آدمی اپنی عورت کو اختیار دے دے تو؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ نَرَهُ شَيْئًا.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو اختیار دیا تو ہم نے آپ ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اس کو کچھ نہیں سمجھا ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ gave us the choice, and We chose him, and he did not consider it as something (i.e., an effective divorce)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: چاہے طلاق دے لے اور چاہے شوہر کو پسند کرے، پس اگر عورت نے شوہر کو اختیار کیا تو طلاق نہ پڑے گی، یہی قول اہل حدیث کا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطلاق ٥ (٥٢٦٢)، صحیح مسلم/الطلاق ٤ (١٤٧٧)، سنن ابی داود/الطلاق ١٢ (٢٢٠٣)، سنن الترمذی/الطلاق ٤ (١١٧٩)، سنن النسائی/النکاح ٢ (٣٢٠٤)، الطلاق ٢٧ (٣٤٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٥، ١٧١، ١٧٣، ١٨٥، ٢٠٢، ٢٠٥)، سنن الدارمی/الطلاق ٥ (٢٣١٥) (صحیح )