Sunan Ibne-Majah 2047

طلاق کا بیان

2047Sunan Ibne-Majah

نکاح سے پہلے طلاق لغو (بات) ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ جَمِيعًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا طَلَاقَ فِيمَا لَا تَمْلِكُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی جس عورت کا بطور نکاح مالک نہیں اس کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no divorce regarding that which one does not possess."(Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اب اگر کوئی طلاق دے تو اس کا فعل لغو ہے، مثلاً یوں کہے: جس عورت سے میں نکاح کروں اس کو طلاق ہے، اور اس کے بعد نکاح کرے تو اس کہنے سے طلاق نہ پڑے گی۔
Takhrij · تخریج
حدیث ھشیم أخرجہ: سنن الترمذی/الطلاق ٦ (١١٨١)، تحفة الأشراف: ٨٧٢١)، وحدیث حاتم بن اسماعیل أخرجہ: سنن ابی داود/لطلاق ٧ (٢١٩١، ٢١٩٢)، تحفة الأشراف: ٨٧٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ١٨٥) (حسن صحیح )