Sunan Ibne-Majah 2904

حج کا بیان

2904Sunan Ibne-Majah

میت کی جانب سے حج کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْيَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَحُجُّ عَنْ أَبِي؟، قَالَ: نَعَمْ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ، فَإِنْ لَمْ تَزِدْهُ خَيْرًا لَمْ تَزِدْهُ شَرًّا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور بولا: کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اپنے والد کی طرف سے حج کرو، اگر تم ان کی نیکی نہ بڑھا سکے تو ان کی برائی میں اضافہ مت کرو ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: “A man came to the Prophet ﷺ and said: ‘Shall I Perform Hall on behalf of my father’ He said: ‘Yes, perform Ha Ofl behalf of your father, for if You cam-rot add any good to his record (at least) you will not add aWthing bad.” (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی باپ کے بڑے احسانات ہیں، آدمی کو چاہیے کہ اپنے والد کی طرف سے خیر خیرات اور اچھے کام کرے، جیسے صدقہ اور حج وغیرہ، اگر یہ نہ ہو سکے تو اتنا ضروری ہے کہ والد کے ساتھ برائی نہ کرے، وہ برائی یہ ہے دوسرے لوگوں سے لڑ کر والد کو گالیاں دلوائے یا برا کہلوائے یا ان کے والد کو برا کہہ کر، جیسے دوسری حدیث میں آیا ہے کہ بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کو گالی دے، لوگوں نے عرض کیا: اپنے والد کو کون گالی دے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس طرح سے کہ دوسرے کے والد کو گالی دے وہ اس کے والد کو گالی دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٥٥، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٤) (صحیح الإسناد )