Sunan Ibne-Majah 2040

طلاق کا بیان

2040Sunan Ibne-Majah

زیر لب طلاق دینا اور زبان سے کچھ ادا نہ کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَاخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ جَمِيعًا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ بِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے معاف کردیا ہے جو وہ دل میں سوچتے ہیں جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں، یا اسے زبان سے نہ کہیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah has forgiven my nation for what they think of to themselves, so long as they do not act upon it or speak of it." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: دل میں اگر طلاق کا خیال گزرے لیکن زبان سے کچھ نہ کہے تو طلاق واقع نہ ہوگی، سب امور میں یہی حکم ہے جیسے عتاق، رجوع، بیع وشراء وغیرہ میں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ کا اگر کوئی ارادہ کرے لیکن ہاتھ پاؤں یا زبان سے اس کو نہ کرے تو لکھا نہ جائے گا، یعنی اس پر اس کی پکڑ نہ ہوگی، یہ اللہ تعالیٰ کی اس امت پر عنایت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العتق ٦ (٢٥٢٨)، الطلاق ١١ (٥٢٦٩)، الأیمان والنذور ١٥ (٦٦٦٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٥٨ (١٢٧)، سنن ابی داود/الطلاق ١٥ (٢٢٠٩)، سنن الترمذی/الطلاق ٨ (١١٨٣)، سنن النسائی/الطلاق ٢٢ (٣٤٦٤، ٣٤٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٩٨، ٤٢٥، ٤٧٤، ٤٨١، ٤٩١) (صحیح )