Sunan Ibne-Majah 2945

حج کا بیان

2945Sunan Ibne-Majah

حجر اسود کا استلام۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ وَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ يَبْكِي طَوِيلًا، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَإِذَا هُوَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَبْكِي، فَقَالَ يَا عُمَرُ: هَاهُنَا تُسْكَبُ الْعَبَرَاتُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجر اسود کی طرف رخ کیا، پھر اپنے دونوں ہونٹ اس پر رکھ دئیے، اور دیر تک روتے رہے، پھر ایک طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ عمر بن خطاب ؓ بھی رو رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: عمر! اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ turned to face the Stone, then he put his lips on it and wept for a long time. Then he turned and saw Umar bin Khattab weeping. He said: Umar, this is the place where tears should be shed:" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٤١، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٦) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن عون خراسانی ضعیف الحدیث و منکر الحدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١١١١ )