ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو نہ مارو ، تو عمر ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! عورتیں اپنے شوہروں پہ دلیر ہوگئی ہیں، لہٰذا انہیں مارنے کی اجازت دیجئیے (چنانچہ آپ ﷺ نے اجازت دے دی) تو ان کو مار پڑی، اب بہت ساری عورتیں محمد ﷺ کے گھرانے کا چکر کاٹنے لگیں، جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: آل محمد کے گھر آج رات ستر عورتیں آئیں، ہر عورت اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی، تو تم انہیں (زیادہ مارنے والے مردوں کو) بہتر لوگ نہ پاؤ گے ۔
It was narrated that Iyas bin Abdullah bin Abu Dhubab said: "The Prophet ﷺ said: Do not beat the female slaves of Allah: Then Umar came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, the woman have become bold towards their husbands? So order the beating of them: and they were beaten. Then many women went around to the family of Muhammad ﷺ . The next day he said: Last night seventy women came to the family of Muhammad, each woman complaining about her husband. You will not find that those are the best of you:"(Sahih)
اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات عمر ؓ کا مہمان ہوا، جب آدھی رات ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو مارنے لگے، تو میں ان دونوں کے بیچ حائل ہوگیا، جب وہ اپنے بستر پہ جانے لگے تو مجھ سے کہا: اشعث! وہ بات جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تم اسے یاد کرلو: شوہر اپنی بیوی کو مارے تو قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال نہیں کیا جائے گا، اور وتر پڑھے بغیر نہ سوؤ اور تیسری چیز آپ نے کیا کہی میں بھول گیا۔
It was narrated that Ash ath bin Qais said: "I was a guest (at the home) of Umar one night, and in the middle of the night he went and hit his wife, and I separated them. When he went to bed he said to me: O Ash ath, learn from me something that I heard from the Messenger of Allah ﷺ : "A man should not be asked why he beats his wife, and do not go to sleep until you have prayed the Witr:" And I forgot the third thing." (Hasan) Another chain with similar wording.
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٤٣ (٢١٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٠) (ضعیف) (یہ سند عبدالرحمن مسلمی کی وجہ سے ضعیف ہے، جو اس حدیث کے علاوہ کی دوسری حدیث کی روایت میں غیر معروف ہیں، اور داود بن عبد اللہ اودی روایت میں منفرد ہیں )
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بالوں کو جوڑنے اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet ﷺ cursed the woman who does hair extensions and the one who has that done, and the woman who does tattoos and the one who has that done. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بال جوڑنے سے مراد یہ ہے کہ پرانے بال لے کر اپنے سر کے بالوں میں لگائے، جیسا بعض عورتوں کی عادت ہوتی ہے، اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سر کے بال زیادہ معلوم ہوں، امام نووی کہتے ہیں: ظاہر احادیث سے اس کی حرمت نکلتی ہے، اور بعضوں نے اس کو مکروہ کہا ہے، بعضوں نے شوہر کی اجازت سے جائز رکھا ہے اور گودنا بالاتفاق حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث أبي أسامہ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٨٧٤)، وحدیث عبد اللہ بن نمیر أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٤)، (تحفة الأشراف: ٧٩٥٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس ٨٣ (٥٩٣٧)، ٨٥ (٥٩٤٠)، ٨٧ (٥٩٤٧)، سنن ابی داود/الترجل ٥ (٤١٦٨)، سنن الترمذی/اللباس ٢٥ (١٧٥٩)، الأدب ٣٣ (٢٧٨٤)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ١٧ (٥٢٥٣)، مسند احمد (٢/٢١) (صحیح )
اسماء ؓ کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میری بیٹی دلہن ہے، اور اسے چیچک کا عارضہ ہوا جس سے اس کے بال جھڑ گئے، کیا میں اس کے بال میں جوڑ لگا دوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بالوں کو جوڑنے والی اور جو ڑوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔
It was narrated that Asmâ’ said: “A woman came to the Prophet ﷺ and said: ‘My daughter is going to get married, and she had the measles and her hair has fallen out. Can I put extensions in her hair?’ The Messenger of Allah ﷺ if said: ‘Allah has cursed the one who does hair extensions and the one who has that done.” (Sahih)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں، بال اکھیڑنے والیوں، خوبصورتی کے لیے دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں، اور اللہ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے، قبیلہ بنو اسد کی ام یعقوب نامی ایک عورت کو یہ حدیث پہنچی تو وہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ ایسا ایسا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہے، اور یہ بات تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے، وہ کہنے لگی: میں پورا قرآن پڑھتی ہوں، لیکن اس میں مجھے یہ نہ ملا، عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: اگر تم پڑھتی ہوتی تو ضرور پاتی، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی: وما آتاکم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا رسول تمہیں جو دیں اسے لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے باز آ جاؤ اس عورت نے کہا: ضرور پڑھی ہے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع کیا ہے، وہ عورت بولی: میرا خیال ہے کہ تمہاری بیوی بھی ایسا کرتی ہوگی، عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: جاؤ دیکھو، چناچہ وہ اسے دیکھنے کے لیے گئی تو اس نے کوئی بات اپنے خیال کے مطابق نہیں پائی، تب کہنے لگی: میں نے تمہاری بیوی کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی، عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہی تھیں تو وہ کبھی میرے ساتھ نہ رہتی ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ cursed the woman who does tattoos and the one who has them done, and those who pluck their eyebrows and file their teeth for the purpose of beautification, and those who change the creation of Allah." News of that reached a woman of Banu Asad who was called Umm Yaqub, She came to him and said: “I have heard that you said such and such.” He said: “Why should I not curse those whom Messenger of Allah ﷺ cursed? And it is in the Book of Allah.” She said: “I read what is between ts two covers and I have not found that.” He said: “If you read it properly you would have found it. Have you not read the words: And whatsoever the Messenger (Muhammad) gives you, take it; and whatsoever he forbids you, abstain (from it). She said: “Of course.” He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ forbade that.” She said: ‘I think that your wife does it.’ He said: “Go and look.” So she went and looked nd she did not see what she anted. She said: “I have not seen tything.”‘Abdullah said: “If she as as you say, I would not have ept her with me.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تو وہ کبھی میرے ساتھ نہ رہتی کا مطلب ہے کہ میں اسے طلاق دے دیتا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے شوال میں شادی کی اور شوال ہی میں ملن بھی کیا، پھر کون سی بیوی آپ کے پاس مجھ سے زیادہ نصیب والی تھی، اور عائشہ ؓ اپنے یہاں کی عورتوں کو شوال میں (ان کے شوہروں کے پاس) بھیجنا پسند کرتی تھیں۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Prophet ﷺ of Allah ﷺ married me in Shawwal, and he consummated the marriage with me in Shawwâl, and which of his wives was more favored to him than I.”‘ Aisha (RA) used to like marriage to be consummated with her female relatives in Shawwál. (Sahih)
ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے شوال میں شادی کی اور ان سے شوال ہی میں ملن بھی کیا ١ ؎۔
It was narrated from ‘Abdul-Malik bin Hârith bin Hishâm, from his father that the Prophet ﷺ married Umm Salamah in Shawwál, and consummated the marriage with her in Shawwâl. (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: شوال کا مہینہ عید اور خوشی کا مہینہ ہے، اس وجہ سے اس میں نکاح کرنا بہتر ہے، عہد جاہلیت میں لوگ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے تھے، رسول اکرم ﷺ نے ان کے خیال کو غلط ٹھہرایا اور اس مہینہ میں نکاح کیا، اور دخول بھی اسی مہینے میں کیا، گو ہر ماہ میں نکاح جائز ہے مگر جس مہینہ کو عوام بغیر دلیل شرعی کے عورتوں کی تقلید سے یا کافروں اور فاسقوں کی تقلید سے منحوس سمجھیں اس میں نکاح کرنا چاہیے، تاکہ عوام کے دل سے یہ غلط عقیدہ نکل جائے، شرع کی رو سے شوال، محرم یا صفر کا مہینہ کوئی منحوس نہیں ہے، اس لیے بےکھٹکے ان مہینوں میں نکاح کرنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٨٢، ١٨٢٣٠، ومصباح الزجاجة: ٧٠٦) (صحیح) (متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ سند میں ارسال ہے، عبدالملک بن الحارث+بن+ہشام یہ عبدالملک+بن+ابی+بکر بن الحارث+بن+ہشام المخزومی ہیں جیسا کہ طبقات ابن+سعد میں ہے، ٨ /٩٤-٩٥، اور یہ ثقہ تابعی ہیں، اسی طرح ابوبکر ثقہ تابعی ہیں، اور یہ حدیث ابوبکر کی ہے، نہ کہ ان کے دادا حارث+بن+ہشام کی، اور عبداللہ+بن+ابی+بکر یہ ابن+محمد عمرو+بن+حزم الانصاری ہیں، جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، اور ان سے ابن+اسحاق روایت کرتے ہیں، ابوبکر کی وفات 120 ھ میں ہوئی، اور ان کے شیخ عبدالملک کی وفات 125 ھ میں ہوئی، اس لیے یہ حدیث ابوبکر عبدالرحمٰن بن الحارث+بن+ہشام سے مرسلاً روایت ہے، ان کے دادا حارث+بن+ہشام سے نہیں، اس میں امام مزی وغیرہ کو وہم ہوا ہے، نیز سند میں ابن+اسحاق مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن ابن سعد کی روایت میں تحدیث کی تصریح ہے، اور موطا امام+مالک میں ( ٢ / ٦٥٠) میں ثابت ہے کہ ابوبکر+بن+عبدالرحمٰن نے اس حدیث کو ام+سلمہ رضی+اللہ+عنہا سے لیا ہے، اس لیے یہ حدیث صحیح ہے، اسی وجہ سے شیخ البانی نے تفصیلی تحقیق کے بعد اس حدیث کو الضعیفہ ( ٤٣٥٠ ) سے منتقل کرنے کی بات کہی ہے،، فالحدیث صحیح ینقل الی الکتاب الأخر۔ ١٩٩
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ شوہر کے پاس اس کی بیوی کو بھیج دیں اس سے پہلے کہ شوہر نے اس کو کوئی چیز دی ہو۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ told her to take a woman to her husband before he had given her anything (i.e., bridal-money}. (Da`if)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٦ (٢١٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٦٩) (ضعیف) (سند میں شریک بن عبد اللہ القاضی ضعیف ہیں، اور خیثمہ کا ام المؤمنین عائشہ ؓ سے سماع بھی محل نظر ہے، ملاحظہ ہو: تہذیب التہذیب ٣ / ١٧٩ )
مخمر بن معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: نحوست کوئی چیز نہیں، تین چیزوں میں برکت ہوتی ہے: عورت، گھوڑا اور گھر میں ۔
It was narrated from Hakim bin Mu’wiyah that his paternal uncle Mikhmar bin Mu’âwiyah said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Do not believe in omens, and good fortune is only to be found in three things: A woman, a horse and a house.” (Hasan)
سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ (یعنی نحوست) ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی ۔
It was narrated from Sahl bin Sad that the Messenger of Allah ﷺ said: "If it exists, it is in three things: a horse, and woman and a house," meaning omens. (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٤٧ (٢٨٦٠)، النکاح ١٨ (٥٠٩٥)، صحیح مسلم/السلام ٣٤ (٢٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ٤٧٤٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الإستئذان ٨ (٢١)، مسند احمد (٥/٣٣٥، ٣٣٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہے: گھوڑے، عورت اور گھر میں ١ ؎۔ زہری کہتے ہیں: مجھ سے ابوعبیدہ نے بیان کیا کہ ان کی دادی زینب نے ان سے بیان کیا، اور وہ ام سلمہ ؓ سے روایت کرتی ہیں کہ وہ ان تین چیزوں کو گن کر بتاتی تھیں اور ان کے ساتھ تلوار کا اضافہ کرتی تھیں۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: “Omens are only to be found in ti-tree things: a horse, a woman and a house.” (Sahih) (One of the narrators) AzZuhri said: “Abu ‘Ubaidah bin ‘Abdullâh bin Zam’ ah said that his mother, Zainab, narrated to him, from Umm salamah, that she used to list these three, and add to them “the sword.”
Notes · وضاحت
١ ؎: الشوم فى ثلاث (نحوست کے تین چیزوں میں متحقق ہونے) سے متعلق احادیث کے مقابلہ میں إن کان الشؤم (اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی) کا لفظ کثرت روایت اور معنی کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے، اس لئے کہ اسلام میں کوئی چیز شؤم ونحوست کی نہیں، اس لئے البانی صاحب نے الشؤم فى ثلاثة والی احادیث کو شاذ قرار دیا ہے، اور شرط کے ساتھ وارد متعدد احادیث کو روایت اور معنی کے اعتبار سے صحیح قرار دیا ہے: (ملاحظہ ہو: الصحیحۃ: ٤ /٤٥٠-٤٥١ )
Takhrij · تخریج
حدیث عبد اللہ بن عمر أخرجہ: صحیح مسلم/الطب ٣٤ (٢٢٢٥)، (تحفة الأشراف: ٦٨٦٤)، وحدیث أم سلمةٰ، تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٢٧٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٤٧ (٢٨٥٨)، النکاح ١٧ (٥٠٩٣)، الطب ٤٣ (٥٧٥٣)، سنن ابی داود/الطب ٢٤ (٣٩٢٢)، سنن النسائی/الخیل ٥ (٣٥٩٩)، سنن الترمذی/الادب ٥٨ (٢٨٢٤)، موطا امام مالک/الإستئذان ٨ (٢٢)، مسند احمد (٢/٨، ٣٦، ١١٥، ١٢٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بعض غیرت اللہ کو پسند ہے اور بعض ناپسند، جو غیرت اللہ کو پسند ہے وہ یہ ہے کہ شک و تہمت کے مقام میں غیرت کرے، اور جو غیرت ناپسند ہے وہ غیر تہمت و شک کے مقام میں غیرت کرنا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the essenger of Allah ﷺ said: “There is a kind of protective jealousy that Allah loves and a kind that Allah hates. As for that which Allah loves, it is protective jealousy when there are grounds for suspicion. And as for that which He hates, it is protective jealousy when there are no grounds for suspicion.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وقت ایسا ہے کہ اللہ کی پناہ، بدمعاش لوگ کسی نیک بخت عورت کی نسبت ایک جھوٹی تہمت لگا دیتے ہیں تاکہ اس کا شوہر غیرت میں آ کر کوئی کام کر بیٹھے، اس کا گھر تباہ و برباد ہو، حسد کرنے والوں کو اس میں خوشی ہوتی ہے، یہ وقت بڑے تحمل اور استقلال کا ہے، انسان کو اس میں سوچ سمجھ کر کام کرنا چاہیے، جلدی ہرگز نہ کرنی چاہیے، اور شریعت کے مطابق گواہی لینی چاہیے، اگر ایسے سچے اور نیک گواہوں کی گواہی نہ ملے تو سمجھ لے کہ یہ حاسدوں اور دشمنوں کا فریب ہے، جو اس کا گھر تباہ کرنا چاہتے تھے، اللہ پاک حاسدوں اور دشمنوں کے شر سے بچائے، نبی اکرم ﷺ کو بھی ایذادہی سے نہ چھوڑا، ام المؤمنین عائشہ ؓ پر جھوٹی تہمت باندھی، طوفان اٹھایا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا اور ام المؤمنین عائشہ ؓ کی براءت ان کے سامنے نازل کی جس کی تلاوت قیامت تک کی جاتی رہے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٣٨، ومصباح الزجاجة: ٧٠٩) (صحیح) (اس کی سند میں أبی سھم مجہول ہے لیکن یہ حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: ابوداود: ٢٦٥٩ و نسائی و احمد: ٥ /٤٤٥ - ٤٤٦ و الإرواء: ١٩٩٩ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے جتنی غیرت خدیجہ ؓ پر کی اتنی کسی عورت پر نہیں کی کیونکہ میں دیکھتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے، اور آپ ﷺ کے رب نے آپ کو حکم دیا کہ انہیں جنت میں موتیوں کے ایک مکان کی بشارت دے دیں، یعنی سونے کے مکان کی، یہ تشریح ابن ماجہ نے کی ہے ١ ؎۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “I never felt as jealous of any woman as I did of Khadijah, because I saw how the Messenger of Allah ﷺ remembered her, and his Lord had told him to give her the glad tidings of a house in Paradise made of Qasab.” (Sahih) Meaning of gold; Ibn Mâjah said that.
Notes · وضاحت
١ ؎: نہ اس میں غل ہے نہ شور، جیسے دوسری روایت میں ہے کہ ام المؤمنین خدیجہ ؓ آپ ﷺ کی سب سے پہلی بیوی تھیں، آپ ﷺ کی تمام اولاد سوائے ابراہیم کے انہی کے مبارک بطن سے ہوئی، اور انہوں نے اپنا سارا مال و اسباب آپ ﷺ پر نثار کیا، اور سب سے پہلے آپ ﷺ پر ایمان لائیں، ان کے فضائل بہت ہیں، وہ آپ ﷺ کی ساری بیویوں میں سب سے افضل ہیں، اور سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء ؓ کی والدہ ہیں۔
مسور بن مخرمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پہ فرماتے سنا کہ ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب ؓ سے کردیں تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، سوائے اس کے کہ علی بن ابی طالب ؓ میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہیں، اس لیے کہ وہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، جو بات اس کو بری لگتی ہے وہ مجھ کو بھی بری لگتی ہے، اور جس بات سے اس کو تکلیف ہوتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Mishwar bin Makhramah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ when he was on the pulpit, say: Banu Hisham bin Mughirah asked me for permission to marry their daughter to Ali bin Abu Talib, but I will not give them permission, and I will not give them permission, and I will not give them permission, unless Ali bin Abu Talib wants to divorce my daughter and marry their daughter, for she is a part of me, and what bothers her bothers me, and what upsets her upsets me. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: علی ؓ نے فاطمہ ؓ کے موجود ہوتے ہوئے، ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنی چاہی تو آپ ﷺ نے یہ فرمایا، دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: قسم اللہ کی، رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ نہیں رہ سکتیں یہ سن کر علی ؓ نے یہ شادی نہیں کی، اور فاطمہ ؓ کی زندگی تک کسی اور عورت سے شادی نہیں کی، ان کی وفات کے بعد ابوجہل کی بیٹی سے اور دوسری کئی عورتوں سے شادی کی۔
مسور بن مخرمہ ؓ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب ؓ نے ابوجہل کی بیٹی کو پیغام دیا جب کہ ان کے عقد میں نبی اکرم ﷺ کی صاحب زادی فاطمہ ؓ موجود تھیں، فاطمہ ؓ نے یہ خبر سنی تو نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: آپ کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں آتا، اب علی ؓ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ مسور کہتے ہیں: یہ خبر سن کر نبی اکرم ﷺ (منبر پر) کھڑے ہوئے، جس وقت آپ نے خطبہ پڑھا میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا: امابعد، میں نے اپنی بیٹی زینب کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے کیا، انہوں نے جو بات کہی تھی اس کو سچ کر دکھایا ١ ؎ میری بیٹی فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، اور مجھے ناپسند ہے کہ تم لوگ اسے فتنے میں ڈالو، قسم اللہ کی، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی دونوں ایک شخص کے نکاح میں کبھی اکٹھی نہ ہوں گی، یہ سن کر علی ؓ شادی کے پیغام سے باز آگئے ٢ ؎۔
Ali bin Husain said that Miswar bin Makhramah told him that Ali bin Abu Talib proposed to the daughter of Abu Jahl, when he was married to Fatimah the daughter of the Prophet ﷺ . When Fatimah heard of that she went to the Prophet ﷺ and said: "Your people are saying that you do not feel angry for your daughters. This Ali is going to marry the daughter of Abu Jahl." Miswar said: "The Prophet ﷺ stood up, and I heard him when he bore witness (i.e., said the Shahadah), then he said: I married my daughter (Zainab) to Abul-As bin Rabi, and he spoke to me and was speaking the truth. Fatimah bint Muhammad is a part of me, and I hate to see her faced with troubles. By Allah, the daughter of the Messenger of Allah ﷺ and the daughter of the enemy of Allah will never be joined together in marriags to one man."…. He said: So, Ali abandoned the marriage proposal. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: کفر کے باوجود انہوں نے زینب ؓ کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا پھر بھیج دیا۔ ٢ ؎: یعنی علی ؓ نے یہ شادی نہیں کی، اور شادی کیوں کرتے آپ تو نبی اکرم ﷺ کے جاں نثار اور آپ کی مرضی کے تابع تھے، اس واقعہ کی وجہ سے علی ؓ پر کوئی طعن نہیں ہوسکتا جیسے خوارج کیا کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے لاعلمی میں یہ خیال کر کے کہ ہر مرد کو چار شادی کا حق ہے، یہ پیغام دیا تھا، جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ یہ رسول اکرم ﷺ کی مرضی کے خلاف ہے تو فوراً اس سے رک گئے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی تھیں کیا عورت اس بات سے نہیں شرماتی کہ وہ اپنے آپ کو نبی اکرم ﷺ کے لیے ہبہ کر دے؟! تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء جس کو تو چاہے اپنی عورتوں میں سے اپنے سے جدا کر دے اور جس کو چاہے اپنے پاس رکھے (سورة الأحزاب: 51) تب میں نے کہا: آپ کا رب آپ کی خواہش پر حکم نازل کرنے میں جلدی کرتا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Hisham bin,Urwah, from his father that Aisha (RA) used to say: Wouldnt a woman feel too shy to offer herself to the Prophet ﷺ ?" Until Allah revealed: "You ( O Muhammad ﷺ ) can postpone (the turn of) whom you will of them (your wives), and you may receive whom you Will., She said: "Then I said: Your Lord is quick to make things easy for you. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ام المؤمنین عائشہ ؓ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ عورتیں شرم کریں، اور اپنے آپ کو رسول اکرم ﷺ کو ہبہ نہ کریں اس لئے کہ آپ ﷺ کی بیویاں بہت ہوجائیں گی تو باری ہر ایک کی دیر میں آئے گی، اب اختلاف ہے کہ جس عورت نے اپنے آپ کو آپ ﷺ پر ہبہ کردیا تھا، اس کا نام کیا تھا، بعض کہتے ہیں میمونہ، بعض ام شریک، بعض زینب بنت خزیمہ، بعض خولہ بنت حکیم ؓن واللہ اعلم
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الأحزاب (٤٧٨٨)، النکاح ٢٩ (٥١١٣) تعلیقاً، صحیح مسلم/الرضاع ١٤ (١٤٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٠٤٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح ٦٩ (٣٣٦١)، مسند احمد (٦/١٥٨) (صحیح )
ثابت کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک ؓ کے ساتھ بیٹھے تھے، ان کے پاس ان کی ایک بیٹی تھی، انس ؓ نے کہا: ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور خود کو آپ پر پیش کیا اور بولی: کیا آپ کو میری حاجت ہے؟ یہ سن کر انس ؓ کی بیٹی بولی: اس کو کتنی کم حیاء ہے! اس پر انس ؓ نے کہا: وہ تجھ سے بہتر ہے، اس نے رسول اللہ ﷺ میں رغبت کی، اس لیے خود کو آپ پر پیش کیا۔
Thabit said: "We were sitting with Anas bin Malik (RA), and a daughter of his was with him. Anas said: A woman came to the Prophet ﷺ and offered herself to him. She said: "O Messenger of Allah, do YOU have any need of me? His daughter said: How little modesty she had He said: She was better than you, because she wanted (to marry) the Messenger of Allah ﷺ , and she offered herself to him. (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا بچہ جنا ہے! تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے رنگ کیا ہیں ؟ اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے ؟ اس نے کہا: ہاں، ان میں خاکی رنگ کے بھی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ان میں خاکی رنگ کہاں سے آیا ؟ اس نے کہا: کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہاں بھی (تیرے لڑکے میں) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہوگا ١ ؎۔ یہ الفاظ محمد بن صباح کے ہیں۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A man from Banu Fazarah came to the Messenger of Allah ﷺ and said: O Messenger of Allah, my wife has given birth to a black boy. The Messenger of Allah ﷺ said: Do you have camels? He said, {es. Be said: What color are they? Be said Red. He said . Are th grey ones am ere any Yes, there aroengthem? He said: some among them. He grey ones does that come from? He said: Where Perhaps it is hereditary?. He said: Likewise , perhaps this is hereditary." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ اونٹوں کی قدیم نسل میں کوئی دوسرے رنگ کا ہوگا، پھر یہی رنگ کئی پشت کے بعد ان کی نئی نسل میں ظاہر ہوا، اب موجودہ اونٹ جو پرانی نسل کے ہیں وہ خالص سرخ تھے، چت کبرے نہ تھے، پس اسی طرح ہوسکتا ہے کہ انسان کی اولاد میں بھی ماں باپ کے خلاف دوسرا رنگ ظاہر ہو، اور اس کی وجہ یہ ہو کہ ماں باپ کے دادا پردادا میں کوئی کالا بھی ہو اور وہ رنگ اب ظاہر ہوا ہو، حاصل یہ ہے کہ بچے کے گورے یا کالے رنگ یا نقشے کے اختلاف کی وجہ سے یہ شبہ نہ کرنا چاہیے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک بدوی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا لڑکا جنا ہے، اور ہم ایک ایسے گھرانے کے ہیں جس میں کبھی کوئی کالا نہیں ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے پوچھا: ان کے رنگ کیا ہیں ؟ اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ان میں کوئی سیاہ بھی ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا ہے ؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ رنگ کہاں سے آیا ؟ اس نے کہا: ہوسکتا ہے کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر شاید تمہارے اس بچے کا بھی یہی حال ہو کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that a man from the desert people came to the Prophet ﷺ I and said: “O Messenger of Allah, my wife has given birth on my bed to a black boy, and there are no black people among my family.” He said: “Do you have camels?” He said: “Yes.” He said: “What color are they?” He said: “Red.” He said: “Are there any black ones among them?” He said, “No.” He said: “Are there any grey ones among them?” He said: “Yes.” He said: “How is that?” He said: “Perhaps it is hereditary.” He said: “Perhaps (the color oO this son of yours is also hereditary.” (Hasan)