میت کی جانب سے حج کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْيَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَحُجُّ عَنْ أَبِي؟، قَالَ: نَعَمْ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ، فَإِنْ لَمْ تَزِدْهُ خَيْرًا لَمْ تَزِدْهُ شَرًّا.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا: کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اپنے والد کی طرف سے حج کرو، اگر تم ان کی نیکی نہ بڑھا سکے تو ان کی برائی میں اضافہ مت کرو ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: “A man came to the Prophet ﷺ and said: ‘Shall I Perform Hall on behalf of my father’ He said: ‘Yes, perform Ha Ofl behalf of your father, for if You cam-rot add any good to his record (at least) you will not add aWthing bad.” (Da’if)