نکاح کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 11 · 172 hadiths · Page 7 of 9

1964Sunan Ibne-Majah

محرم شادی کرسکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو فَزَارَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ، قَالَ: وَكَانَتْ خَالَتِي وَخَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ.

ام المؤمنین میمونہ بنت حارث ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی، اور آپ اس وقت حلال تھے۔ یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میمونہ ؓ میری بھی خالہ تھیں، اور ابن عباس ؓ کی بھی۔

Maimunah bint Harith narrated that the Messenger of Allah ﷺ married her when he was HaW (not in lhram). (sahih) He (one of the narrators- Yazid) said: "And she was my maternal aunt and the maternal aunt of Ibn Abbas (RA) also."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤١١)، سنن ابی داود/المناسک ٣٩ (١٨٤٣)، سنن الترمذی/الحج ٢٤ (١٨٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٣، ٣٣٥)، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٥) (صحیح )
1965Sunan Ibne-Majah

محرم شادی کرسکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ وَهُوَ مُحْرِمٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے (میمونہ ؓ سے) حالت احرام میں نکاح کیا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Prophet ﷺ got married while he was a Muhrim (in lhram). (sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث میمونہ بنت حارث ؓ کی سابقہ حدیث کی معارض ہے، اس میں ابن عباس ؓ کو وہم ہوا ہے کیونکہ یہ اکثر صحابہ کرام ؓ کی روایت کی مخالف ہے، فرد واحد کی طرف وہم کی نسبت جماعت کی طرف وہم کی نسبت سے زیادہ قریب ہے، خود صاحب قصہ ام المومنین میمونہ ؓ کا اور ان کے وکیل ابورافع ؓ جو ان کے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان سفارت کے فرائض انجام دے رہے تھے کا بیان اس کے خلاف ہے، ابن عباس ؓ کے قول: وهو محرم کی ایک تاویل یہ بھی کی جاتی ہے کہ ابن عباس ؓ کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت نبی اکرم ﷺ حدود حرم میں تھے، اور اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ نبی اکرم ﷺ نے احرام کی حالت میں ام المومنین میمونہ ؓ سے نکاح کیا، تو پھر اسے آپ کی خصوصیت پر محمول کیا جائے گا، عثمان ؓ کی آگے آنے والی حدیث میں ایک کلی قانون کا بیان ہے، اور ابن عباس ؓ سے منقول حدیث میں نبی اکرم ﷺ کے فعل کی حکایت ہے جس میں بہت سارے احتمالات موجود ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٢ (١٨٣٧)، المغازي ٤٣ (٤٢٥٨)، النکاح ٣٠ (٥١١٤)، صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤١٠)، سنن ابی داود/الحج ٣٩ (١٨٤٤)، سنن الترمذی/الحج ٢٤ (٨٤٣)، سنن النسائی/الحج ٩٠ (٢٨٤٣)، النکاح ٣٧ (٣٢٧٣)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢، ٢٤٥، ٢٦٦، ٢٧٠، ٢٨٣، ٢٨٥، ٢٨٦، ٣٢٤، ٣٣٠، ٣٣٣، ٣٣٦، ٣٤٦، ٣٥١، ٣٥٤، ٣٦٠، ٣٦١)، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٣) (صحیح) (لیکن یہ شاذ ہے، اس لیے کہ اوپر کی میمونہ رضی+اللہ+عنہا کی حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ یہ شادی احرام سے باہر حلت کے ایام میں ہوئی تھی، اور یہ صاحب معاملہ کا بیان ہے، تو ان کی بات زیادہ لائق اعتماد ہے، اور ابن+عباس رضی+اللہ+عنہما نے اپنے علم کی بناء پر ایسا کہا تھا، جو خلاف واقعہ بات ہے )
1966Sunan Ibne-Majah

محرم شادی کرسکتا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْه بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ وَلَا يَخْطُبُ.

عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: محرم نہ تو اپنا نکاح کرے، اور نہ دوسرے کا نکاح کرائے، اور نہ ہی شادی کا پیغام دے ۔

It was narrated from Aban bin Uthman bin Affan that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The one in Ihram should not get married, nor arrange a marriage for anyone else, nor propose marriage," (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤٠٩)، سنن ابی داود/الحج ٣٩ (١٨٤١، ١٨٤٢)، سنن الترمذی/الحج ٢٣ (٨٤٠)، سنن النسائی/الحج ٩١ (٢٨٤٥)، النکاح ٣٨ (٣٢٧٧)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٢٢ (٧٠)، حم ١/٥٧، ٦٤، ٦٩، ٧٣، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٤)، النکاح ١٧ (٢٢٤٤) (صحیح )
1967Sunan Ibne-Majah

نکاح میں ہمسر اور برابر کے لوگ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابُورَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْصَارِيُّ أَخُو فُلَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْابْنِ وَثِيمَةَ النَّصْرِيّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ، فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کا پیغام آئے جس کے دین اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے شادی کر دو، اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بڑی خرابی ہوگی ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If there comes to you one with whose character and religious commitment you are pleased, then marry (your daughter or female relative under your care) to him, for if you do not do that there will be Fitnah in the land and widespread corruption.” (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفو کا اعتبار صرف دین اور اخلاق میں کیا جائے گا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ چار چیزوں (دین، نسب آزادی اور پیشہ و صنعت میں) معتبر ہے، لیکن پہلا قول راجح ہے، اور اس کے قابل ترجیح ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٣ (١٠٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٨٥) (حسن) (سند میں عبد الحمید ضعیف راوی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٨٦٨ ، لیکن متابعت کی وجہ سے حسن ہے )
1968Sunan Ibne-Majah

نکاح میں ہمسر اور برابر کے لوگ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَخَيَّرُوا لِنُطَفِكُمْ، وَانْكِحُوا الْأَكْفَاءَ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے نطفوں کے لیے نیک عورت کا انتخاب کرو، اور اپنے برابر والوں سے نکاح کرو، اور انہیں کو اپنی بیٹیوں کے نکاح کا پیغام دو ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Choose the best for your sperm, and marry compatible women and propose marriage to them." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اکفاء کفو کی جمع ہے، کاف کے ضمہ اور خاء کے سکون کے ساتھ اس کے معنی مثل، نظیر اور ہمسر کے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٧٨٤، ومصباح الزجاجة: ٦٩٦) (حسن) (سند میں الحارث الجعفری ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: ١٠٦٧ )
1969Sunan Ibne-Majah

بیویوں کی باری مقرر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ مَعَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل رہے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک دھڑ گرا ہوا ہوگا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever has two wives and favors one of them over the other, he will come on the Day of Resurrection with one of his sides leaning." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٩ (٢١٣٣)، سنن الترمذی/النکاح ٤١ (١١٤١)، سنن النسائی/عشرةالنساء ٢ (٣٣٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٢١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٧، ٤٧١)، سنن الدارمی/النکاح ٢٤ (٢٢٥٢) (صحیح )
1970Sunan Ibne-Majah

بیویوں کی باری مقرر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that whenever the Messenger of Allah ﷺ was to travel, he would cast lots among his wives. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جس عورت کا نام قرعہ میں نکلتا اس کو سفر میں اپنے ساتھ لے جاتے، باقی عورتوں کو مدینہ میں چھوڑ جاتے اور یہ آپ ﷺ کا کمال انصاف تھا، ورنہ علماء نے کہا ہے کہ آپ ﷺ پر بیویوں کے درمیان تقسیم ایام واجب نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دے دیا تھا کہ جس عورت کے پاس چاہیں رہیں: تُرْجِي مَن تَشَاء مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاء (سورة الأحزاب: 51) ان میں سے جسے چاہیں دور رکھیں اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٦٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الھبة ١٥ (٢٥٩٣)، النکاح ٩٧ (٥٠٩٢)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٥)، سنن ابی داود/النکاح ٣٩ (٢١٣٨)، مسند احمد (٦/١١٧، ١٥١، ١٩٧، ٢٦٩)، سنن الدارمی/الجہاد ٣١ (٢٤٦٧) (صحیح )
1971Sunan Ibne-Majah

بیویوں کی باری مقرر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَيَعْدِلُ ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان باری مقرر کرتے، اور باری میں انصاف کرتے، پھر فرماتے تھے: اے اللہ! یہ میرا کام ہے جس کا میں مالک ہوں، لہٰذا تو مجھے اس معاملہ (محبت کے معاملہ) میں ملامت نہ کر جس کا تو مالک ہے، اور میں مالک نہیں ہوں ١ ؎۔

It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to divide his time equally among his wives, then he would O Allah, this is what I am doing with regard to that which is within my control, so do not hold me accountable for that which is under Your control and is beyond my control" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ کے اسوہ کے مطابق مرد کا اختیار جہاں تک ہے، وہاں تک بیویوں کے درمیان عدل کرے، ہر ایک عورت کے پاس باری باری رہنا یہ اختیاری معاملہ ہے جو ہوسکتا ہے، لیکن دل کی محبت اور جماع کی خواہش یہ اختیاری نہیں ہے، کسی عورت سے رغبت ہوتی ہے، کسی سے نہیں ہوتی، تو اس میں برابری کرنا یہ مرد سے نہیں ہوسکتا، بس اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے گا، الروضہ الندیہ میں ہے کہ عورت کو اختیار ہے کہ اپنی باری کسی دوسری عورت کو ہبہ کر دے جیسے اس کا ذکر آگے آتا ہے، یا اپنی باری شوہر کو معاف کر دے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٩ (٢١٣٤)، سنن الترمذی/النکاح ٤١ (١١٤٠)، سنن النسائی/عشرة النکاح ٢ (٣٣٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤٤)، سنن الدارمی/النکاح ٢٥ (٢٢٥٣) (ضعیف) (لیکن رسول اکرم ﷺ کا بیویوں کے درمیان ایام کی تقسیم ثابت ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٣٤٦ )
1972Sunan Ibne-Majah

بیوی اپنی باری سوکن کو دے سکتی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍجَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا كَبِرَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ بِيَوْمِ سَوْدَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ ؓ بوڑھی ہوگئیں، تو انہوں نے اپنی باری کا دن عائشہ ؓ کو ہبہ کردیا، چناچہ رسول اللہ ﷺ سودہ ؓ کی باری والے دن عائشہ ؓ کے پاس رہتے تھے۔

Urwah narrated from Aisha (RA) that when Saudah bint Zam ah grew old, she gave her day to Aisha (RA) , and the Messenger of Allah ﷺ went to Aisha (RA) on Saudahs day. (Sahih)

Takhrij · تخریج
حدیث أبي بکر أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٤٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٧١٠١)، وحدیث محمد بن الصبَّاح تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٠٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الھبة ١٥ (٢٥٩٣)، النکاح ٩٩ (٥٢١٢)، سنن ابی داود/النکاح ٣٩ (٢١٣٥)، مسند احمد (٦/ ١٠٧) (صحیح )
1973Sunan Ibne-Majah

بیوی اپنی باری سوکن کو دے سکتی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْسُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: يَا عَائِشَةُ، هَلْ لَكِ أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي وَلَكِ يَوْمِي؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ، فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ، ثُمَّ قَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ إِلَيْكِ عَنِّي إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ، فَقَالَتْ: ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ، فَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صفیہ بنت حیی ؓ پر کسی وجہ سے ناراض ہوگئے، تو صفیہ ؓ نے کہا: عائشہ! کیا تم رسول اللہ ﷺ کو مجھ سے راضی کرسکتی ہو، اور میں اپنی باری تم کو ہبہ کر دوں گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، چناچہ انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا، اور اس پہ پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو پھوٹے، پھر رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں بیٹھیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عائشہ مجھ سے دور ہوجاؤ، آج تمہاری باری نہیں ہے ، تو انہوں نے کہا: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور پورا قصہ بتایا تو نبی اکرم ﷺ صفیہ ؓ سے راضی ہوگئے۔

It was narrated from " Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ became angry with Safiyyah bint Huyai for something, and Safiyyah said: "O "Aish ah, can you make the Messenger of Allah ﷺ be pleased with me, and I will give you my day?" She said: "Yes." So she took a headeaver of hers that was dyed with saffron, and sprinkled it with water so that its fragrance would become stronger, then she sat beside the Messenger of Allah ﷺ . The Prophet ﷺ said: "O Aisha (RA) , go away, because it is not your day." She said: "That is the Grace of Allah which He bestows on whom He pleases." Then she told him about that matter and he was pleased with her. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤٤، ومصباح الزجاجة: ٦٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٥، ١٤٥) (ضعیف) (سند میں سمیہ بصریہ غیر معروف ہے )
1974Sunan Ibne-Majah

بیوی اپنی باری سوکن کو دے سکتی ہے۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَمْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ سورة النساء آية 128 فِي رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ قَدْ طَالَتْ صُحْبَتُهَا، وَوَلَدَتْ مِنْهُ أَوْلَادًا، فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَبْدِلَ بِهَا، فَرَاضَتْهُ عَلَى أَنْ تُقِيمَ عِنْدَهُ وَلَا يَقْسِمَ لَهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ یہ آیت: والصلح خير اس شخص کے بارے میں اتری جس کی ایک بیوی تھی اور مدت سے اس کے ساتھ رہی تھی، اس سے کئی بچے ہوئے، اب مرد نے ارادہ کیا کہ اس کے بدلے دوسری عورت سے نکاح کرے (اور اسے طلاق دیدے) چناچہ اس عورت نے مرد کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ اس کے پاس رہے گی، اور وہ اس کے لیے باری نہیں رکھے گا۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "This Verse And making peace is better. was revealed concerning a man who had been married to a woman for a. long time, and she had given birth to his children and he wanted to exchange her (for a new wife). She agreed that he would stay with her (the new wife) and would not give her (the first wife) a share of his time. (i.e., not spend the nights with her).” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧١٢٨) (حسن) (سند میں اختلاف ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے )
1975Sunan Ibne-Majah

نکاح کرانے کے لئے سفارش کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَفْضَلِ الشَّفَاعَةِ، أَنْ يُشَفَّعَ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ فِي النِّكَاحِ.

ابورہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر سفارش یہ ہے کہ مرد اور عورت کے نکاح کی سفارش کی جائے ۔

It was narrated that Abu Ruhm said: "The Messenger of Allah ﷺ said: One of the best kinds of intercession is interceding between two people concerning marriage," (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٣٨، ومصباح الزجاجة: ٦٩٩) (ضعیف) (ابو رہم سمعی مخضرم اور ثقہ ہیں، اس لئے ارسال کی وجہ سے یہ ضعیف ہے )
1976Sunan Ibne-Majah

نکاح کرانے کے لئے سفارش کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: عَثَرَ أُسَامَةُ بِعَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمِيطِي عَنْهُ الْأَذَى فَتَقَذَّرْتُهُ، فَجَعَلَ يَمُصُّ عَنْهُ الدَّمَ وَيَمُجُّهُ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهُ، وَكَسَوْتُهُ حَتَّى أُنَفِّقَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اسامہ ؓ دروازہ کی چوکھٹ پر گرپڑے، جس سے ان کے چہرے پہ زخم ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ان سے خون صاف کرو ، میں نے اسے ناپسند کیا تو آپ ﷺ ان کے زخم سے خون نچوڑنے اور ان کے منہ سے صاف کرنے لگے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے زیورات اور کپڑوں سے اس طرح سنوارتا کہ اس کا چرچا ہونے لگتا ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "Usaman stumbled at the threshold of the door and cut his face, The Messenger of Allah ﷺ said: Remove the harm (the blood) from him: but I was repulsed by that. He started to suck the blood and remove it from his face, then he said: If Usamah were a girl, I would have adorned him and dressed him until I married him off. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو زیور اور لباس سے آراستہ کرنا جائز ہے بلکہ نکاح کے وقت مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٩٦، ومصباح الزجاجة: ٧٠٠)، وقد أخرجہ: ٦/١٣٩، ٢٢٢) (صحیح )
1977Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَمِّهِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "The best of you is the one who is best to his wife, and I am the best of you to my wives," (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عمدہ سلوک اور اخلاق کے ساتھ اگرچہ تمام لوگوں سے معاشرت عمدہ طور سے لازم ہے، تاکہ سب خاص و عام اپنے سے خوش رہیں، اور مرتے وقت تعریف کریں، اور دعا دیں لیکن سب لوگوں سے زیادہ حق اپنی بیوی اور بال بچوں کا ہے، اس کے بعد دوسرے عزیزوں اور ناتے والوں کا، اس کے بعد دوستوں کا اس کے بعد اور لوگوں کا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٩٣٧، ومصباح الزجاجة: ٧٠١) (صحیح) (سند میں عمارہ بن ثوبان مستور ہے، لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے )
1978Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہوں ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best of you are those who are best to their womenfolk," (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٣٤، ومصباح الزجاجة: ٧٠٢) (صحیح) (سند میں اعمش مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے )
1979Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ ﷺ سے آگے نکل گئی ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Prophet ﷺ raced with me and I beat him," (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ جب میرا بدن بھاری ہوگیا تو آپ ﷺ دوڑ میں مجھ سے آگے نکل گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! یہ پہلی دوڑ کا بدلہ ہے اس حدیث کے یہاں لانے کا مقصد یہ ہے کہ شوہر کی حسن معاشرت اپنی بیویوں کے ساتھ معلوم ہو باوجود یہ کہ نبی اکرم ﷺ کا سن مبارک زیادہ تھا، اور عائشہ ؓ کم سن تھیں، لیکن آپ ﷺ ان کو خوش کرنے کے لئے ان کے ساتھ ایسا کرتے اور دوڑنا مباح ہے کچھ برا کھیل نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٩٢٧)، سنن ابی داود/الجہاد ٦٨ (٢٥٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٨٢) (صحیح )
1980Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُوَ عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ جِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ، فَأَخْبَرْنَ عَنْهَا، قَالَتْ: فَتَنَكَّرْتُ وَتَنَقَّبْتُ، فَذَهَبْتُ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَيْنِي فَعَرَفَنِي، قَالَتْ: فَالْتَفَتَ، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ فَأَدْرَكَنِي فَاحْتَضَنَنِي، فَقَالَ: كَيْفَ رَأَيْتِ؟، قَالَتْ: قُلْتُ: أَرْسِلْ يَهُودِيَّةٌ وَسْطَ يَهُودِيَّاتٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ (خیبر سے واپس) مدینہ آئے، اور صفیہ بنت حیی ؓ کے آپ دولہا ہوئے، تو انصار کی عورتیں آئیں، اور انہوں نے صفیہ ؓ کا حال بیان کیا، عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اپنی صورت بدلی، منہ پر نقاب ڈالا، اور صفیہ ؓ کو دیکھنے چلی، رسول اللہ ﷺ نے میری آنکھ دیکھ کر مجھے پہچان لیا، آپ ﷺ دوسری طرف متوجہ ہوئے تو میں اور تیزی سے چلی، لیکن آپ نے مجھ کو پکڑ کر گود میں اٹھا لیا، اور پوچھا: تو نے کیسا دیکھا ؟ میں نے کہا: بس چھوڑ دیجئیے، یہودی عورتوں میں سے ایک یہودی عورت ہے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ came to Al-Madinah, he had just married safiyyah bint Huyai, and the women of the Ansar came and told us about that. My expression changed and I covered my face and went away. The Messenger of Allah ﷺ looked at my eyes and recognized me. I turned away and walked quickly, but he caught up with me and put his arm around me and said: What did you see? I said: Let me go, (I saw) a Jewish woman among other Jewish women. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٢٢، ومصباح الزجاجة: ٧٠٣) (ضعیف) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہے )
1981Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى، ثُمّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَسْبُكَ إِذَا قَلَبَتْ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيْعَتَيْهَا، ثُمَّ أَقَبَلَتْ عَلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا، حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دُونَكِ فَانْتَصِرِي، فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا وَقَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فِيهَا مَا تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ.

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: مجھے معلوم ہونے سے پہلے زینب بنت جحش ؓ میرے گھر میں بغیر اجازت کے آگئیں، وہ غصہ میں تھیں، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! کیا آپ کے لیے بس یہی کافی ہے کہ ابوبکر کی بیٹی اپنی آغوش آپ کے لیے وا کر دے؟ اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئیں، میں نے ان سے منہ موڑ لیا، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تو بھی اس کی خبر لے اور اس پر اپنی برتری دکھا تو میں ان کی طرف پلٹی، اور میں نے ان کا جواب دیا، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ان کا تھوک ان کے منہ میں سوکھ گیا، اور مجھے کوئی جواب نہ دے سکیں، پھر میں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کا چہرہ کھل اٹھا تھا ١ ؎۔

Urwah bin Zubair narrated that Aisha (RA) said: I did not know until Zainab burst in on me without permission, and she was angry. Then she said: O Messenger of Allah, is it enough for you that the young daughter of Abu Bakr (RA) waves her hands in front of you? Then she turned to me, but I ignored her until the Prophet ﷺ said: You should say something to defend yourself: so I turned on her, (and replied to her) until I saw that her mouth had become dry, and she did not say anything back to me. And I saw the Prophet ﷺ with his face shining.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: زینب بنت جحش ؓ خاندان قریش کی حسین و جمیل اور صاحب حسب و نسب خاتون تھیں، اور رسول اکرم ﷺ کی بیویوں میں انہی کو عائشہ ؓ کی برابری کا دعوی تھا، وہ کہتی تھیں: میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا اور تمہارا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا، وہ غصہ میں اس وجہ سے تھیں کہ ام المومنین عائشہ ؓ کی طرف آپ ﷺ کی توجہ زیادہ تھی، اور وہ آپ سے شکایت کر رہی تھیں، ام المومنین عائشہ ؓ کو انہوں نے حقارتاً بُنَيَّةُ (جو تصغیر ہے بنت کی) کہا یعنی چھوٹی لڑکی، چھوکری، آپ تو عائشہ کے شیدائی اور ان پر فریفتہ ہیں، دوسری بیویوں کی آپ کو فکر ہی نہیں ہے، نہ کسی کا آپ کو خیال ہے، ام المومنین عائشہ ؓ نے اپنی قمیص الٹی اور بانہہ کھولی، ام المومنین عائشہ ؓ کا جواب دینا اور ام المومنین زینب ؓ کا ہار جانا جو ناحق شکایت کرتی تھیں، اس سے آپ کو خوشی ہوئی اور اس کے نتیجے میں آپ کا چہرہ کھل اٹھا، دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے زینب ؓ سے فرمایا: تم نہیں جانتی ہو یہ ابوبکر کی بیٹی ہے۔ سوکنوں کی یہ وقتی غیرت والی لڑائی عائلی زندگی کا ایک خوش کن لازمہ ہے، اس میں شوہر کی عقلمندی اور اس کے حلم و صبر کا امتحان بھی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٣٦٢، ومصباح الزجاجة: ٧٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٩٣) (صحیح )
1982Sunan Ibne-Majah

بیویوں کے ساتھ اچھا برتا کرنا

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ، وَأَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُسَرِّبُ إِلَيَّ صَوَاحِبَاتِي يُلَاعِبْنَنِي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی، تو آپ میری سہیلیوں کو میرے پاس کھیلنے کے لیے بھیج دیا کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: I used to play with dolls when I was with the Messenger of Allah ﷺ , and he used to bring my friends to me to play with me." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: گڑیاں کپڑے کی مورتیں جو بچیاں بناتی ہیں ان کی شادی کرتی ہیں یہ بچوں کا کھیل ہے، اور ان میں پوری مورت نہیں ہوتی اس لئے تصویر کا حکم نہیں دیا گیا، اور لڑکیوں کو اس کا کھیل جائز رکھا گیا، ام المومنین عائشہ ؓ کم سن تھیں، یہ آپ ﷺ کا کمال اخلاق تھا کہ بچوں پر شفقت کرتے اور کھیل کود سے ان کو منع نہ کرتے، نہ زیادہ غصہ ہوتے، اس باب کی تمام حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ عمدہ سلوک کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ١٧١٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ٨١ (٦١٣٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٠)، سنن ابی داود/الأدب ٦٢ (٤٩٣١) (صحیح) (سند میں عمر بن حبیب ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے )
1983Sunan Ibne-Majah

بیویوں کو مارنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ، فَوَعَظَهُمْ فِيهِنَّ، ثُمَّ قَالَ: إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْأَمَةِ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ.

عبداللہ بن زمعہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا، پھر عورتوں کا ذکر کیا، اور مردوں کو ان کے سلسلے میں نصیحت فرمائی، پھر فرمایا: کوئی شخص اپنی عورت کو لونڈی کی طرح کب تک مارے گا؟ ہوسکتا ہے اسی دن شام میں اسے اپنی بیوی سے صحبت کرے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Zam’ah said: “The Prophet ﷺ delivered a sermon then he made mention of women, and exhorted (the men) concerning them. Then he said: How long will one of you whip his wife like a slave, then lie with her at the end of the day? (sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: تو پہلے ایسی سخت مار پھر اس کے بعد اتنا پیار بالکل نامناسب ہوگا، اور دل شرمائے گا، مناسب یہ ہے کہ امکانی حد تک عورت پر ہاتھ ہی نہ اٹھائے، اگر ایسا ہی سخت قصور کرے تو زبان سے خفا ہو، بستر الگ کر دے، اگر اس پر بھی نہ مانے تو ہلکی مار مارے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الشمس (٤٩٤٢)، النکاح ٩٣ (٥٢٠٤)، صحیح مسلم/صفة الجنة ونعیمہا ٣ (٢٨٥٥)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٧٩ (٣٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٧)، سنن الدارمی/النکاح ٣٤ (٢٢٦٦) (صحیح )