شعبی کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس ؓ کا بیان ہے کہ میرے شوہر نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تین طلاقیں دے دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے نہ سکنی (رہائش) ہے، نہ نفقہ (اخراجات) ١ ؎۔
It was narrated that Shabi said: Fatimah bint Qais said: "My husband divorced me at the time of the Messenger of Allah ﷺ three times. The Messenger of Allah ﷺ said: You have no right to accommodation or to maintenance. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اہلحدیث نے اس متفق علیہ حدیث سے دلیل لی ہے، صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ تیرے لئے نفقہ نہیں ہے مگر جب تو حاملہ ہو، جمہور کہتے ہیں کہ عمر اور عائشہ ؓ نے اس حدیث کا انکار کیا، اور عمر ؓ نے کہا: ہم اپنے رب کی کتاب اور نبی کی سنت ایک عورت کے قول سے نہیں چھوڑ سکتے، معلوم نہیں اس نے یاد رکھا، یا بھول گئی، اور فاطمہ ؓ کو جب یہ بات پہنچی، تو انہوں نے کہا: تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ (سورة الطلاق: 1) یہاں تک فرمایا: لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا (سورة الطلاق: 1) تین طلاق کے بعد کون سا امر پیدا ہوگا (یعنی رجوع کی امید نہیں تو نفقہ اور سکنی بھی واجب نہ ہوگا) اہل حدیث یہ بھی کہتے ہیں کہ امام احمد اور نسائی نے فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت کی کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: نفقہ اور سکنی اس عورت کے لئے ہے جس سے اس کا شوہر رجوع کرسکتا ہو اور امام احمد کی ایک روایت میں ہے کہ جب رجوع نہ کرسکتا ہو تو نہ نفقہ ہے نہ سکنی، اس کی سند میں مجالد بن سعید ہیں ان کی متابعت بھی ہوئی ہے اور وہ ثقہ ہیں تو اس کا حدیث کو مرفوع روایت کرنا مقبول ہوگا، اور قرآن میں بہت سی آیتیں ہیں جو نفقہ اور سکنی کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں لیکن وہ سب مطلقہ رجعی سے متعلق ہیں جیسے: لا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ (سورة الطلاق: 1) اور أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ (سورة الطلاق: 6) اور وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ (سورة البقرة: 241) اور دلیل اس تخصیص کی فاطمہ بنت قیس کی حدیث ہے، اور یہ آیت: لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا (سورة الطلاق: 1) اور یہ آیت: وَإِن كُنَّ أُولاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (سورة الطلاق: 6) کیونکہ اس سے یہ نکلتا ہے کہ اگر حاملہ نہ ہوں تو ان کو خرچ دینا واجب نہیں، اور بیہقی میں جابر ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ جس حاملہ عورت کا شوہر مرجائے اس کو نفقہ نہیں ہے، اس کے بارے میں ابن حجر نے کہا کہ محفوظ یہ ہے کہ یہ موقوف ہے، اور ابوحنیفہ نے کہا کہ وفات والی کے لئے سکنی نہیں ہے وہ جہاں چاہے عدت گزارے، اور مالک (رح) نے کہا: اس کے لئے سکنی ہے، اور شافعی کے اس باب میں دو قول ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب عمرہ بنت جون رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی گئی تو اس نے آپ ﷺ سے (اللہ کی) پناہ مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو نے ایسی ہستی کی پناہ مانگی جس کی پناہ مانگی جاتی ہے ، پھر آپ ﷺ نے اسے طلاق دے دی، اور اسامہ ؓ یا انس ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے اسے سفید کتان کے تین کپڑے دیئے۔
It was narrated from ‘ Aisha (RA) that ‘Amrah bint Jawn sought refuge with Allah from the Messenger of Allah ﷺ when she was brought to him (as a bride). He said: “You have sought refuge with Him in Whom refuge is sought.” So he divorced her and told Usámah or Anas to give her a gift of three garments of white flax. (Maudu’)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٠٩٧، ومصباح الزجاجة: ٧١٨) (منکر) (اسا مہ اور انس رضی+اللہ+عنہما کا ذکر اس حدیث میں منکر ہے، لیکن صحیح بخاری میں اس لفظ سے ثابت ہے، فأمر أبا أ سید أن یجہزہا ویکسوہا ثوبین رازقیتین (آپ صلی+اللہ+علیہ+وسلم نے ابواسید کو حکم دیا کہ اس کو تیار کریں، اور دو سفید کتان کے کپڑے پہنائیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧ / ١٤٦ )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب عورت دعویٰ کرے کہ اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہے، اور طلاق پہ ایک معتبر شخص کو گواہ لائے (اور اس کا مرد انکار کرے) تو اس کے شوہر سے قسم لی جائے گی، اگر وہ قسم کھالے تو گواہ کی گواہی باطل ہوجائے گی، اور اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو اس کا انکار دوسرے گواہ کے درجہ میں ہوگا، اور طلاق جائز ہوجائے گی ۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ said: "If a woman claims that her husband has divorced her, and she brings a witness of good character (to testify) to that, her husband should be asked to swear an oath. If he swears, that will invalidate the testimony of the witness, but if he refuses then that will be equivalent to a second witness, and the divorce will take effect." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٥٢، ومصباح الزجاجة: ٧١٩) (ضعیف) (سند میں زہیر بن محمد ضعیف حافظہ والے راوی ہیں، اور ابن جریج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین کام ہیں جو سنجیدگی سے کرنا بھی حقیقت ہے، اور مذاق کے طور پر کرنا بھی حقیقت ہے، ایک نکاح، دوسرے طلاق، تیسرے (طلاق سے) رجعت ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are three matters in which seriousness is serious and joking is serious: marriage, divorce and taking back (ones wife)." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہنسی مذاق اور ٹھٹھے کے طور پر اور اس کے مقابل جِد ہے یعنی درحقیقت ایک کام کا کرنا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٩ (٢١٩٤)، سنن الترمذی/الطلاق ٩ (١١٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٥٤) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حسن کے درجہ کو ہے، عبد الرحمن بن حبیب میں ضعف ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کردیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں، یا اسے زبان سے نہ کہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah has forgiven my nation for what they think of to themselves, so long as they do not act upon it or speak of it." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: دل میں اگر طلاق کا خیال گزرے لیکن زبان سے کچھ نہ کہے تو طلاق واقع نہ ہوگی، سب امور میں یہی حکم ہے جیسے عتاق، رجوع، بیع وشراء وغیرہ میں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ کا اگر کوئی ارادہ کرے لیکن ہاتھ پاؤں یا زبان سے اس کو نہ کرے تو لکھا نہ جائے گا، یعنی اس پر اس کی پکڑ نہ ہوگی، یہ اللہ تعالیٰ کی اس امت پر عنایت ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آجائے ۔ ابوبکر کی روایت میں وعن المجنون حتى يعقل کے بجائے وعن المبتلى حتى يبرأ دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہوجائے ہے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Pen has been lifted from three: from the sleeping person until he awakens, from the minor until he grows up, and from the insane person until he comes to his senses." (Hasan) In his narration, (one of the narrators) Abu Bakr (RA) (Ibn Abu Shaibah) said: "And from the afflicted person, until he recovers." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: ان میں سے کسی کی طلاق نہ پڑے گی، لیکن پاگل اور دیوانے میں اختلاف ہے اور اکثر کے نزدیک اس کی طلاق پڑجائے گی۔
علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بچے، دیوانے اور سوئے ہوئے شخص سے قلم اٹھا لیا جاتا ہے ۔
It was narrated from Ali bin Abu Talib that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Pen is lifted from the minor, the insane person and the sleeper." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٢٥٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود ١ (١٤٢٣) (صحیح) (دوسرے شواہد کے بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں القاسم بن یزید مجہول ہیں، اور ان کی ملاقات علی ؓ سے نہیں ہے )
ابوذرغفاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے بھول چوک، اور جس کام پہ تم مجبور کردیئے جاؤ معاف کردیا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Dharr (RA) AI-Ghifari that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah has forgiven for me my nation their mistakes and forgetfulness, and what they are forced to do." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: جب اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کیا، اور دنیا کے احکام میں معافی ہوگئی، تو جب اس نے بھولے سے طلاق دی یا مجبوری کی حالت میں تو طلاق نہ پڑے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٢٢) (صحیح) (سند میں ابو بکرالہذلی ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے جو ان کے دلوں میں وسوسے آتے ہیں معاف کردیا ہے جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں، یا نہ بولیں، اور اسی طرح ان کاموں سے بھی انہیں معاف کردیا ہے جس پر وہ مجبور کردیئے جائیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah has forgiven my nation for the evil suggestions of their hearts, so long as they do not act upon it or speak of it, and for what they are forced to do."(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: شیخ عبدالحق محدث (رح) لمعات التنقیح میں فرماتے ہیں کہ ائمہ ثلاثہ نے اسی حدیث کی رو سے یہ حکم دیا ہے کہ جس پر زبردستی کی جائے اس کی طلاق اور عتاق (آزادی) نہ پڑے گی اور ہمارے مذہب (حنفی) میں قیاس کی رو سے ہزل پر طلاق اور عتاق دونوں پڑجائے گی تو جو عقد ہزل میں نافذ ہوجاتا ہے۔ وہ اکراہ (زبردستی) میں بھی نافذ ہوجائے گا، مولانا وحید الزمان صاحب اس قول پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ افسوس ہے کہ حنفیہ نے قیاس کو حدیث پر مقدم رکھا، اور نہ صرف اس حدیث پر بلکہ ابوذر، ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ کی احادیث پر بھی جو اوپر گزریں، اور یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حنفیہ نے جو اصول بنائے ہیں کہ خبر واحد، مرسل حدیث اور ضعیف حدیث بلکہ صحابی کا قول بھی قیاس پر مقدم ہے، یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں، سیکڑوں مسائل میں انہوں نے قیاس کو احادیث صحیحہ پر مقدم رکھا ہے، اور یقیناً یہ متاخرین حنفیہ کا فعل ہے، امام ابوحنیفہ (رح) اس سے بالکل بری تھے، جیسے انہوں نے نبیذ سے وضو اور نماز میں قہقہہ سے وضو ٹوٹ جانے میں ضعیف حدیث کی وجہ سے قیاس جلی کو ترک کردیا ہے، تو بھلا صحیح حدیث کے خلاف وہ کیونکر اپنا قیاس قائم رکھتے، اور محدثین نے باسناد مسلسل امام ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے حدیث پر عمل لازم ہے، اور میرا قول حدیث کی وجہ سے چھوڑ دینا، امام ابوحنیفہ سے منقول ہے کہ جب تک لوگ علم حدیث حاصل کرتے رہیں گے اچھے رہیں گے، اور جب حدیث چھوڑ دیں گے تو بگڑ جائیں گے، لیکن افسوس ہے کہ حنفیہ نے اس باب میں اپنے امام کی وصیت پر عمل نہیں کیا۔
Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم: ٢٠٤٠ (صحیح) (حدیث میں وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ کا لفظ شاذ ہے، لیکن اگلی حدیث ابن عباس ؓ میں یہ لفظ ثابت ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ نے میری امت سے بھول چوک اور زبردستی کرائے گئے کام معاف کردیئے ہیں ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "Allah has forgiven my nation for mistakes and forgetfulness, and what they are forced to do." (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زبردستی کی صورت میں نہ طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ عتاق (غلامی سے آزادی) ۔
It was narrated that Safiyyah bint Shaibah said: " Aisha (RA) told me that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no divorce and no manumission at the time of coercion:" (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٨ (٢١٩٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٧٦) (حسن) (سند میں عبید بن صالح ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١ /٢٠٤٧ و صحیح أبی داود: ١٩٠٣ )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی جس عورت کا بطور نکاح مالک نہیں اس کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ہے ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no divorce regarding that which one does not possess."(Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اب اگر کوئی طلاق دے تو اس کا فعل لغو ہے، مثلاً یوں کہے: جس عورت سے میں نکاح کروں اس کو طلاق ہے، اور اس کے بعد نکاح کرے تو اس کہنے سے طلاق نہ پڑے گی۔
مسور بن مخرمہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نکاح سے پہلے طلاق نہیں، اور ملکیت سے پہلے آزادی نہیں ۔
It was narrated from Miswar bin Makhramah that the Prophet ﷺ said: "There is no divorce before marriage and no manumission before taking possession: (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢٧٧، ومصباح الزجاجة: ٧٢٣) (حسن صحیح) (سند میں ہشام بن سعد ضعیف راوی ہیں، اور علی بن الحسین مختلف فیہ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧ / ١٥٢ )
اوزاعی کہتے ہیں میں نے زہری سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ کی کون سی بیوی نے آپ سے اللہ کی پناہ مانگی تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے خبر دی کی عائشہ ؓ نے فرمایا: جَون کی بیٹی جب نبی اکرم ﷺ کی خلوت میں آئی اور آپ ﷺ اس کے قریب گئے تو بولی: میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ایک بڑی ہستی کی پناہ مانگی ہے تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ١ ؎۔
Awza said: "I asked Zuhri: Which of the wives of the Prophet ﷺ sought refuge with Allah from him? He said: "Urwah told me, (narrating) from Aisha (RA) , that when the daughter of Jawn entered upon the Messenger of Allah ﷺ and he came close to her, she said: "I seek refuge with Allah from you." The Messenger of Allah ﷺ said: "You have sought refuge in the Almighty; go to your family." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لفظ الحقي بأهلك یعنی اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ میں طلاق سے کنایہ ہے، ایک تو صاف طلاق کا لفظ ہے، دوسرے وہ الفاظ ہیں جن کو کنایات کہتے ہیں، ان میں بعض الفاظ سے طلاق پڑتی ہے، بعض سے نہیں پڑتی، اور جن سے پڑتی ہے ان میں یہ شرط ہے کہ طلاق کی نیت سے کہے، اہل حدیث کے نزدیک یوں کہنے سے کہ تو مجھ پر حرام ہے، طلاق نہیں پڑتی، بخاری ومسلم نے ابن عباس ؓ سے ایسا ہی روایت کیا ہے اور نسائی نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں نے اپنی عورت کو حرام کرلیا، انہوں نے کہا: تم نے جھوٹ اور غلط کہا، وہ تم پر حرام نہیں ہے، پھر یہ آیت پڑھی: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ (سورة التحريم: 1) اور سب سے سخت کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٣ (٥٢٥٤)، سنن النسائی/الطلاق ١٤ (٣٤٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٥١٢) (صحیح) (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: حدیث: ٢٠٣٧ )
رکانہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ (قطعی طلاق) دے دی، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: تم نے اس سے کیا مراد لی ہے ؟ انہوں نے کہا: ایک ہی مراد لی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: قسم اللہ کی کیا تم نے اس سے ایک ہی مراد لی ہے ؟، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس سے صرف ایک ہی مراد لی ہے، تب نبی اکرم ﷺ نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی ١ ؎۔ محمد بن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن حسن بن علی طنافسی کو کہتے سنا: یہ حدیث کتنی عمدہ ہے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے یہ حدیث ایک گوشے میں ڈال دی ہے، اور احمد اسے روایت کرنے کی ہمت نہیں کرسکے ہیں۔
It was narrated from Abdullah bin Ali bin Yazid bin Rukanah, from his father, from his grandfather, that he divorced his wife irrevocably, then he came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him. He said: "What did you mean by that?" He said: "One (divorce)." He said: "By Allah, did you only mean one (divorce) thereby?" He said: "By Allah, I meant one." Then he sent her back to him. (Daif) Muhammad bin Majah said: I heard Abul-Hasan Ali bin Muhammad Te nafisi saying: "How noble is this Hadith: Ibn Maiah said: Abu Ubaid left it (i.e., did not accept its narration) and Ahmad was fearful of it (i.e., of narrating it)."
Notes · وضاحت
١ ؎: بتہ: تین طلاق کو بتہ کہتے ہیں، کیونکہ بت کے معنی ہیں قطع کرنا، اور تین طلاقوں سے عورت شوہر سے بالکل الگ ہوجاتی ہے، پھر اس سے رجعت نہیں ہوسکتی، اور عدت گزر جانے کے بعد ایک طلاق بھی بتہ یعنی بائن ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ١٤ (٢٢٠٦، ٢٢٠٧، ٢٢٠٨)، سنن الترمذی/الطلاق ٢ (١١٧٧)، (تحفة الأشراف: ٣٦١٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطلاق ٨ (٢٣١٨) (ضعیف) (اس کے تین رواة زبیری سعید، عبداللہ بن علی، اور علی بن یزید ضعیف ہیں، دیکھئے: إرواء الغلیل: ٢٠٦٣ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو اختیار دیا تو ہم نے آپ ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اس کو کچھ نہیں سمجھا ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ gave us the choice, and We chose him, and he did not consider it as something (i.e., an effective divorce)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: چاہے طلاق دے لے اور چاہے شوہر کو پسند کرے، پس اگر عورت نے شوہر کو اختیار کیا تو طلاق نہ پڑے گی، یہی قول اہل حدیث کا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب آیت: وإن کنتن تردن الله ورسوله اتری تو رسول اللہ ﷺ نے میرے پاس آ کر فرمایا: عائشہ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں، تم اس میں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کرلینا جلد بازی نہ کرنا ، عائشہ ؓ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! آپ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں باپ کبھی بھی آپ کو چھوڑ دینے کے لیے نہیں کہیں گے، پھر آپ ﷺ نے مجھ پر یہ آیت پڑھی: يا أيها النبي قل لأزواجک إن کنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها (سورة الأحزاب: 28) اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش و زیبائش پسند کرتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ دے کر اچھی طرح رخصت کر دوں، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت کو چاہتی ہو تو تم میں سے جو نیک ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ... (یہ سن کر) میں بولی: کیا میں اس میں اپنے ماں باپ سے مشورہ لینے جاؤں گی! میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرچکی ہوں ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "When the following was revealed: But if you desire Allah and His Messenger: the Messenger of Allah ﷺ entered upon me and said: O Aisha (RA) I want to say something to you, and you do not have to hasten (in making a decision) until you have consulted your parents. She said: "He knew, by Allah, that my parents would never tell me to leave him." She said: "Then he recited to me: O Prophet ﷺ (Muhammad)! Say to your wives: "If you desire the life of this world, and its glitter., I said: Do I need to consult my parents about this? I choose Allah and His Messenger. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: پھر آپ ﷺ نے سب بیویوں سے اسی طرح کہا، لیکن سب نے اللہ و رسول کو اختیار کیا، اور دنیا پر خاک ڈالی، اللہ تعالیٰ کی لعنت دنیا کی چار دن کی بہار پر ہے، پھر آخر اللہ کے پاس جانا ہے، پس آخرت کی بھلائی سب پر مقدم ہے، دنیا تو بری یا بھلی کسی بھی طرح گزر جاتی ہے، لیکن آخرت ہمیشہ رہنا ہے، اللہ آخرت سنوارے۔ آمین۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت بغیر کسی حقیقی وجہ اور واقعی سبب کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ وہ جنت کی خوشبو پا سکے، جب کہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ " said: "No woman asks for divorce when it is not absolutely necessary, but she will never smell the fragrance of Paradise, although its fragrance can be detected from a distance of forty years travel." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: خلع: عورت کچھ مال شوہر کو دے کر اس سے الگ ہوجائے اس کو خلع کہتے ہیں، خلع کا بدل کم ہو یا زیادہ جس پر اتفاق ہوجائے سب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٩٣٨، ومصباح الزجاجة: ٧٢٥) (ضعیف) (سند میں ثوبان مجہول الحال راوی ہیں )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کسی عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا، تو اس پہ جنت کی خوشبو حرام ہے ۔
It was narrated from Thawban that the essenger of Allah said: “Any woman who asks her husband for a divorce when it is not absolutely necessary, the fragrance of Paradise will be forbidden to her.’” (Sahih)