Sunan Ibne-Majah 2944

حج کا بیان

2944Sunan Ibne-Majah

حجر اسود کا استلام۔

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيَأْتِيَنَّ هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ عَلَى مَنْ يَسْتَلِمُهُ بِحَقٍّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ پتھر قیامت کے دن آئے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھ رہا ہوگا، ایک زبان ہوگی جس سے وہ بول رہا ہوگا، اور گواہی دے گا اس شخص کے حق میں جس نے حق کے ساتھ اسے چھوا ہوگا ١ ؎۔

It was narrated that Sa’eed bin Jubair said: I heard Ibn ‘Abbâs say: The Messenger of Allah ﷺ said: “This Stone will be brought on the Day of Resurrection, and it will be given two eyes with which to see, and a tongue with which to speak, and it will bear witness for those who touched it in sincerity.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایمان کے ساتھ، اس سے وہ مشرک نکل گئے جنہوں نے شرک کی حالت میں حجر اسود کو چوما ان کے لیے اس کا چومنا کچھ مفید نہ ہوگا اس لیے کہ کفر کے ساتھ کوئی بھی عبادت نفع بخش اور مفید نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١١٣ (٩٦١)، (تحفة الأشراف: ٥٥٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٤٧، ٢٦٦، ٢٩١، ٣٠٧، ٣٧١)، سنن الدارمی/المناسک ٢٦ (١٨٨١) (صحیح )