شعیب کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے دادا) عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کے ساتھ طواف کیا، جب ہم سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو ہم نے کعبہ کے پیچھے طواف کی دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: کیا ہم جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ نہ چاہیں؟ انہوں نے کہا: میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، شعیب کہتے ہیں: پھر عبداللہ بن عمرو ؓ نے چل کر حجر اسود کا استلام کیا، پھر حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے، اور اپنا سینہ، دونوں ہاتھ اور چہرے کو اس سے چمٹا دیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
Amr bin Shuaib narrated from his father that his grandfather said: "I performed Tawaf with Abdullah bin Amr, and When we had finished seven (circuits),We prayed two Rakah at the back of the Ka’bahh. I said: Why do you not seek refuge with Allah from the Fire? He said: I seek refuge with Allah from the Fire. Then he went and touched the Comer, then he stood between the (Black) Stone and the door (of the Ka’bahh) and clung with his chest, hands and cheek against it. Then he said: I saw the Messenger of Allah ﷺ do this." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٥٥ (١٨٩٩)، (تحفة الأشراف: ٨٧٧٦) (حسن) (سند میں مثنی بن الصباح ضعیف ہیں، لیکن متابعت اور شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢١٣٨ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں تھے یا سرف کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آگیا، رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، میں رو رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کیا حیض آگیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر لکھ دیا ہے، تم حج کے سارے اعمال ادا کرو، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ intending only to perform Hajj. When we were in Sarif or close to Sar if, my menses came. The Messenger of Allah ﷺ entered upon me when I was weeping. He said: What is the matter with you? Have your menses come? I said: Yes. He said: This is some thing that Allah "-has decreed for the daughters of Adam. Do all the rites, but do not circumambulate the House. She said:. "And the Messenger of Allah ﷺ sacrificed a cowan behalf of his wives." (Sahih)
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد کیا۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ performed Hajj Ifrad (Single Hajj). (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٦٣٨، ومصباح الزجاجة: ١٠٤٠) (صحیح) (ام المومنین عائشہ ؓ سے اور دوسرے صحابہ کرام ؓ سے یہ ثابت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے حج قران کیا، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٣٧١ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے، میں نے آپ کو حج اور عمرہ کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "We went out with the Messanger of Allah ﷺ to Makkah, and I heard him. say: L abaika Umratan Wa hajjatan tere i am (O Allah), for Umran and Hajj. " (Sahih)
صبی بن معبد کہتے ہیں کہ میں نصرانی تھا، پھر اسلام لے آیا اور حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا، سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان نے مجھے قادسیہ میں عمرہ اور حج دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ پکارتے ہوئے سنا، تو دونوں نے کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ نادان ہے، ان دونوں کے اس کہنے نے گویا میرے اوپر کوئی پہاڑ لاد دیا، میں عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا، اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ملامت کی، پھر میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے نبی اکرم ﷺ کی سنت کو پایا، تم نے نبی اکرم ﷺ کی سنت کو پایا ١ ؎۔ ہشام اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ شقیق کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں صبی بن معبد کے پاس اس حدیث کے متعلق پوچھنے باربار گئے۔
It was narrated that Abdah bin Abu Lubabah said: "I heard Abu Wail, Shaqiq bin Salamah, say: I heard Subai bin Mabad say: "I was a Christian man, then I became Muslim and entered Ihram for Hajj and Umrah. Salman bin Rebi ah and Zaid bin Suhan heard me when I was entering lhram for them both together at Qadisiyyah. They said: This man is more lost than his camel! It was as if they had heaped a mountain on me with their words. I went to Umar bin Khattab and told him about that. He turned to them and reproached them, then he turned to me and said: You have been guided to the Sunnah of the Prophet ﷺ a you have been guided to the Sunnak of the Prophet ﷺ s.” (Sahih) In his narration Hishâm said: “Shaqiq said: ‘I often went myself and Masruq, to ask him about that.” Another chain that Shaqiq narrated, that Subai bin Ma’bad said: “I had recently been a Christian and was new in Islam. So I was trying my best (to understand the rulings of Islam). I entered Ihrâm for Hajj and ‘Umrah (together).” Then he mentioned a similar report.
Notes · وضاحت
١ ؎: عمر ؓ کا یہ فرمانا اس بنا پر تھا کہ سلمان اور زید ؓ حج قران کو مکروہ سمجھ رہے تھے جب کہ وہ سنت رسول ہے۔
صبی بن معبد نے کہا: مجھے نصرانیت سے اسلام قبول کیے ہوئے تھوڑی ہی مدت گزری تھی، میں نے عبادت کو بجا لانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی، میں نے حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا، پھر انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے جیسے اوپر گزری۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مجھے ابوطلحہ ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کو ملایا یعنی قران کیا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “Abu Talhah told me that the Messenger of Allah ﷺ performed Hajj and ‘Umrah together (Qirãn).” (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٠، ومصباح الزجاجة: ١٠٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨، ٢٩) (صحیح) (سند میں حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٥٧٥ ، ١٥٧٦ )
جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ جب مکہ آئے تو انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah, Ibn Umar and Ibn Abbas that when the Messenger of Allah ﷺ and his Companions came (to Makkah) to perform their Hajj and Umrah, they only performed Tawaf once. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں طواف سے مراد سعی ہے، متمتع پر صفا ومروہ کی دو سعی واجب ہیں جب کہ قارن کے لیے صرف ایک سعی کافی ہے خواہ طواف قدوم (زیارت) کے بعد کرے یہی مسئلہ مفرد حاجی کے لیے بھی ہے، واضح رہے کہ بعض حدیثوں میں سعی کے لیے بھی طواف کا لفظ وارد ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٤٧٩، ومصباح الزجاجة: ١٠٤٣) (صحیح) (سند میں میں لیث بن أبی سلیم ضعیف اور مدلس ہیں، لیکن آگے کی حدیثوں سے یہ صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ حج قران کا احرام باندھ کر آئے، اور خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی اور کہا: اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے۔
It was narrated from Ibn Umar that he came (to Makkah) to perform Hajj and Umrah together (Qiran). He circumambulated the House seven times, and performed Say between Safa and Marwah then he said: "This is what the Messenger of Allah ﷺ did " (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تو ان دونوں کے لیے اسے ایک ہی سعی کافی ہے، اور وہ احرام نہ کھولے جب تک حج کو پورا نہ کرلے، اور اس وقت ان دونوں سے ایک ساتھ احرام کھولے گا۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever enters Ihram for Hajj and Umrah, one Tuwaf is sufficient for both, and he should not exit Ihram until he has completed his Hajj, when he should exit lhriim for both." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٠٢ (٩٤٨)، (تحفة الأشراف: ٨٠٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦٧)، سنن الدارمی/النسک ٢٩ (١٨٨٦) (صحیح )
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وادی عقیق ١ ؎ میں فرماتے سنا: میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اور کہو: یہ عمرہ ہے حج میں (یہ الفاظ دحیم کے ہیں) ۔
Umar bin Khattab said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say, when he was in "Aqiq: "Someone came to me from my Lord and said: Pray in this blessed valley and say: (I intend to do) Umran in Hajj. (Sahih) This is the wording of (one of the narrators) Duhaim. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عقیق: مسجد نبوی سے چار میل (تقریباً ساڑھے چھ کلو) کی دوری پر ایک وادی ہے اور اب شہر کا ایک حصہ ہے۔ یہ جملہ وقل: عمرة في حجة احادیث میں تین طرح سے وارد ہے، مسکین کی روایت میں جسے انہوں نے اوزاعی سے روایت کیا ہے قال: عمرة في حجة ماضی کے صیغے کے ساتھ ہے اور ولید بن مسلم اور عبدالواحد کی روایت میں وقل: عمرة في حجة امر کے صیغے کے ساتھ ہے اور بخاری کی روایت میں وقل: عمرة و حجة ہے عمرة اور حجة کے درمیان واو عاطفہ کے ساتھ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٦ (١٥٣٤)، سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٨٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٥١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤) صحیح )
سراقہ بن جعشم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس وادی میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: آگاہ رہو، عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہوگیا ۔
It was narrated that Suraqah bin Jushum said: "The Messenger of Allah ﷺ stood up to deliver a speech in this valley, and said: Lo! Umrah has been included in Hajj until the Day of Resurrection." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨١٥، ومصباح الزجاجة: ١٠٤٥)، سنن النسائی/الحج ٧٧ (٢٨٠٨)، مسند احمد (٤/١٧٥) (صحیح )
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین ؓ نے کہا: میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آج کے بعد فائدہ پہنچائے، جان لو کہ آپ ﷺ کے گھر والوں میں سے ایک جماعت نے ذی الحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کیا، اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو منع نہیں کیا، اور نہ قرآن مجید میں اس کا نسخ اترا، اس کے بعد ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا ١ ؎۔
It was narrated that Mutarrif bin ‘Abdullah Shikhir said: Imran bin Hussain said to me: ‘I will tell you a Hadith, that Allah may benefit thereby after this day. Know Allah’s Messenger had a ip from his family perform air dining the ten (days) of Hijjah, and the Messenger of did not forbid that, and rogatlon of that was revealed, and it does not matter anyone else suggests.’(sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور سنن ترمذی میں ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر ؓ سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ درست ہے، اس شخص نے کہا: آپ کے والد تو اس سے منع کرتے تھے، انہوں نے کہا: اگر میرے والد ایک بات سے منع کریں اور رسول اکرم ﷺ نے اس کو کیا ہو تو میرے والد کی پیروی کی جائے گی، یا رسول اللہ ﷺ کی؟ اس شخص نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی، ابن عمر ؓ نے کہا: پس رسول اللہ ﷺ نے تو تمتع کیا۔
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ومحمد بن بشار قالا: حدثنا محمد بن جعفر (ح) وحدثنا نصر بن علي الجهضمي حدثني أبي قالا: حدثنا شعبة عن الحكم عن عمارة بن عمير عن إبراهيم بن أبي موسى عن أبي موسى الأشعري أنه كان يفتي بالمتعة فقال له رجل رويدك بعض فتياك فإنك لا تدري ما أحدث أمير المؤمنين في النسك بعدك. حتى لقيته بعد فسألته فقال عمر قد علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فعله وأصحابه ولكني كرهت أن يظلوا بهن معرسين تحت الأراك ثم يروحون بالحج تقطر رءوسهم.
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ وہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے، ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اپنے بعض فتوؤں سے دستبردار ہوجائیں کیونکہ آپ کے بعد امیر المؤمنین نے حج کے مسئلہ میں جو نئے احکام دئیے ہیں وہ آپ کو معلوم نہیں، ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں عمر ؓ سے ملا، اور ان سے پوچھا، تو آپ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ نے ایسا کیا ہے، لیکن مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ لوگ پیلو کے درخت کے نیچے عورتوں کے ساتھ رات گزاریں پھر حج کو جائیں، اور ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔
It was narrated from Ibrahim bin Abu Musa (RA) : "Abu Musa AI-Ash ari used to issue rulings concerning Tamaitu, Then a man said to him: Withhold some of your rulings, for you do not know what the Commander of the Believers has introduced into the rites after you. (Abu Musa said:) Then when I met him later on, I asked him. Umar said: I know that the Messenger of Allah ﷺ and his Companions did it, but I did not like that people should lie with their wives in the shade of the Ariik trees and then go out for Hajj with their heads dripping: (i.e. due to the bath after sexual relations)." (Sahih)
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہا (یعنی احرام باندھا) ، اس میں عمرہ کو شریک نہیں کیا ١ ؎، پھر ہم مکہ پہنچے تو ذی الحجہ کی چار راتیں گزر چکی تھیں، جب ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں تبدیل کردیں، اور اپنی بیویوں کے لیے حلال ہوجائیں، ہم نے عرض کیا: اب عرفہ میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں، اور کیا ہم عرفات کو اس حال میں نکلیں کہ شرمگاہوں سے منی ٹپک رہی ہو؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم میں سب سے زیادہ نیک اور سچا ہوں ٢ ؎، اگر میرے ساتھ ہدی (قربانی کا جانور) نہ ہوتا تو میں بھی (عمرہ کر کے) حلال ہوجاتا (یعنی احرام کھول ڈالتا اور حج کو عمرہ میں تبدیل کردیتا) ۔ سراقہ بن مالک ؓ نے اس وقت عرض کیا: حج میں یہ تمتع ہمارے لیے صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، ہمیشہ ہمیش کے لیے ہے ٣ ؎۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "We began our Talbiyah for Hajj only with Allahs Messenger ﷺ , and we did not mix it with Umrah. We arrived in Makkah when four nights of Dhul-Hijjah had passed, and when we had performed Tawaf around the Ka’bah and Sa’y between Safa and Marwah, the Messenger of Allah ﷺ commanded us to make it ‘Umra and to come out of Ihram and have relations with our wives. We said: ‘There are only five (days) until ‘Arafah. Will we go out to it with our male organs dripping with semen?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I am the most righteous and truthful among you and were it not for the sacrificial animal, I would have exited Ihrdm.’ Surâqah bin Málik said: ‘Is this Tamattu’ for this year only or forever?’ He said: ‘No, it is forever and ever.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حج افراد کا احرام باندھا۔ ٢ ؎: یعنی جو کہہ رہا ہوں کسی پس و پیش کے بغیر انجام دو، میری کوئی بات تقویٰ و پرہیز گاری کے منافی نہیں ہوسکتی۔ ٣ ؎: ہر ایک شخص کے لیے قیامت تک تمتع کرنا جائز ہے، اس حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی احرام باندھے لیکن ہدی کا جانور ساتھ نہ ہو تو وہ مکہ میں جا کر حج کی نیت فسخ کرسکتا ہے، اور عمرہ کر کے احرام کھول سکتا ہے، پھر یوم الترویہ یعنی ذی الحجہ کی ٨ تاریخ کو حج کے لئے نیا احرام باندھے، اور اس تاریخ (آٹھ) تک سب کام کرسکتا ہے جو احرام کی حالت میں جائز نہ تھے، امام ابن القیم اعلام الموقعین میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا دینے کا فتوی ٰ دیا، پھر فتویٰ دیا کہ یہ امر مستحب ہے ضرور اس کام کو کرنا چاہیے، اور یہ حکم کسی دوسرے حکم سے منسوخ نہیں ہوا، اور دین اللہ تعالیٰ کا ہے، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ حج کو فسخ کر ڈالنا اور عمرہ کردینا اگر کوئی ان احادیث کی رو سے واجب کہے تو اس کا قول قوی ہوگا، بہ نسبت اس شخص کے قول کے جو اس سے منع کرتا ہے ... الی آخرہ۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے تو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ پہنچے یا اس سے قریب ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو جن لوگوں کے پاس ہدی (قربانی) کا جانور نہیں تھا احرام کھول دینے کا حکم دیا، تو سارے لوگوں نے احرام کھول دیا، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی (قربانی) کے جانور تھے، پھر جب نحر کا دن (ذی الحجہ کا دسواں دن) ہوا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، لوگوں نے کہا: یہ گائے رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے ذبح کی ہے۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ when there Were five nights left of Dhul-Qadah, intending only to perform Hajj. When we came dose, the Messenger of Allah ﷺ ordered that whoever did not have a sacrificial animal, then he should exit lhram, So all the people exited Ihram, except those Who had the sacrificial animal When the Day of sacrifice (i.e., the 10th of Dhul-Hijjah) came, some beef was brought to us, and it was said: The Messenger of Allah ﷺ has offered a sacrifice on behall of his wives. (Sahih)