Sunan Ibne-Majah 2950

حج کا بیان

2950Sunan Ibne-Majah

بیت اللہ کے گرد طواف میں رمل کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ رَمَلَ ثَلَاثَةً، وَمَشَى أَرْبَعَةً، مِنَ الْحِجْرِ إِلَى الْحِجْرِ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیت اللہ کا پہلا طواف (طواف قدوم) کرتے تو تین چکروں میں رمل کرتے (یعنی طواف میں قریب قریب قدم رکھ کے تیز چلتے) اور چار چکروں میں عام چال چلتے اور یہ چکر حجر اسود پر شروع کر کے حجر اسود پر ہی ختم کرتے، ابن عمر ؓ بھی ایسا ہی کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that when the Messenger of Allah ﷺ performed Tawaf around the House for the first time, he walked Briskly with short steps in the first three circuits, and walked normally in the last four, starting and ending at the Hijr."I And Ibn Umar used to do that. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: رمل: ذرا دوڑ کر مونڈ ہے ہلاتے ہوئے چلنے کو رمل کہتے ہیں جیسے بہادر اور زور آور سپاہی چلتے ہیں، یہ طواف کے ابتدائی تین پھیروں میں کرتے ہیں، اور اس کا سبب صحیحین کی روایت میں مذکور ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ کے اصحاب مکہ میں آئے تو مشرکین نے کہا کہ یہ لوگ مدینہ کے بخار سے کمزور ہوگئے ہیں، آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو تین پھیروں میں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ مشرکین کو یہ معلوم کرائیں کہ مسلمان ناتوان اور کمزور نہیں ہوئے بلکہ طاقتور ہیں، پھر یہ سنت اسلام کی ترقی کے بعد بھی قائم رہی اور قیامت تک قائم رہے گی، پس رمل کی مشروعیت اصل میں مشرکوں کو ڈرانے کے لیے ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٩٧، ٨١١٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٦٣ (١٦١٦)، صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦٢)، سنن ابی داود/الحج ٥١ (١٨٩١)، سنن النسائی/الحج ١٥٠ (٢٩٤٣)، موطا امام مالک/الحج ٣٤ (٨٠)، مسند احمد (٣/١٣)، سنن الدارمی/المناسک ٢٧ (١٨٨٣، ١٨٨٤) (صحیح )