered the House and found a dove made of aloeswood. He broke it, then he stood at the door of the Ka’bahh and threw it out, and I was watching him." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٤٩ (١٨٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٠٩) (حسن) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٦٤١ )
2948Sunan Ibne-Majah

حجراسود کا استلام چھڑی سے کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، اور آپ ایک چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ performed Tauid on a camel during the Farewell Pilgrimage, touching the comer with a staff. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٥٨ (١٦٠٧)، ٦١ (١٦١٢)، ٦٢ (١٦١٣)، ٧٤ (١٦٣٢)، الطلاق ٢٤ (٥٢٩٣)، صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٢)، سنن النسائی/المساجد ٢١ (٧١٤)، الحج ١٥٩ (٢٩٥٧)، ١٦٠ (٢٩٥٨)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ٤٩ (١٨٧٧)، سنن الترمذی/الحج ٤٠ (٨٦٥)، مسند احمد (١/٢١٤، ٢٣٧، ٢٤٨، ٣٠٤)، سنن الدارمی/المناسک ٢٦ (١٨٨١) (صحیح )
2949Sunan Ibne-Majah

حجراسود کا استلام چھڑی سے کرنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وحَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَامَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ الْمَكِّيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ، وَيُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ.

ابوطفیل عامر بن واثلہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سواری پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، آپ حجر اسود کا استلام چھڑی سے کر رہے تھے، اور چھڑی کا بوسہ لے رہے تھے۔

Maruf bin Kharrabudh AI-Makki narrated: "I heard Abu Tufail, ,Amir bin Wathilah, say: I saw the Prophet ﷺ performing Trrwa!on his camel, touching the comer with his staff and kissing the staff. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٥)، سنن ابی داود/الحج ٤٩ (١٨٧٩)، (تحفة الأشراف: ٥٠٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٥٤) (صحیح )
2950Sunan Ibne-Majah

بیت اللہ کے گرد طواف میں رمل کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ رَمَلَ ثَلَاثَةً، وَمَشَى أَرْبَعَةً، مِنَ الْحِجْرِ إِلَى الْحِجْرِ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیت اللہ کا پہلا طواف (طواف قدوم) کرتے تو تین چکروں میں رمل کرتے (یعنی طواف میں قریب قریب قدم رکھ کے تیز چلتے) اور چار چکروں میں عام چال چلتے اور یہ چکر حجر اسود پر شروع کر کے حجر اسود پر ہی ختم کرتے، ابن عمر ؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that when the Messenger of Allah ﷺ performed Tawaf around the House for the first time, he walked Briskly with short steps in the first three circuits, and walked normally in the last four, starting and ending at the Hijr."I And Ibn Umar used to do that. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: رمل: ذرا دوڑ کر مونڈ ہے ہلاتے ہوئے چلنے کو رمل کہتے ہیں جیسے بہادر اور زور آور سپاہی چلتے ہیں، یہ طواف کے ابتدائی تین پھیروں میں کرتے ہیں، اور اس کا سبب صحیحین کی روایت میں مذکور ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ کے اصحاب مکہ میں آئے تو مشرکین نے کہا کہ یہ لوگ مدینہ کے بخار سے کمزور ہوگئے ہیں، آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو تین پھیروں میں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ مشرکین کو یہ معلوم کرائیں کہ مسلمان ناتوان اور کمزور نہیں ہوئے بلکہ طاقتور ہیں، پھر یہ سنت اسلام کی ترقی کے بعد بھی قائم رہی اور قیامت تک قائم رہے گی، پس رمل کی مشروعیت اصل میں مشرکوں کو ڈرانے کے لیے ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٩٧، ٨١١٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٦٣ (١٦١٦)، صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٢)، سنن ابی داود/الحج ٥١ (١٨٩١)، سنن النسائی/الحج ١٥٠ (٢٩٤٣)، موطا امام مالک/الحج ٣٤ (٨٠)، مسند احمد (٣/١٣)، سنن الدارمی/المناسک ٢٧ (١٨٨٣، ١٨٨٤) (صحیح )
2951Sunan Ibne-Majah

بیت اللہ کے گرد طواف میں رمل کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الْحِجْرِ إِلَى الْحِجْرِ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حجر اسود سے شروع کر کے حجر اسود تک تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار میں عام چال چلے۔

It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ walked briskly (Ramala), from the Hijr to the Hijr, three times, then he walkednormally for four. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٦٦٣)، سنن الترمذی/الحج ٣٣ (٨٥٦)، سنن النسائی/الحج ١٥٤ (٢٩٤٧)، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ٥١ (١٨٩١)، مسند احمد (٣/٣٢٠، ٣٤٠، ٣٩٤)، سنن الدارمی/المناسک ٢٧ (١٨٨٢) (صحیح )
2952Sunan Ibne-Majah

بیت اللہ کے گرد طواف میں رمل کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: فِيمَ الرَّمَلَانُ الْآنَ؟ وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ، وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ، وَايْمُ اللَّهِ مَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر ؓ کو کہتے سنا کہ اب دونوں رمل (ایک طواف کا، دوسرا سعی کا) کی کیا ضرورت ہے؟ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مضبوط کردیا، اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کردیا ہے، لیکن قسم اللہ کی! ہم تو کوئی ایسی بات چھوڑنے والے نہیں جس پر ہم رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں عمل کیا کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Zaid bin Aslam that his father said. "I heard Umar said: Why do they perform Ramal now, when Allah has established Islam and done away with disbelief and its people? By AIIah we will not give up something that we used to do a t the time of the Messenger of Allah ﷺ " (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت کے جس حکم کی علت و حکمت سمجھ میں نہ آئے اس کو ویسے ہی چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ ایسی صورت میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ اللہ کے رسول کی ہو بہو تابعداری کی جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٥١ (١٨٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٥) (حسن صحیح )
2953Sunan Ibne-Majah

بیت اللہ کے گرد طواف میں رمل کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ أَرَادُوا دُخُولَ مَكَّةَ فِي عُمْرَتِهِ بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ: إِنَّ قَوْمَكُمْ غَدًا سَيَرَوْنَكُمْ فَلَيَرَوُنَّكُمْ جُلْدًا، فَلَمَّا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ، وَرَمَلُوا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، حَتَّى إِذَا بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ، مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ، ثُمَّ رَمَلُوا، حَتَّى بَلَغُوا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ، ثُمَّ مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَشَى الْأَرْبَعَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جب صلح حدیبیہ کے بعد دوسرے سال عمرہ کی غرض سے مکہ میں داخل ہونا چاہا، تو اپنے صحابہ سے فرمایا: کل تم کو تمہاری قوم کے لوگ دیکھیں گے لہٰذا چاہیئے کہ وہ تمہیں توانا اور مضبوط دیکھیں، چناچہ جب یہ لوگ مسجد میں داخل ہوئے تو حجر اسود کا استلام کیا، اور رمل کیا، نبی اکرم ﷺ بھی ان کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ رکن یمانی کے پاس پہنچے، تو وہاں سے حجر اسود تک عام چال چلے، وہاں سے رکن یمانی تک پھر رمل کیا، اور پھر وہاں سے حجر اسود تک عام چال چلے، اس طرح آپ ﷺ نے تین بار کیا، پھر چار مرتبہ عام چال چلے۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said. "During his Umrah after Hudaibiyah - when they wanted to enter Makkah - the Prophet ﷺ said to his Companions. Your people will see you tomorrow, so let them see you looking strong: When they entered the Masjid, they touched the corner and started to walk briskly, and the Prophet ﷺ was with them. When they reached the Yemenite Corner, they walked normally to the Black Corner (the corner where the Black Stone is), then they walked briskly until they reached the Yemenite Corner, then they walked normally to the Black Corner.Then they did walked normally to the black corner. They did that three times, then they walked normally for four circuits." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٥١ (١٨٩٠)، سنن الترمذی/الحج ٣٩ (٨٦٣)، سنن النسائی/الحج ١٧٦ (٢٩٨٢)، (تحفة الأشراف: ٥٧٧٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٨٠ (١٦٤٩)، المغازي ٤٣ (٤٢٥٧)، صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٦)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٥٥، ٣٠٦، ٣١٠، ٣١١، ٣٧٣) (صحیح )
2954Sunan Ibne-Majah

اضطباع کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ يَعْلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ مُضْطَبِعًا، قَالَ قَبِيصَةُ: وَعَلَيْهِ بُرْدٌ.

یعلیٰ بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اضطباع کر کے طواف کیا، قبیصہ کے الفاظ اس طرح ہیں: وعليه برد اور آپ کے جسم پر چادر تھی۔

It was narrated from Ibn Yala bin Umayyah that his father Yala said. "The Prophet ﷺ performed Tawaaf while doing Idtiba." (In his narration, one of the narrators) Qabisah said. "While wearing a Yemenite cloth." (Daif)

Notes · وضاحت
اضطباع: اس کی شکل یہ ہے کہ محرم چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے گزار کر بائیں کندھے پر ڈال دے اور دایاں کندھا کھلا رکھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٥٠ (١٨٨٣)، سنن الترمذی/الحج ٣٦ (٨٥٩)، (تحفة الأشراف: ١١٨٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٢، ٢٢٣، ٢٢٤)، سنن الدارمی/المناسک ٢٨ (١٨٨٥) (حسن )
2955Sunan Ibne-Majah

حطیم کو طواف میں شامل کرنا (یعنی حطیم سے باہر طواف کرنا)۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِجْرِ، فَقَالَ: هُوَ مِنْ الْبَيْتِ، قُلْتُ: مَا مَنَعَهُمْ أَنْ يُدْخِلُوهُ فِيهِ؟، فَقَالَ: عَجَزَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ، قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا، لَا يُصْعَدُ إِلَيْهِ إِلَّا بِسُلَّمٍ؟، قَالَ: ذَلِكَ فِعْلُ قَوْمِكِ لِيُدْخِلُوهُ مَنْ شَاءُوا، وَيَمْنَعُوهُ مَنْ شَاءُوا، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِكُفْرٍ، مَخَافَةَ أَنْ تَنْفِرَ قُلُوبُهُمْ، لَنَظَرْتُ هَلْ أُغَيِّرُهُ فَأُدْخِلَ فِيهِ مَا انْتَقَصَ مِنْهُ، وَجَعَلْتُ بَابَهُ بِالْأَرْضِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حطیم کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ کعبہ ہی کا ایک حصہ ہے میں نے پوچھا: پھر لوگوں (کفار) نے اس کو داخل کیوں نہیں کیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے پاس خرچ نہیں رہ گیا تھا میں نے کہا: اس کا دروازہ اتنا اونچا کیوں رکھا کہ بغیر سیڑھی کے اس پر چڑھا نہیں جاتا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا تمہاری قوم کے لوگوں نے کیا تھا، تاکہ وہ جس کو چاہیں اندر جانے دیں اور جس کو چاہیں روک دیں، اور اگر تمہاری قوم کا زمانہ ابھی کفر سے قریب نہ گزرا ہوتا اور (اسلام سے) ان کے دلوں کے متنفر ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں سوچتا کہ میں اس کو بدل دوں، جو حصہ رہ گیا ہے اس کو اس میں داخل کر دوں، اور اس کا دروازہ زمین کے برابر کر دوں ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ about the Hijr, and he said: It is part of the House. I said: What kept them from incorporating it into it? He said: They ran out of funds. I said: Why is its door so high up that it can only be reached with a ladder? He said: That is what your people did so that they could let in whoever they wanted and keep out whoever they wanted. Were it not that your people have so recently left disbelief behind, and I am afraid that it would bother them, I would have changed it, incorporating what they left out and I would put its door at ground level." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حطیم کعبے کا ایک طرف چھوٹا ہوا حصہ ہے جو گول دائرے میں دیوار سے گھیر دیا گیا ہے یہ بھی بیت اللہ کا ایک حصہ ہے اس لیے طواف اس کے باہر سے کرنا چاہیے اگر کوئی طواف میں حطیم کو چھوڑ دے تو طواف درست نہ ہوگا۔ اس کا دروازہ زمین کے برابر کر دوں یعنی نیچا کر دوں کہ جس کا جی چاہے بغیر سیڑھی کے اندر چلا جائے دوسری روایت میں ہے کہ میں اس کے دو دروازے کرتا ایک پورب ایک پچھم، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بعض کام مصلحت کے ہوتے ہیں، لیکن اس میں فتنہ کا خوف ہو تو اس کو ترک کرنا جائز ہے، رسول اکرم ﷺ اور خلفاء کے عہد میں کعبہ ایسا ہی رہا اور جیسا آپ چاہتے تھے ویسا بنانے کی فرصت نہیں ہوئی، عبداللہ بن زبیر ؓ نے اپنے عہد میں کعبہ کو اسی طرح بنایا جیسا رسول اکرم ﷺ نے بنانا چاہا تھا، لیکن حجاج نے جب عبداللہ بن زبیر ؓ کو قتل کیا تو ضد سے پھر کعبہ کو توڑ کر ویسا ہی کردیا جیسا جاہلیت کے زمانے میں تھا، خیر پھر اس کے بعد خلیفہ ہارون رشید نے اپنی خلافت میں امام مالک سے سوال کیا کہ اگر آپ کہیں تو میں کعبہ کو پھر توڑ کر جیسا ابن زبیر ؓ نے بنایا تھا، ویسا ہی کر دوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اب کعبہ کو ہاتھ نہ لگائیں ورنہ اس کی وقعت لوگوں کے دلوں سے جاتی رہے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٤٢ (١٥٨٤)، أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٦٨)، تفسیر البقرة ١٠ (٤٤٨٤)، صحیح مسلم/الحج ٦٩ (١٣٣٣)، سنن النسائی/الحج ١٢٨ (٢٩١٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٠٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٣٣ (١٠٤)، سنن الدارمی/المناسک ٤٤ (١٩١١) (صحیح )
2956Sunan Ibne-Majah

طواف کی فضیلت۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ. (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي سَوِيَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ هِشَامٍ، يَسْأَلُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ الرُّكْنِ الْيَمَانِي، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ؟، فَقَالَ عَطَاءٌ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وُكِلَ بِهِ سَبْعُونَ مَلَكًا، فَمَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ، قَالُوا: آمِينَ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَلَمَّا بَلَغَ فَلَمَّا بَلَغَ الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، مَا بَلَغَكَ فِي هَذَا الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ؟، فَقَالَ عَطَاءٌ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ فَاوَضَهُ، فَإِنَّمَا يُفَاوِضُ يَدَ الرَّحْمَنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو کوئی بیت اللہ کا طواف کرے، اور دو رکعتیں پڑھے تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے مانند ہے ۔

It was narrated that ,Abdullah bin Umar said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever performs Tuwaaf around the House and prays two Rakah, it is as if he freed a slave. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٣١، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج ١١١ (٩٥٩)، سنن النسائی/الحج ١٣٤ (٢٩٢٢)، مسند احمد (٢/٣، ١١، ٩٥) (صحیح )
2957Sunan Ibne-Majah

طواف کی فضیلت۔

(حديث موقوف) قَالَ لَهُ ابْنُ هِشَامٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، فَالطَّوَافُ، قَالَ قَالَ لَهُ ابْنُ هِشَامٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، فَالطَّوَافُ، قَالَ عَطَاءٌ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، مُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ بِهَا عَشْرَةُ دَرَجَاتٍ، وَمَنْ طَافَ فَتَكَلَّمَ، وَهُوَ فِي تِلْكَ الْحَالِ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ بِرِجْلَيْهِ، كَخَائِضِ الْمَاءِ بِرِجْلَيْهِ.

حمید بن ابی سو یہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ہشام کو عطاء بن ابی رباح سے رکن یمانی کے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا، اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، تو عطاء نے کہا: مجھ سے ابوہریرہ ؓ نے حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رکن یمانی پر ستر فرشتے متعین ہیں جو کوئی اللهم إني أسألک العفو والعافية في الدنيا والآخرة ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں مغفرت اور عافیت طلب کرتا ہوں، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی سے نواز، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا کہتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں، پھر جب عطاء حجر اسود کے پاس پہنچے تو ابن ہشام نے کہا: ابو محمد! اس حجر اسود کے بارے میں آپ کو کیا بات پہنچی ہے؟ عطاء نے کہا: مجھ سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو اس کو چھوتا ہے وہ گویا رحمن کا ہاتھ چھو رہا ہے ۔ ابن ہشام نے ان سے کہا: ابو محمد! طواف یعنی اس کے متعلق آپ کو کیا معلوم ہے؟ عطاء نے کہا: مجھ سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے اور سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولاقوة إلا بالله کے علاوہ کوئی بات نہ کرے، تو اس کی دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، اور اس کے دس درجے بڑھا دئیے جائیں گے، اور جو طواف کرے اور بات کرے تو اس کے پاؤں رحمت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، جیسے پانی میں داخل ہونے والے کے پاؤں پانی میں ڈوبے رہتے ہیں۔

Humaid bin Abu Sawiyyah said: I heard fun Hisham asking ,Ata bin Abu Rabah about the Yemenite Corner, when he was performing Tawaf around the House. Ata said: Abu Hurairah (RA) told me that the Prophet ﷺ said: "Seventy angels have been appointed over it. Whoever says: (O Allah I ask You for pardon and well-being in this world and in the Hereafter. Our Lord, give us good in this world and good in the Hereafter and protect us from the torment of the Fire), they say: Ami"." When he reached the Black Comer (where the Black Stone is), he said: a Abu Muhammad ﷺ ! What have you heard about this Black Corner? Ata said: Abu Hurairah (RA) told me that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever faces it is facing the Hand of the Most Merciful. " Ibn Hisham said to him: a Abu Muhammad, what about TltWap. Ata said: Abu Hurairah (RA) told me that he heard the Prophet ﷺ say: "Whoever performs Tawa! Around the House seven times and does not say anything except: Subhan Allah wal-hamdu lillah, wa la ilaha illallah wa Allah" Akbar, wa la hawla wa la quwwata illa billah (Glory is to Allah, praise is to Allah, none has the right to be worshipped but Allah, and there is no power nor strength except with Allah), ten bad deeds will be erased from him, ten merits will be recorded for him, and he will be raised ten degrees in status. Whoever performs Tauidf and talks when he is in that situation, is wading in mercy like one who wades in water." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤١٧٤، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٨) (ضعیف) (سند میں حمید مجہول، اور اسماعیل بن عیاش غیر شامی رواة سے روایت میں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ٢٥٩٠ )
2958Sunan Ibne-Majah

طواف کے بعد دوگانہ ادا کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ سَبْعِهِ، جَاءَ حَتَّى يُحَاذِيَ بِالرُّكْنِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي حَاشِيَةِ الْمَطَافِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطُّوَّافِ أَحَدٌ، قَالَ ابْن مَاجَةَ: هَذَا بِمَكَّةَ خَاصَّةً.

مطلب بن ابی وداعہ سہمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جب آپ اپنے ساتوں پھیروں سے فارغ ہوئے حجر اسود کے بالمقابل آ کر کھڑے ہوئے، پھر مطاف کے کنارے میں دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے بیچ میں کوئی آڑ نہ تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ (بغیر سترہ کے نماز پڑھنا) مکہ کے ساتھ خاص ہے۔

It was narrated that Muttalib said: "When he finished seven (circuits of Tawaf, I saw the Messenger of Allah ﷺ come until he was parallel with the Comer, then he prayed two Rakah at the edge of the Mata! (area for Tawaf, and there was nothing between him and the people who were performing Tawaf" (Daif) Ibn Majah said: This is in Makkah specifically.

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٨٩ (٢٠١٦)، سنن النسائی/القبلة ٩ (٧٥٩)، الحج ١٦٢ (٢٩٦٢)، (تحفة الأشراف: ١١٢٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٩٩) (ضعیف) (سند میں کثیر بن مطلب مجہول راوی ہیں، نیز سند میں بھی اختلاف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٩٢٨ )
2959Sunan Ibne-Majah

طواف کے بعد دوگانہ ادا کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِقَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي عِنْدَ الْمَقَامِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آ کر بیت اللہ کا سات بار طواف کیا، پھر طواف کی دونوں رکعتیں پڑھیں۔ وکیع کہتے ہیں: یعنی مقام ابراہیم کے پاس، پھر آپ ﷺ صفا پہاڑی کی طرف نکلے۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ came and performed Tawaf around the House seven times, then he prayed two Rakohs Waki said: "Meaning, at the Maqam then he went out to Safa," (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٤ (١٦٩١)، صحیح مسلم/الحج ٢٨ (١٢٣٤)، سنن النسائی/الحج ١٤٢ (٢٩٣٣)، (تحفة الأشراف: ٧٣٥٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٨٠٥)، موطا امام مالک/الحج ٣٧ (١١٦)، مسند احمد (٢/١٥، ٨٥، ١٥٢، ٣/٣٠٩)، سنن الدارمی/المناسک ٨٤ (١٩٧٢) (صحیح )
2960Sunan Ibne-Majah

طواف کے بعد دوگانہ ادا کرنا۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَوَافِ الْبَيْتِ، أَتَى مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مَقَامُ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِمَالِكٍ: هَكَذَا قَرَأَهَا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، قَالَ: نَعَمْ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کے پاس آئے، عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہمارے باپ ابراہیم کی جگہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى مقام ابراھیم کو نماز کی جگہ بناؤ، ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا: کیا اس کو اسی طرح (بکسر خاء) صیغہ امر کے ساتھ پڑھا؟ انہوں نے کہا: ہاں ١ ؎۔

It was narrated that Jabir said: "When Allahs Messenger finished circumambulating the House, he came to Maqfim Ibrahim. Umar said: O Messenger of Allah, this is the Maqam of our father Ibrahim, about which Allah says, "And take you (people) the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer. (Sahih) (One of the narrators) Walid said: "I said to Malik: "This is how he recited it: "And take you"? He said: Yes.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہی قراءت مشہور ہے، اور بعضوں نے واتخَذوا خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یہ صیغہ ماضی یعنی انہوں نے مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنایا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحروف ١ (٣٩٦٩)، سنن الترمذی/الحج ٣٨ (٨٥٦)، سنن النسائی/الحج ١٦٣ (٢٩٦٤)، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ١٥ (١٢٦٣)، سنن الدارمی/المناسک ٣٤ (١٨٩٢) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ١٠٠٨ )
2961Sunan Ibne-Majah

بیمار سوار ہو کر طواف کرسکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا مَرِضَتْ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ تَطُوفَ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَهِيَ رَاكِبَةٌ، قَالَتْ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى الْبَيْتِ، وَهُوَ يَقْرَأُ: وَالطُّورِ 1 وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ 2 سورة الطور آية 1-2، قَالَ ابْن مَاجَةَ: هَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ وہ بیمار ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کرنے کا حکم دیا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا، آپ ﷺ سورة والطور وکتاب مسطور کی قرات فرما رہے تھے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت ہے۔

It was narrated from Umm Salamah that she fell sick, so the Messenger of Allah ﷺ told her to perform Tawaf from behind the people, riding. She Said:I saw the Messenger of Allah ﷺ praying facing the House, and reciting: "By the Tur (Mount), And by the Book Inscribed .Ibn Majah said: This is the narration of Abu Bakr.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیماری اور کمزوری کی حالت میں سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے، آج کل بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے سواری پر طواف کرنا بڑا مشکل بلکہ ناممکن ہے، اس لیے اس کی جگہ پر مخصوص لوگ حجاج کو چارپائی پر بٹھا کر طواف کراتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٨ (٤٦٤)، الحج ٦٤ (١٦١٩)، ٧١ (١٦٢٦)، ٧٤ (١٦٣٣)، تفسیرالطور ١ (٤٨٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٦)، سنن ابی داود/الحج ٤٩ (١٨٨٢)، سنن النسائی/الحج ١٣٨ (٢٩٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٤٠ (١٢٣)، مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٩) (صحیح )