نکاح کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 11 · 172 hadiths · Page 9 of 9

2004Sunan Ibne-Majah

بچہ ہمیشہ باپ کا ہوتا ہے اور زانی کیلئے تو (فقط) پتھر ہی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ وَسَعْدًا اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهَهُ بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ عبد بن زمعہ اور سعد ؓ دونوں زمعہ کی لونڈی کے بچے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے گئے، سعد ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے بھائی (عتبہ بن ابی وقاص) نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں، اور اس کو لے لوں، اور عبد بن زمعہ ؓ نے کہا: وہ میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، میرے باپ کے بستر پہ پیدا ہوا ہے، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس بچہ کی مشابہت عتبہ سے پائی تو فرمایا: عبد بن زمعہ! وہ بچہ تمہارا بھائی ہے (گرچہ مشابہت سے عتبہ کا معلوم ہوتا ہے) بچہ صاحب فراش (شوہر یا مالک) کا ہوتا ہے ١ ؎، سودہ تم اس سے پردہ کرو ٢ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: Ibn Zamah and Sad (Ibn Abu Waqqas) referred a dispute to the Prophet ﷺ concerning the son of Zamahs slave woman. Sad said: "O Messenger of Allah, my brother (Utbah bin Abu Waqqas) left instructions in his will that when I come to Makkah, I should look for the son of the slave woman of Zamah and take him into my care." Abd bin Zam ah said: "He is my brother and the son of the slave woman of my father; he was born on my fathers bed." The Prophet ﷺ saw that he resembled Utbah, and said: "He belongs to you, O Abd bin Zamah, The child is for the bed. Observe Hijab before him, O Saudah." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زانی کا بچہ نہیں کہلائے گا، گو اس کے نطفہ سے پیدا ہو، بلکہ بچہ عورت کے شوہر یا مالک کا ہوگا اگر عورت لونڈی ہو۔ ٢ ؎: ام المؤمنین سودہ ؓ زمعہ کی بیٹی تھیں، تو یہ بچہ جب زمعہ کا ٹھہرا، تو سودہ کا بھائی ہوا، لیکن چونکہ اس کی مشابہت عتبہ سے پائی گئی، اس لیے احتیاطاً آپ ﷺ نے ام المؤمنین سودہ ؓ کو اس سے پردہ کرنے کا حکم دیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٣ (٢٠٥٣)، ١٠٠ (٢٢١٨)، الخصومات ٦ (٢٤٢١)، العتق ٨ (٢٥٣٣)، الوصایا ٤ (٢٧٤٥)، المغازي ٥٣ (٤٣٠٣)، الفرائض ١٨ (٦٧٤٩)، ٢٨ (٦٧٦٥)، الحدود ٢٣ (٦٨١٧)، الأحکام ٢٩ (٧١٨٢)، صحیح مسلم/الرضاع ١٠ (١٤٥٧)، سنن ابی داود/الطلاق ٣٤ (٢٢٧٣)، سنن النسائی/الطلاق ٤٩ (٣٥١٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٣٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٢١ (٢٠) مسند احمد (٦/١٢٩، ٢٠٠، ٢٧٣)، سنن الدارمی/النکاح ٤١ (٢٢٨١) (صحیح )
2005Sunan Ibne-Majah

بچہ ہمیشہ باپ کا ہوتا ہے اور زانی کیلئے تو (فقط) پتھر ہی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ.

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صاحب فراش کے لیے بچے کا فیصلہ کیا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Umar that the Messenger of Allah ﷺ ruled that the child belonged to the bed. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: فراش سے مراد صاحب فراش یعنی شوہر یا مولیٰ ہے کیونکہ یہ دونوں عورت کو بستر پر لٹاتے اور اس کے ساتھ سوتے ہیں وللعاهرالحجر یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حجر (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جب بچے کو جنم دے گی تو وہ جس کی بیوی یا لونڈی ہوگی اسی کی طرف بچے کے نسب کا الحاق ہوگا اور وہ اسی کا بچہ شمار کیا جائے گا، میراث اور ولادت کے دیگر احکام ان کے درمیان جاری ہوں گے خواہ کوئی دوسرا اس عورت کے ساتھ ارتکاب زنا کا دعویٰ کرے، اور یہ بھی دعوی کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے، اس بچے کی مشابہت بھی اسی کے ساتھ ہو، اور صاحب فراش کے مشابہ نہ ہو، اس ساری صورتحال کے باوجود بچے کا الحاق صاحب فراش کے ساتھ کیا جائے گا، اس میں زانی کا کوئی حق نہیں ہوگا، اور یہ اس صورت میں ہے جب صاحب فراش اس کی نفی نہ کرے اور اگر اس نے اس کی نفی کردی تو پھر بچے کا الحاق ماں کے ساتھ ہوگا، اور وہ بچہ ماں کے ساتھ منسوب ہوگا، زانی سے منسوب نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥) (صحیح )
2006Sunan Ibne-Majah

بچہ ہمیشہ باپ کا ہوتا ہے اور زانی کیلئے تو (فقط) پتھر ہی ہے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) b that the Prophet ﷺ said: “The child is for the bed (i.e., belongs to the husband) and the fornicator gets nothing.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ١٠ (١٤٥٨)، سنن الترمذی/الرضاع ٨ (١١٥٧)، سنن النسائی/الطلاق ٤٨ (٣٥١٢)، (تحفة الأشراف: ١٣١٣٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الفرائض ١٨ (٦٧٤٩)، مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٨٠، ٣٨٦، ٤٠٩، ٤٦٦، ٤٧٥، ٤٩٢)، سنن الدارمی/النکاح ٤١ (٢٢٨١) (صحیح )
2007Sunan Ibne-Majah

بچہ ہمیشہ باپ کا ہوتا ہے اور زانی کیلئے تو (فقط) پتھر ہی ہے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ.

ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: بچہ صاحب فراش کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر ہے ١ ؎۔

Shurahjil bin Muslim said:"I heard Abu Umamah Al-Bahili say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "The child is for the bed and the fornicator gets nothing." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: وللعاهرالحجر یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حجر (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٥، ومصباح الزجاجة: ٧١٣) (صحیح) (سند میں سابقہ شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس میں اسماعیل بن عیاش اور شرجیل بن مسلم کی وجہ سے کچھ کلام ہے )
2008Sunan Ibne-Majah

اگرزوجین میں سے کوئی پہلے اسلام قبول کرلے ؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَتْ فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، قَالَ: فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ مَعَهَا وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي، قَالَ: فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر اسلام قبول کیا، اور اس سے ایک شخص نے نکاح کرلیا، پھر اس کا پہلا شوہر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اپنی عورت کے ساتھ ہی مسلمان ہوا تھا، اور اس کو میرا مسلمان ہونا معلوم تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو دوسرے شوہر سے چھین کر پہلے شوہر کے حوالے کردیا۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that a woman came to the Prophet ﷺ and became Muslim, and a man married her. Then her first husband came and said: "O Messenger of Allah, I became Muslim with her, and she knew that I was Muslim." So the Messenger of Allah ﷺ took her away from her second husband and returned her to her first husband. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٢٣ (٢٢٣٨، ٢٢٣٩)، سنن الترمذی/النکاح ٤٢ (١١٤٤)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢، ٣٢٣) (ضعیف) (سند میں حفص بن جمیع ضعیف راوی ہیں، اور سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے )
2009Sunan Ibne-Majah

اگرزوجین میں سے کوئی پہلے اسلام قبول کرلے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بَعْدَ سَنَتَيْنِ بِنِكَاحِهَا الْأَوَّلِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی زینب ؓ کو ابوالعاص بن ربیع ؓ کے پاس دو سال کے بعد اسی پہلے نکاح پر بھیج دیا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn ‘Abbâs that the Messenger of Allah ﷺ returned his daughter to Abul-’As bin Rabi’ after two years, on the basis of the first marriage contract, (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ ابوالعاص بن ربیع ؓ نے صلح حدیبیہ (سن ٦ ہجری) سے پہلے اسلام قبول کرلیا تھا اس لیے زینب ؓ کی واپسی کے لیے نئے نکاح کی ضرورت نہیں پڑی، مشرکین پر مسلمان عورتوں کو حرام قرار دینے کا ذکر صلح حدیبیہ کے مکمل ہونے کے بعد نازل ہونے والی آیت میں کیا گیا ہے، لہذا اس مدت کے دوران نکاح فسخ نہیں ہوا کیونکہ اس بارے میں کوئی شرعی حکم تھا ہی نہیں، اور جب نکاح فسخ نہیں ہوا تو نئے نکاح کی ضرورت پڑے گی ہی نہیں، رہی عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ والی روایت جو آگے آرہی ہے تو وہ ابن عباس ؓ کی اس حدیث کا معارضہ نہیں کرسکتی کیونکہ وہ حجاج بن أرطاۃ کی وجہ سے ضعیف ہے، یہاں یہ واضح رہے کہ زینب ؓ نے ٢ ھ میں یا ٣ ھ کی ابتداء میں ہجرت کی، اور ان کی وفات ٨ ھ کے شروع میں ہوئی ہے، اس طرح ان کی ہجرت اور وفات کے درمیان کل پانچ برس چند ماہ کا وقفہ ہے، لہذا ابوالعاص بن ربیع ؓ کا قبول اسلام اور زینب ؓ کی ان کو واپسی اسی مدت کے دوران عمل میں آئی، اور صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قبول اسلام صلح حدیبیہ سے پہلے کا ہے، رہا یہ مسئلہ کہ زینب کی واپسی کتنے سال بعد ہوئی تو اس سلسلہ میں روایتیں مختلف ہیں، بعض میں دو سال، بعض میں تین سال اور بعض میں چھ سال کا ذکر ہے، لیکن صحیح ترین روایت یہ ہے کہ ان کی واپسی تین سال بعد ہوئی تھی، تین سال مکمل تھے اور کچھ مہینے مزید گزرے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطلاق ٢٤ (٢٢٤٠)، سنن الترمذی/النکاح ٤٢ (١١٤٣)، (تحفة الأشراف: ٦٠٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٧، ٢٦١، ٣٥١) (صحیح )
2010Sunan Ibne-Majah

اگرزوجین میں سے کوئی پہلے اسلام قبول کرلے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی زینب ؓ کو ابوالعاص بن ربیع ؓ کے پاس نئے نکاح پر بھیج دیا۔

It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ ills returned his daughter Zainab to Abul-’As bin Rabi’, with a new marriage contract, (Da’if)

Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح یہی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان دونوں کو پہلے نکاح پر برقرار رکھا، اور دارقطنی نے کہا کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے، اور صواب ابن عباس ؓ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے زینب ؓ کو ابوالعاص کے پاس پہلے نکاح ہی سے لوٹا دیا۔ اور امام ترمذی کتاب العلم میں کہتے ہیں کہ میں نے بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا کہ اس باب میں ابن عباس کی حدیث عمرو بن شعیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: تعجب ہے کہ اس ضعیف حدیث کو اصل بنادیں اور اس سے صحیح حدیث کو رد کردیں اور کہیں کہ وہ اصول کے خلاف ہے۔ ابن عباس ؓ کی حدیث کی طرف صحابہ کی ایک جماعت گئی ہے ومن بعدہم، ابن القیم اعلام الموقعین میں کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اسلام قبول کرنے والے آدمی اور اس کے ساتھ اس کی اسلام نہ لانے والی بیوی کے درمیان جدائی نہ کراتے، بلکہ جب دوسرا اسلام لاتا تو نکاح اپنے حال پر رہتا، جب تک وہ عورت دوسرا نکاح نہ کرلے، اور یہ سنت معلومہ اور مشہورہ ہے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ ابوسفیان نے مرالظہران میں جو خزاعہ کا علاقہ ہے، اسلام قبول کیا، اور وہاں فتح مکہ سے پہلے مسلمان تھے، تو وہ دارالاسلام ٹھہرا، اور ابوسفیان مکہ واپس چلے گئے، اور ان کی بیوی ہندہ جو مسلمان نہیں ہوئی تھی، مکہ میں تھی، اس نے ابوسفیان کی داڑھی پکڑ کر کہا اس بوڑھے گمراہ کو قتل کر دو، پھر اس کے کافی دنوں بعد ہندہ نے اسلام قبول کیا، وہ دارالحرب میں مقیم تھی، اور کافر تھی، جب کہ ابوسفیان مسلمان تھے، اور عدت گزر جانے کے بعد ہندہ مسلمان ہوئی، لیکن دونوں کا نکاح قائم رہا، کیونکہ درحقیقت اس کی عدت نہیں گزری، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگئی، اور اسی طرح حکیم بن حزام کا حال گزرا، صفوان بن امیہ اور عکرمہ بن ابوجہل دونوں کی بیویاں مکہ میں مسلمان ہوئیں اور مکہ دارالاسلام ہوگیا، اور نبی کریم ﷺ کی حکومت وہاں قائم ہوگئی، اور عکرمہ یمن کی طرف بھاگے وہ دارالحرب تھا، اور صفوان بھی دارالحرب چل دیئے، پھر صفوان مکہ میں لوٹے تو وہ دارالاسلام تھا، اور جنگ حنین میں حاضر ہوئے، لیکن اس وقت تک کافر تھے، اس کے بعد مسلمان ہوئے اور ان کی بیوی پہلے ہی نکاح سے ان کے پاس رہیں، کیونکہ درحقیقت ان کی عدت نہیں گزری تھی، اور اہل مغازی نے لکھا ہے کہ ایک انصاری عورت مکہ میں ایک شخص کے پاس تھی، پھر وہ مسلمان ہوگئی اور اس نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، اس کے بعد اس کا شوہر آیا وہ عدت میں تھی، تو اپنے پرانے نکاح ہی پر شوہر سے جا ملی۔ (الروضہ الندیہ)۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٤٢ (١١٤٢)، (تحفة الأشراف: ٨٦٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٠٧) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف اور مدلس راوی ہیں )
2011Sunan Ibne-Majah

دودھ پلانے کی حالت میں جماع کرنا؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيَالِ فَإِذَا فَارِسُ وَالرُّومُ يُغِيلُونَ فَلَا يَقْتُلُونَ أَوْلَادَهُمْ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَسُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: هُوَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ.

جدامہ بنت وہب اسدیہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: میں نے ارادہ کیا کہ بچہ کو دودھ پلانے والی بیوی سے جماع کرنے کو منع کر دوں، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کر رہے ہیں، اور ان کی اولاد نہیں مرتی اور جس وقت آپ ﷺ سے عزل کے متعلق پوچھا گیا تھا، تو میں نے آپ کو فرماتے سنا: وہ تو وأدخفی (خفیہ طور زندہ گاڑ دینا) ہے ١ ؎۔

It was narrated that j u d am a h bint Wahb AIAsadiyyah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ P.U.B.H say: I wanted to forbid intercourse with a nursing mother, but then (I saw that) the Persians and the Romans do this, and it does not kill their children. And I heard him say, when he was asked about coitus interruptus: It is the disguised form of burying children alive. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: زمانہ رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا نام غیل ہے، عربوں کا عقیدہ تھا کہ یہ بچے کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے اس کے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے، اور یہ نقص اس میں پوری زندگی رہتا ہے، جس کے نتیجہ میں بسا اوقات انسان گھوڑے سے نیچے گرپڑتا ہے، اور گھوڑے کی پیٹھ پر ثابت نہیں رہ پاتا، اس حدیث میں عربوں کے اسی عقیدے کا ابطال ہے۔ عزل یہ ہے مرد عورت سے جماع کرے اور جب انزال کے قریب پہنچے تو عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ سے باہر نکال کر انزال کرے۔ وأدخفی کا مطلب یہ ہے کہ یہ حقیقۃً تو قبر میں نہیں دفناتا لیکن اس کے مشابہ ہے کیونکہ اس میں بھی حمل کو روکنے اور ضائع کرنے کی کوشش ہوتی ہے، لیکن چونکہ یہ حقیقی زندہ بچے کو نہیں مارتا اس لیے یہ حقیقی طور پر زندہ گاڑنا نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٢٤ (١٤٤٢)، سنن ابی داود/الطب ١٦ (٣٨٨٢)، سنن الترمذی/الطب ٢٧ (٢٠٧٦، ٢٠٧٧)، سنن النسائی/النکاح ٥٤ (٣٣٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٨٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الرضاع ٣ (١٦)، مسند احمد (/٣٦١، ٤٣٤)، سنن الدارمی/النکاح ٣٣ (٢٢٦٣) (صحیح )
2012Sunan Ibne-Majah

دودھ پلانے کی حالت میں جماع کرنا؟

حدثنا هشام بن عمار حدثنا يحيى بن حمزة عن عمرو بن مهاجر أنه سمع أباه المهاجر بن أبي مسلم يحدث عن أسماء بنت يزيد بن السكن وكانت مولاته أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا تقتلوا أولادكم سرا فوالذي نفسي بيده إن الغيل ليدرك الفارس على ظهر فرسه حتى يصرعه».

اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے غیل سوار کو گھوڑے کی پیٹھ پر سے گرا دیتا ہے ۔

It was narrated from Muhajir bin Abu Muslim, from Asma bint Yazid bin Sakan, who was his freed slave woman, that she heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Do not kill your children secretly. for by the One in Whose Hand is my soul, intercourse with a breastfeeding woman catches up with people when they are riding their horses (in battle) and wrestles them to the ground. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطب ١٦ (٣٨٨١)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٥٣، ٤٥، ٤٥٨) (حسن) (المشکاة و تراجع الألبانی: رقم: ٣٩٧ و صحیح ابن ماجہ: ١٦٤٨ )
2013Sunan Ibne-Majah

جوخاتون اپنے شوہر کو تکلیف پہنچائے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مَعَهَا صَبِيَّانِ لَهَا قَدْ حَمَلَتْ أَحَدَهُمَا وَهِيَ تَقُودُ الْآخَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ رَحِيمَاتٌ لَوْلَا مَا يَأْتِينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ دَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک عورت آئی، اس کے ساتھ دو بچے تھے، ایک کو وہ گود میں اٹھائے ہوئی تھی اور دوسرے کو کھینچ رہی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بچوں کو اٹھانے والی، انہیں جننے والی، اور ان پر شفقت کرنے والی عورتیں اگر اپنے شوہروں کو تکلیف نہ دیتیں تو جو ان میں سے نماز کی پابند ہیں جنت میں جاتیں ۔

It was narrated that Abu Umamah said: "A woman came to the prophet ﷺ with two of her children, carrying one and leading the other. The Messenger of Allah ﷺ said: They carry children and give birth to them and are compassiona teo If they do not annoy their husbands, those among them who perform prayer will enter Paradise. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٦٥، ومصباح الزجاجة: ٧١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٥٢، ٢٥٧، ٢٦٨) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے کیونکہ سالم بن ابی جعد کا سماع أبی امامہ سے ثابت نہیں ہے )
2014Sunan Ibne-Majah

جوخاتون اپنے شوہر کو تکلیف پہنچائے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا، إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ: مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ أَوْشَكَ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو حورعین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اللہ تجھے ہلاک کرے، اسے تکلیف نہ دے، وہ تیرے پاس چند روز کا مہمان ہے، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آجائے گا ١ ؎۔

It was narrated from Mu’âdh bin Jabal that the Messenger of Allah ﷺ said: “No woman annoys her husband but his wife among houris (of Paradise) says: ‘Do not annoy him, may Allah destroy you, for he is just a temporary guest with you and soon he will leave you and join us.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: سچ ہے دنیا کی قرابت اور رشتہ داری سب چند روزہ ہے، حقیقت میں ہماری بیوی وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے جنت میں ہمارے لئے رکھی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الرضاع ١٩ (١١٧٤)، (تحفة الأشراف: ١١٣٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٤٢) (صحیح )
2015Sunan Ibne-Majah

حرام حلال کو حرام نہیں کرتا۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ said: "What is Haram does not make what is Halal into what is Haram." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٣٦، ومصباح الزجاجة: ٧١٥) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: ٣٨٥ - ٣٨٨ )